شامی وزیر کی نیوز کانفرنس:

شام میں موجود تمام تنظیمیں دہشت گرد اور سب کا مرکز ایک ہے

شام میں موجود تمام تنظیمیں دہشت گرد اور سب کا مرکز ایک ہے

عمران الزعبی کا کہنا تھا کہ بیرونی ایجنسیوں کی تشہیری مہم کے برعکس شام میں لڑنے والی تمام تر تنظیمیں دہشت گرد ہیں/ جس ملک نے روس میں دھماکے کرائے وہی دمشق، حمص، درعا، اور (عراق کے شہروں) بغداد، رمادی اور کرکوک میں بھی دھماکے کروا رہا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر اطلاعات "عمران الزعبی" نے منگل کے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: نکتے:٭ بیرونی ایجنسیاں شام میں دہشت گردوں کو تقسیم کرکے مثبت دہشت گرد اور منفی دہشت گردوں میں بانٹنے کی کوشش کررہی ہیں وہ کہنا چاہتی ہیں کہ شام میں "اعتدال پسند دہشت گرد" بھی موجود ہیں جبکہ ہماری اطلاعات اور شواہد و دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ سارے گروہ دہشت گرد ہیں اور شام کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور نام کے اختلاف سے اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سب ایک جیسے ہیں؛ آپ شام میں جتنی بھی دہشت گرد تنظیموں کے نام سن رہے ہیں وہ سب دہشت گرد ہیں۔ ٭ حکومت شام صرف اپنی قوم کے مفاد کے لئے جنیوا 2 کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتی ہے۔ جنیوا 2 میں ایران کی موجودگی کا مسئلہ ٭ ہم قطعی طور پر اس کانفرنس میں ایران کی شرکت کے خواہاں ہیں اور ایران کو بھی دوسرے ممالک کی سطح پر اس کانفرنس میں شریک ہونا چاہئے۔ گوکہ اس کانفرنس میں ایران کی عدم شرکت کی وجہ سے اس ملک کی وقعت میں کوئی کمی نہيں آتی۔ جنیوا 2 کانفرنس کے فیصلوں پر ملک میں ریفرینڈم کرایا جائے گا ٭ جنیوا 2 کانفرنس میں جو بھی فیصلہ کیا جائے اس پر ملک کے اندر ریفرینڈم کرایا جائے گا اور اگر شامی عوام اس فیصلے کو نہ مانیں تو بےمعنی ہوجائے گا۔ ٭ جنیوا 2 کانفرنس کا اصل نتیجہ دہشت گرد کے خلاف ہمہ جہت جنگ کی صورت میں برآمد ہونا چاہئے اور اس کانفرنس کے نتیجے میں سب کو مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونا چاہئے۔ ٭ شام میں جنیوا 2 کانفرنس کے بعد کوئی عبوری حکومت تشکیل نہیں دیں گے اور میں اپنے مخالفین اور بیرونی کھلاڑیوں سے سفارش کرتا ہوں کہ وہ جنیوا 1 کانفرنس کے بیان کو غور سے پڑھیں۔ ٭ جنیوا کانفرنس 2 کے موقع پر یا پھر کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ شامی ـ شامی مذاکرات کو کانفرنس کے نتیجے کے طور پر قبول کیا جائے گا کیونکہ جنیوا 2 کانفرنس کی تجویز ہی شامیوں اور شامیوں (حکومت شام اور اس کی حقیقی اپوزیشن) کے درمیان مذاکرات ہی کی تجویز ہے اور اگر یہ کانفرنس کامیاب نہ ہوئی تو یہ تجویز دمشق یا حلب میں نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ خطے میں تمام دہشت گردانہ دھماکوں کا عامل اور منبع ایک ہی ہے٭ شام اور عراق کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی قومی سلامتی کا تحفظ کریں اور کوئی بھی ملک اپنی سلامتی کو نظر انداز نہیں کرتا۔ ٭ جو ملک روس، شام اور عراق میں دھماکے کروا رہا ہے اس کی بازخواست ہونی چاہئے اور اس کو سزا ملنی چاہئے۔ ٭ جس ملک نے روس میں دھماکے کرائے وہی دمشق، حمص، درعا، اور (عراق کے شہروں) بغداد، رمادی اور کرکوک میں بھی دھماکے کروا رہا ہے۔ ٭ ہم نے عالمی کیمیاوی تخفیف اسلحہ معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اس کے پابند ہیں۔ ٭ ہمیں امید ہے کہ جنیوا 2 کانفرنس کے توسط سے شام کا بحران حل ہوجائے لیکن اگر کوئی ملک سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ اور فرانس یا ان جیسے دوسرے ملک کی خواہشات کی بنیاد پر جنیوا 2 میں شرکت کرنا چاہتا ہے تو بہت بڑی غلطی پر ہے۔ ٭ جن ملکوں نے شامی باشندوں کو قتل کرنے اور ان کا وطن اجاڑنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں ہم انہيں نہیں بخشیں گے؛ شام کو ارادی طور پر اور منصوبے کے تحت اجاڑ دیا گیا اور صرف شام کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس فریق کو بخشیں اور کس کو نہ بخشیں۔ ٭ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ہی ہے اور شام اور عراق کا دشمن ایک ہی ہے۔ عدرا شہر میں دہشت گردوں کے جرائم نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں ٭ بعض لوگ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ عدرا شہر میں عوام کا قتل فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہوا ہے لیکن ایسا نہيں ہے بلکہ اس شہر میں تمام طبقوں کے لوگ قتل کئے گئے اور اس شہر میں قتل عام نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ ٭ شام کا حقیقی مسئلہ دہشت گردی کا مقابلہ ہے اور بیرون ملک مقیم اپوزیشن اتحاد شامی عوام کا نمائندہ ہے نہ ہی اپوزیشن کا۔ ٭ دہشت گرد ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہورہے ہیں اور شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں کا تعلق شام سے نہيں ہے۔ ٭ ہمیں امید ہے کہ لبنان میں امن و امان اور استحکام جلد از جلد بحال ہو۔ صدارتی انتخابات کے لئے صدر اسد کی نامزدگی ٭ صدارتی انتخابات کے لئے نامزد ہونا یا نہ ہونا صدر اسد کی مرضی پر منحصر ہے تاہم شامی عوام ان کی نامزدگی کے خواہاں ہیں۔ ترکی اور اردن سے دہشت گردوں کی وسیع دراندازی ٭ شام کی سرحدوں سے دہشت گردوں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اردن سے بہت بڑی تعداد میں دہشت گرد شام میں داخل ہورہے ہیں اور اسی سرحد سے انہيں ہتھیار فراہم کئے جاتے ہیں اور سامان رسد منتقل کیا جاتا ہے اور یہ موضوع کوئی راز نہيں ہے؛ ہم سرحدوں پر نگرانی کے سلسلے میں اردن کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ٭ ترکی کی طرف سے بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔ ترکی کو اپنی سرحدیں مکمل طور پر بند کرنا پڑیں گی، اپنے ملک میں دہشت گردوں کے اڈے اور تربیتی کیمپ بند کرنے پڑیں گے اور تمام دہشت گردوں کو ملک سے نکال باہر کرنا پڑے گا اور ان کی حمایت مکمل طور ترک کرنا پڑے گی۔  امریکہ عراق میں دہشت گردی کا حامی ہے ٭ دہشت گردوں کے حامی جہاں بھی ہیں دہشت گرد ہی ہیں اور امریکہ عراق میں دہشت گردی کے خلاف نہیں ہے۔ ٭ ہمارے ملک میں ایسے شامیوں کی شہریت کی منسوخی کی تجویز پر غور ہورہا ہے جو شامی عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں اور اپنے عوام کے قتل کرنے کے لئے غیرملکی دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہيں تاہم اس کے بارے میں کچھ کہنا عدلیہ کا کام ہے۔ ٭ شام جنیوا 2 میں کسی پیشگی شرط پر شرکت نہیں کررہا ہے، جنیوا 2 میں سیاسی گفتگو کا ایجنڈا ہے اور ہم دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔ ٭ شام کے پڑوسی ممالک کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق دہشت گردوں کی حمایت ترک کرنی پڑے گی، شام میں برسرپیکار دہشت گرد تنظیموں کے کمانڈر شام سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور جنیوا 2 کانفرنس کی کامیابی ان کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ یہ کانفرنس ان کے خاص مقاصد سے متصادم ہے۔ شام فلسطینی قوم کی حمایت جاری رکھے گا ٭ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہيں ہے اور ہم باضابطہ طور پر فلسطینی عوام کے فیصلے (یعنی دشمن کو گھر سے نکالنے کے لئے مسلحانہ جدوجہد) سے متفق ہیں۔ ٭ فلسطین ہمارا اصلی اور بنیادی مسئلہ اور صہیونی ـ عرب جنگ کی جڑ ہے۔ ٭ ہم نے ہمیشہ فلسطینی مزاحمت تحریک کی حمایت کی ہے اور اس کی حمایت بدستور جاری رکھیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭


Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram