عرب تجزیہ نگار؛

امریکی ـ سعودی دہشت گرد اتحاد، دونوں ایمن الظواہری کے فرمانبردار!

امریکی ـ سعودی دہشت گرد اتحاد، دونوں ایمن الظواہری کے فرمانبردار!

خطے کے تزویری امور کے مبصر کا کہنا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد ٹولہ شام کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور ریاض اور واشنگٹن مکمل طور پر ایمن الظواہری کی ہدایات پر عملدرآمد کررہے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطی کے اسٹراٹجک امور کے مبصر و تجزیہ نگار "غالب قندیل" نے "الشرق الجدید" نیوز ویب سائٹ پر اپنا ایک مضمون شاعہ کرکے لکھا ہے: شام کی صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی دہشت گرد ٹولے ایمن الظواہری کے آخری پیغام کا جائزہ لیں۔ الظواہری نے اپنے آخری ویڈیو پیغام میں حکم دیا کہ شام میں داعش (دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام) کی تشکیل سے اجتناب کیا جائے اور داعش صرف عراق کی حدود میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے طور پر سرگرم رہے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ جبہۃالنصرہ شام میں القاعدہ کی ذیلی شاخ ہے۔ نیز وہ جانتا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ گروپوں پر مشتمل "جبہۃالاسلامیہ" اور بندر بن سلطان کے کٹھ پتلی زہران علوش کی سرکردگی میں اخوان المسلمین کے دہشت گرد ٹولے ویسے بھی جبہۃالنصرہ کے ساتھ ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور جبہۃالنصرہ کو قطر، ترکی اور سعودی عرب کی اعلانیہ حمایت حاصل ہے جبکہ امریکہ اس دہشت گرد تنظیم کی کارکردگی پر نگرانی کررہا ہے اور امریکہ اس کے کرتوتوں کو سراہتا ہے۔  اس میں شک نہيں ہے کہ جیش الحر (یا آزاد فوج) کی شکست و ریخت نے شامی قوم اور فوج کے دشمنوں کی طرف سے جرائم پیشہ دہشت گرد گینگز کی تشکیل کے مقاصد کو طشت از بام کردیا اور فوج سے بھاگ کر اس گروپ میں شامل ہونے والے ہزاروں فوجی افسر اور جوان پس پردہ حقائق سے واقف ہونے کے بعد صدر بشار الاسد کے معافی کے اعلان سے فائدہ اٹھا کر سرکاری افواج میں واپس آگئے۔ یوں القاعدہ اور اغیار سے وابستہ دیگر تکفیری و دہشت گرد ٹولوں کا اصل چہرہ بےنقاب ہوا اور یہ گروپ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے اور طاقت و اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ شام کے واقعات کے آغاز ہی سے شام کی حکومت اور اس ملک کے عرب عوام کے لئے بالکل واضح تھا کہ جن ملکوں نے شام کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ہے وہ درحقیقت القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد اور جرائم پیشہ گروپوں کو شام کا بنیادی تباہ کرنے اور اس ملک کو نیست و نابود کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں تا کہ اس طرح وہ اسلامی محاذ مزاحمت کی عظیم کامیابیوں اور خطے میں امریکہ اور یہودی ریاست کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں شام کے بنیادی کردار کا بدلہ لے سکیں۔ جب سے آل سعود نے اپنی انٹیلجنس ایجنسیوں کی لگام اور شام میں دہشت گردی اور تخریبکاری کا چارج بندر بن سلطان کو سونپا ہے شام میں القاعدہ کے کردار میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے اور تب ہی سے القاعدہ سے وابستہ گروپ مسابقت کے میدان میں اترے ہیں اور آخر کار طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی دوڑ کے نتیجے میں میں یہ گروپ ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ شام میں دہشت گرد ٹولوں کی اس خونی لڑائی کی وجہ سے کئی اہم اور تزویری حقائق نمایاں ہوچکے ہیں جن کی بنیاد پر امریکہ اور سعودی عرب اور ان کے ساتھ ساتھ  ترکی، قطر اور عالمی اخوان المسلمین تنظیم کی مذمت کی بین الاقوامی لہر اٹھنی چاہئے کیونکہ یہی آج بین الاقوامی دہشت گردی کی اعلانیہ سرپرستی کررہے ہیں اور ان ہی ممالک اور اخوان المسلمین نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو عالمی سطح پر پھیلا دیا ہے اور ان ہی ممالک نے شام، روس، عراق، لبنان اور کئی دوسرے ممالک میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔  روس، شام، ایران، لبنان اور عراق کی اپیل پر دہشت گردی کے خلاف جنگ ترجیحی اہمیت دینے کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عالمی سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی جائے جو دہشت گردی کے حامی ممالک کے بھونڈے کردار کو فاش کرے اور شام میں القاعدہ کے المناک ترین جرائم میں ان ممالک کے حکام کے کردار کو طشت از بام کرے۔ دریں اثناء روس نے کہا ہے کہ سعودی عرب سیاہ پوش "دہشت گرد بیواؤں" کا مرکز ہے لنک آرہا ہے: سعودی عرب ہی "سیاہ پوش بیواؤں" کی دہشت گرد تنظیم کا سرپرست ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭


Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram