شام کےسلسلےمیں اچھي خبریں

کیا خطے کی طاقت اور ارضی سیاسیات کا ہندسہ بدل رہا ہے؟

کیا خطے کی طاقت اور ارضی سیاسیات کا ہندسہ بدل رہا ہے؟

ڈاکٹر مصطفی ملکوتیان نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ "کیا مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ (مشرق وسطی) میں طاقت اور ارضي سیاسیات کا ہندسہ (Geometry of Powers and Geopolitics) بدل رہا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مصطفی ملکوتیان نے مذکورہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: شام میں دہشت گردوں کی نابودی یا ہتھیار ڈالنے سے پورے خطے پر اثر پڑےگا، یہ واقعہ صہیونی ـ یہودی ریاست کے خلاف اسلامی مزاحمت محاذ کو ایک ایک بڑا قدم اگے بڑھا دے گا اور خطے میں طاقتوں کی صف بندی اور طاقت و ارضی سیاسیات پر فوری اور دائمی اثرات مرتب کرے گا۔حقیقت پسندانہ تجزیہ:  ذیل کے حقائق کی روشنی میں شام میں فورسز کی میدانی صف بندی کا ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ:  اہم نکات: 1۔ القصیر میں کامیاب کاروائی کے بعد دہشت گردوں کے خلاف شام کی سرکاری فورسز کی مسلسل کامیابیاں۔  2۔ دمشق، حلب اور کئی دیگر شہروں کے نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا اور ان علاقوں میں امن کی بحالی۔ 3۔ عرب رجعت پسندوں اور ترکی میں ان شکستوں اور ناکامیوں کے احساس کے نتیجے میں آنے والا تزلزل، جس نے امیر قطر کو اقتدار چھوڑ کر بیٹے کے سپرد کرنے پر مجبور کیا اور علاقے میں کئی اہم تبدیلیوں کا سبب بنا۔  4۔ دہشت گردی کے فروغ، فرقہ وارانہ جنگ کی آگ بھڑکانے اور وہابیوں کو ورغلا کر جہاد کے نام پر اس غلیط لڑائی میں دھکیلنے اور روسی وفاق سمیت مختلف سرزمینوں میں دہشت گردی پھیلانے میں آل سعود کے آئل ڈالرز کے طشت از بام ہونے کی وجہ سے معرض وجود میں آنے والی رسوائیاں۔ (واضح رہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسی بنا پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ آل سعود کو دہشت گردی کی حامی حکومت کے عنوان سے متعارف کرائے اور انھوں نے آل سعود کو شدید ترین انتقامی کاروائیوں کی دھمکی دی ہے جبکہ عراق نے بھی اپنے ملک میں آل سعود کی شرانگیزیوں کی مستند رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے حوالے کردی ہے اور بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ یہ رپورٹ سلامتی کونسل کو بھجوا رہے ہیں اور دوسری طرف سے شام نے بھی ایک مدلل رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ سعودی خاندان اس ملک کے عوام کے قتل عام اور اس کے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے میں ملوث ہے)۔ 5۔ شام کے اندر ہی النصرہ، داعش اور فری سیرین آرمی کے درمیان شدید ترین جھڑپیں اور کم از کم 1200 افراد کی ہلاکت۔ اگر جنیوا کانفرنس کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیمیں اس نتیجے پر پہنچیں کہ انہيں مکمل نابودی سے پہلے ہی ہتھیار ڈال کر علاقے اور دنیا کے حقائق کو تسلیم کرنا چاہئے تو ان کے لئے بھی بہترین راستہ یہی ہے۔ [جبکہ اسلامی مزاحمت محاذ کے لئے بھی یہ بہتر نتیجہ ہے جو فطری طور پر یہودی ریاست کے لئے خوشایند نہيں ہوگا]۔ 6۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک بھی سمجھ چکے ہیں کہ انہیں شام میں ایک بڑی شکست کا سامنا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرکے اپنے دوستوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں اور متعلقہ موضوع کو چھوڑ کر یہ کہنا کہ "ایران کا جوہری پروگرام بند ہونا چاہئے" اور یوں وہ کوشش کررہے ہیں کہ شام میں اپنی بڑی اور رسوا کن شکست کی پردہ پوشی کریں۔ 7۔ علاقے میں مزاحمت کا محور محفوظ رکھنے کے لئے اسلامی مزاحمت محاذ کی قوت اور سنجیدگی اور مزاحمت مخالف قوتوں کی زد پذیری۔ مذکورہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں ایک عظیم بحران نے دہشت گردوں اور ان کے بیرونی حامیوں کا گریباں پکڑ لیا ہے۔ آج بہت سوں کا خیال ہے کہ وہ مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے  اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں چنانچہ بڑی امیدیں لے کر جنیوا 2 کانفرنس میں حاضر ہوئے ہیں تا کہ کہیں سے کوئی سیاستی رعایت لے کر مکمل نابودی سے نجات پاسکیں۔ ان کی نابودی یا پھر ان کی پسپائی اور ہتھیار ڈالنے کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے اور یہ واقعہ اسلامی مزاحمت محاذ کو صہیونی ـ یہودی ریاست کے مقابلے میں ایک بڑا قدم آگے بڑھائے گا اور علاقے میں قوتوں کی صف بندی اور طاقت و ارضی سیاسیات کے نقشے پر فوری اور دائمی اثرات مرتبہ کرے گا۔  یقینی امر ہے کہ وہ حکومتیں اور وہ افراد ـ جو شام میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے رہے ہیں ـ انہیں جنگ کے بعد ان حمایتوں اور خونریزیوں کا تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ یہ دہشت گرد مختلف مکاریوں اور فریب سے کام لیتے ہوئے بڑی بڑی رقوم حاصل کرکے ـ اپنے ملکوں میں اپنے جرائم کی سزا سے بچنے کے لئے جیلوں سے نکل کے ـ اسی ممالک سے اکٹھے کرکے شام لائے گئے ہیں اور مسلط کردہ جنگ میں اس قدر بےحیائی کے ساتھ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے آئے ہیں کہ قلم ان کے جرائم بیان کرنے سے عاجز و بےبس ہے اور حتی یہی جرائم ان کے ناجائز و ناروا ہونے کے اثبات کے لئے کافی ہیں۔ جنیوا کانفرنس کے بعد: جنیوا کانفرنس کے بعد کے حالات کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو ـ اس کانفرنس میں کچھ بھی حاصل نہ کرنے کی بنا پر ـ زوال کا راستہ طے کرنا پڑے گا اور مغربی و عرب ممالک اور ترکی کی طرف سے ان کی مالی ور عسکری امداد زیادہ سے زیادہ مادی وسائل کا ضیاع اور ان ممالک کی زیادہ سے زيادہ بدنامی کے سوا کسی نتیجے پر منتج نہ ہوگی۔ قابل مشاہدہ سلسلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، کہا جاسکتا ہے کہ اگر دہشت گرد جنیوا کانفرنس کے موقع پر قبول کریں کہ جب تک وقت باقی ہے انہیں ہتھیار ڈالنا چاہئے اور علاقے اور دنیا کے حقائق کو تسلیم کریں تو یہ ان کے لئے بہترین نتیجہ ہوگا۔ ان کے بیرونی حامیوں ـ بالخصوص سعودی حکمرانوں ـ کے لئے بہتر یہی ہے کہ تیل کی دولت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دوسروں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ بند کریں اور مسلمانوں کو باہم دست بگریباں کرنے سے مزید اجتناب کریں۔ بےشک "چاہ کن را چاہ درپیش" کے قاعدے کے تحت دوسروں کے لئے کنواں کھودنے کا نتیجہ بالآخر ان کی اپنی نابودی اور ہلاکت کی صورت میں ہی برآمد ہوگا؛ اور یہ وہ حقیقت ہے جس کو ہر عقلمند انسان ـ ان حکومتوں اور ان کے بیرونی (مغربی) حامیوں کی طاقت کا ڈوبتا سورج دیکھ کر ـ بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ کلی طور پر جو صورت حال شام میں میدانی صورت حال سے سمجھ میں آتی ہے جہاں حکومت ہر روز نئی نئی کامیابیاں حاصل کررہی ہے، ایک حقیقی صورت حال ہے اور جو بھی تنظيم اور جو بھی حکومت اس حقیقت کو تسلیم نہ کرے گی وہ در حقیقت خودکشی کا ارتکاب کررہی ہے اور تاریخ میں ان کے نام کے ساتھ بدنامی کے سوا کچھ بھی ثبت نہ ہوسکے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭


پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram