مصری عوام کے قتل عام کی پہلی برسی، حالات کشیدہ

مصری عوام کے قتل عام کی پہلی برسی، حالات کشیدہ

یک سال قبل مصر کےلاکھوں عوام نے محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت پر قاہرہ میں العدویہ اسکوائر میں احتجاج کیا جسے سکیورٹی فورسز نے بری طرح کچل دیا جس کے نتیجے میں 600 افراد جاں بحق اور 4200 سے زائد زخمی ہوئے جس کے بعد یہ دن مصر کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر شمار ہوتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر کے العدویہ والنہضہ اسکوائر میں فوج کے ہاتھوں مصری عوام کے قتل عام کی پہلی برسی کے موقع پر اس ملک کے حالات ایک بار پر کشیدہ ہو گئے اور کل اس ملک کے مختلف علاقوں میں اخوان المسلمین کے حامیوں اور فوج کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں 20 افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق قاہرہ، اسکندریہ، اسیوط اور جیزہ میں حالات کشیدہ ہیں ۔ اخوان المسلمین نے فوج کے ہاتھوں مصری عوام کے قتل عام کی پہلی برسی کے موقع پر اس ملک کے عوام سے کہا تھا کہ وہ فوجی حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور مظاہرے کریں جنہوں نے اس ملک کی منتخب عوامی حکومت پر قبضہ کیا ہے۔
ایک سال قبل مصر کےلاکھوں عوام نے محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت پر قاہرہ میں العدویہ اسکوائر میں احتجاج کیا جسے سکیورٹی فورسز نے بری طرح کچل دیا جس کے نتیجے میں 600 افراد جاں بحق اور  4200 سے زائد زخمی ہوئے جس کے بعد یہ دن مصر کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر شمار ہوتا ہے۔
اگرچہ اس واقعہ کو ایک سال ہو چکا ہے اور اس ملک میں سابق فوجی عبدالفتاح السیسی نے حکومت کی باگ دوڑ سنھبال لی ہے لیکن اس کے باوجود مصر کی صورتحال کشیدہ ہے۔ اور حکومت کے مخالفین اور اس ملک کی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مصر کی بعض سیاسی اور مذھبی جماعتیں من جملہ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال 14 اگست 2013 کو العدویہ والنہضہ اسکوائر میں اس ملک کے موجودہ حکمرانوں کے کہنے پر عوام کا قتل عام ہوا اسی لئے وہ حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہیں ۔ مصر کی سیاسی شخصیت محمد جمال حشمت نے کل کہا کہ العدویہ والنہضہ اسکوائر کے واقعہ کو ایک سال ہو گیا ہے لیکن اس واقعہ میں ملوث کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی جوجاں بحق ہونے والوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے مصر کے انقلابیوں سے کہا کہ وہ کودتا کرنے والوں کے خلاف پر امن جدوجہد جاری رکھیں۔ مصر کی علما ء کونسل نے بھی انقلابی جدوجہد کی قدردانی کرتے ہوئے العدویہ والنہضہ اسکوائرکے واقعہ اور جاری قتل عام کے واقعہ کو اس ملک کے عوام کی نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی حال ہی میں بیان جاری کر کے مصری حکام کی جانب سے العدویہ اسکوائرکے واقعہ کی برسی کے موقع پراس اقدام کو انسانیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ فقط انسانی حقوق کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے خلاف بھی شمار ہوتا ہے ۔ جن لوگوں نے العدویہ والنہضہ اسکوائر میں عوام کے قتل عام کا حکم دیا تھا وہ اس وقت حکومت میں ہیں اور یہ ایسے میں ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم نے اس سے قبل کہا تھا کہ جن لوگوں کے حکم سے یہ واقعہ رونما ہوا اور جو اس میں شریک ہیں انھیں ان کے کئے کی سزا ملنی چاہئیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram