یوکرین کی ایک لڑکی نے کس طرح القاعدہ کے رہبر کا شکار کیا

یوکرین کی ایک لڑکی نے کس طرح القاعدہ کے رہبر کا شکار کیا

ڈنمارک کے ایک جوان کے نیوز ایجینسیوں کے ساتھ انٹرویو نے یمن میں القاعدہ کے معنوی رہبر انور عولقی کے قتل کے راز سے پردے اٹھائے ہیں کہ جس کو امریکی فوجوں نے جہنم کی راہ دکھائی تھی ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی ٹی وی "العالم" کے مطابق القاعدہ کے سابقہ سرغنہ انور عولقی کو کیسے قتل کیا گیا تھا کہ جو واقعہ ۳۰ ستمبر ۲۰۱۱ میں رونما ہوا تھا ،اب بھی تحلیل گروں کی تحلیل کا موضوع بنا ہوا ہے ۔

اگر چہ اس قتل سے متعلق بہت سارے مسائل ابھی واضح نہیں ہیں لیکن عولقی کے بارے میں دلچسپ بات اس کا ایک ڈنمارک کی لڑکی مارٹین اشٹورم سے رابطہ تھا کہ جس نے پہلے یمن کے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور پھر العولقی کو قتل کرنے کے لیے امریکہ کی اور ڈنمارک  کی اطلاعاتی ایجینسی کا ساتھ دیا ۔

لیکن ان سب سے زیادہ دلچسپ وہ باتیں ہیں کہ جو حال ہی میں اشٹورم نے خبری مرکز دویجہ ولہ کے ساتھ گفتگو میں کی ہیں اور کہا ہے کہ اشٹورم عورتوں کا وہ بھی مشرقی یورپ کی عورتوں کا دیوانہ تھا جب اشٹورم نے یہ اطلاعات امریکی ایجینسی کو دیں تو انہوں نے کرواسی کی ایک لڑکی کو طعمہ کے طور پر استعمال کیا کہ جس نے یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے ۔

۳۹ سالہ مارٹین اشٹورم کہ جو آج کل برطانیہ کے شمال کے علاقے میں چھپ کر زندگی بسر کر رہی ہے اس کو القاعدہ نے قتل کی دھمکی دی ہے ۔

وہ کہ جس کا جماعتی نام مراد ڈنمارکی تھا خود کو القاعدہ کے دہشت گردوں کے روحانی رہبر عولقی کے قریب کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور جب کچھ شکوک اس کے اندر پیدا ہوئے تو اس نے عولقی کو قتل کرنے کے لیے جال بچھا دیا ۔

اشٹورم کو کچھ مدت کے بعد القاعدہ کے ساتھ شمولیت کے سلسلے میں شک ہو گیا چنانچہ اس نے امریکہ اور ڈنمارک کی ایجینسی کے ساتھ عولقی کو جال میں پھنسانے کے لیے تعاون کیا یہاں تک کہ یمن میں اس کی گاڑی کو ایک بغیر پائلٹ کے جہاز کے ذریعے نشانہ بنا کر اسے دوزخ پہنچا دیا گیا ۔

مارٹین اشٹورم القاعدہ سے ملنے سے پہلے موسیقی کے ایک گروہ راک کی رکن تھی اور شراب خوار تھی اور لڑاکو اور ہتھیار بردار رہتی تھی ،لیکن اسے بے مایگی کا احساس ہوا ایک دن جب کہ وہ اتفاق سے قرآن کے ڈنمارکی ترجمے کی ورق گردانی کر رہی تھی اسے احساس ہوا کہ زندگی کے معنی کے بارے میں جو سوالات اس کے ذہن میں ہیں ان کا جواب اس کتاب میں دیا گیا ہے ۔

وہ مسلمان ہو گئی لیکن بد قسمتی سے انتہا پسند سلفی افکار کے دام میں گرفتار ہو گئی ،شروع میں وہ لندن میں عمر بکری کے کہ جو ایک سلفی مبلغ ہے  حلقے کے ساتھ جڑی ،اور اس کے بعد انتہا پسندی کے مرحلے تک آگے بڑھی ،وہ مختلف کام کرتی تھی منجملہ لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کرواتی تھی اور اس نے اپنے تمام انتہا پسند دوستوں سے مل کر دولت اسلامی کے قیام کا مطالبہ کیا تھا ،اور مظاہروں میں اس نے کئی بار خشونت آمیز اقدامات انجام دیے ۔

اشٹورم اپنے اعتراف کے مطابق خشونت کے اس درجے تک پہنچ گئی تھی کہ عمر بکری کی باتوں سے بھی وہ قانع نہیں ہوتی تھی اور چاہتی تھی کہ جہاد کرے ؛ اسی لیے وہ یمن گئی اور وہاں وہ انور عولقی سے آشنا ہوئی ۔اشٹورم اس سلسلے میں کہتی ہے ؛میں آہستہ آہستہ ایک روبوٹ میں تبدیل ہو گئی کہ جس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا اور جو اس درجے تک پہنچ جائے وہ ممکن ہے کہ اپنے گھر والوں سے بھی بیزار ہو جائے ۔

کچھ عرصے بعد اس نے ایک مسلحانہ کاروائی میں شرکت کی اور کچھ امریکی فوجیوں اور یمن کے شہریوں کو قتل کیا ،لیکن بعد میں وہ پنے کام سے پشیمان ہو گئی ،اور چاہا کہ ڈنمارک واپس چلی جائے اور اپنی معمول کے مطابق کی زندگی بسر کرے اسی لیے اس نے امریکہ اور ڈنمارک کی اطلاعاتی ایجینسیوں سے رابطہ کیا اور عولقی کو دام میں پھنسانے کی خاطر ان سے تعاون کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔

عولقی کی کمزوری جو اس کی نابودی کا باعث بنی

اشٹورم چند گنے چنے لوگوں میں سے تھی کہ جو عولقی کی کمزوری جانتے تھے وہ مشرقی یورپ کی عورتوں کا دیوانہ تھا ،یہی وجہ ہے کہ اس کو دام میں پھنسانے کے لیے کرواسی کی ایک لڑکی کو کہ جس نے مسلمان ہو نے کا دعوی کیا تھا اس کا شکار کرنے کے لیے اس کے پاس بھیجا گیا ۔

العولقی کے قتل کے کچھ عرصے بعد امریکی ایجینسی نے ایک شخص کے تعاون کی جانب اشٹورم کا نام لیے بغیر اشارہ کیا اور دویجہ ولہ کو کسی بھی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ،لیکن گروہ القاعدہ نے ایک ویڈیو منتشر کی کہ احتمالا جس کو شام میں بنایا گیاتھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ القاعدہ کے دہشت گرد چٹانوں پر آویزاں کی گئی ڈنمارک کے ایک شخص کی تصویر پر گولیاں چلا رہے ہیں ۔

اس کے باوجود کہ اشٹورم کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے پولیس اس کی حفاظت نہیں کر رہی ہے اس کا عقیدہ ہے کہ ذرائع ابلاغ اور عوامی افکار اس کے حامی ہیں اسی بنا پر اس نے گذشتہ برس اپنی زندگی پر مبنی ایک کتاب منتشر کی ہےاور اس کا عقیدہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی شہرت دشمنوں کے حملے سے بچنے کے لیے اس کی ایک طرح کی ضمانت ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram