ایران کے ساتھ سمجھوتہ جوہری دور کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی: یو ایس اے ٹو ڈے کی رپورٹ

ایران کے ساتھ سمجھوتہ جوہری دور کی سب سے بڑی سیاسی  کامیابی: یو ایس اے ٹو ڈے کی رپورٹ

ایک امریکی روز نامے نے ایران کے ساتھ سمجھوتے کو جوہری دور کا سب سے بڑا سیاسی محصول اور تاریخی کامیابی قرار دیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی روز نامے یو ایس اے ٹو ڈے نے  ایک رپورٹ میں اس طرف شارہ کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ ایک سیاسی عمل کے حق میں ووٹ تھا ،اور اس سمجھوتے کو اس نے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا اور لکھا کہ یہ سیاست تھی کہ جس نے امریکہ اور ایران  کوجو سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے لیے تیار تھے بچا لیا ہے اور جوہری دور کے ایک اہم ترین محصول تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی پائی ہے ۔

اس روز نامے نے لکھا ہے کہ اس وقت امریکی کانگریس کے ایک ایک رکن کے پاس موقعہ ہے کہ اس اقدام کے صحیح ہونے کی تصدیق کریں اور اس سمجھوتے کی حمایت کریں ؛ اس سال ستمبر میں سینیٹ اور کانگریس کے نمایندے اس سمجھوتے کے سلسلے میں ووٹ ڈالیں گے اور قانو ن سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اطمئنان حاصل کریں  کہ یہ  آشکارا سیاسی سمجھوتہ امریکی ،ایرانی اور دوسری کسی بھی جگہ کی انتہا پسندی سے کہ جو کوشش میں ہیں کہ اس سمجھوتے کے دستخط کی سیاہی سوکھنے سے پہلے اس پر عمل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں ،دور ہے ۔

یو ایس اے ٹوڈے نے ایران کے جوہری سمجھوتے کے بارے میں ووٹینگ کو اس دہائی کی جنگ و صلح  کے بارے میں کی گئی سب سے منفرد اور بڑی ووٹینگ بتایا اور لکھا کہ امریکی کانگریس کے عراق پر حملے کا فیصلہ کرنے سے لے کر اب تک ایران کے ساتھ سمجھوتے کے بارے میں کی گئی ووٹینگ سب سے اہم ووٹینگ ہے جو کانگریس میں قومی سلامتی کی بحث کے دوران کی گئی ووٹینگ شمار ہوتی ہے ۔

اس بنیاد پر امریکی کانگریس کی قانون سازیہ کی ووٹینگ اس سمجھوتے کی مخالفت یا موافقت کے بارے میں ایران کے جوہری سمجھوتے پر نظر ثانی کے بعد ایک قانون پاس کرکے کہ جس کا نام انارا رکھا گیا ہے صورت پذیر ہو گی ۔

انارا وہ قانون ہے کہ جس کی بنیاد پر ایک ایسا سسٹم بنایا جائے گا کہ جس کے مطابق امریکی دو ادارے پارلیمنٹ اور سینیٹ ،عدم تصویب کی قرار داد کے بارے میں ووٹینگ کریں گے ؛ اگر یہ قرار داد کانگریس میں پاس ہو گئی تو پھر امریکہ کا صدر ایران کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس کے ایک بند کے مطابق ایران پر عائد کی گئی پابندیوں کو لغو نہیں کر پائے گا ،اور اس طرح کا نتیجہ ایک حادثہ اور برا  نتیجہ ہو گا ۔

اس روز نامے نے لکھا ہے کہ اگر امریکہ اس معاملے کے آخر میں اچھے اور کامیاب عمل کا مظاہرہ نہیں کر پاتا ہے تو کوئی مضبوط دلیل اس بات پر نہیں ہو گی کہ جوہری سمجھوتے میں جن شرائط کو تسلیم کیا ہے ایران بھی ان پر عمل کرے گا ، اور اس دوران یہاں تک ممکن ہے کہ واشنگٹن کی حکومت کے اتحادی ایران کے اتھ جوہری مذاکرات کے مقصد کو ایک انتہائی چند طرفہ اہمیت کے حامل سمجھوتے پر عمل کرنے میں کانگریس کی طرف سے روڑے اٹکانے کے باوجود ،سوال کے کٹہرے میں کھڑا کریں ۔

 اس روز نامے نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ اگر اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا ہے تو اس کا مطلب ایران کے غیر محدود جوہری پروگرام  کے خطرے کو دعوت دینا ہو گا، اور اسسے دشمنی کے  دروازے کھلیں گے اور آخر کار ممکن ہے کہ امریکہ اور ایران ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابلے پر آ جائیں یا جنگ کے راستے پر آن کھڑے ہوں ، ،لکھا ہے کہ اسی جہ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر کانگریس امریکہ کو سیاسی کھائی کے دہانے پر لے جاتی ہے تو امریکہ کا صدر باراک او با ما کانگریس کے خطر ناک فیصلوں کے خلاف وٹو کرے گا ۔

اس رپورٹ میں آگے آیا ہے کہ کانگریس کے لیے او با ما کے ویٹو کے حق کو نظر انداز کرنے کے لیے کانگریس اور پارلیمنٹ کے نمایندوں کی دو تہائی کی اکثریت کی ضرورت ہو گی کہ وہ ایران کے سلسلے میں اپنائی گئی پالیسی کو رد کر سکیں جس کا  نتیجہ احتمالی جنگ کی صورت میں ظاہر ہو گا ۔

یو ایس اے ٹو ڈے نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی قانون ساز منتخب افراد کی حیثیت سے آسان راستہ اختیار کر سکتے ہیں  کہ وہ امریکہ کے قومی مفادات کے حق میں ووٹ دیں ،لکھا ہے کہ عدم تصویب کی قرار داد کو رائے حاصل کرنے سے   اگر امریکہ کے ۴۱ سینیٹر روکیں تو پھر رسک لینے کی ضرورت نہیں ہے اور امریکہ کے لوگ کامیاب ہوں گے ۔

یو ایس اے ٹو ڈے نے لکھا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ کانگریس کے ارکان سیاسی طریقہء کار کو اختیار کریں اور یہ اس صورت میں ہو گا کہ اگر امریکہ کے لوگ اربوں ڈالر خرچ کرنے اور حقائق کو توڑ کر بیان کرنے اور سفید جھوٹ بولنے کی وجہ سے گمراہ ہو گئے ہوتے تو ان میں سے ۷۵ فیصد سے زیادہ سمجھوتے کی حمایت نہ کرتے ۔

اس رپورٹ کے آخر میں آیا ہے کہ قومی سلامتی اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے ماہرین کے اجماع قطعی کا یہ عقیدہ ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ دنیا اور امریکہ کو پر امن تر مکان میں تبدیل کرے گا ،اس سمجھوتے کے حق میں ووٹ دینا نہ صرف عصر حاضر کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہو گی ،بلکہ یہ آخر کار پیش خیمہ ہو گا اس بات کا کہ جنوب مغربی ایشیاء میں جو امریکہ کی فوجی نحوستوں کی چکی چل رہی ہے اس کو روکا جائے ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲  


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram