ویتنام مشرقی ایشیا میں ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز: صدر روحانی

 ویتنام مشرقی ایشیا میں ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز: صدر روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایرن اور ویتنام کے پاس بے شمار صلاحتیں ہیں جنھیں دونوں قوموں کے مفاد میں استعمال کیا جانا چـاہئے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کو ہنوئی میں ویتنام کے وزیراعظم سے ملاقات میں کہاکہ مشرقی ایشیا کے ملکوں منجملہ ویتنام کے ساتھ تعلقات کی تقویت ہمیشہ ایران کے نزدیک خاص اہمیت کی حامل رہی ہے اور ویتنام مشرقی ایشیا میں ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے -

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران اور ویتنام کے درمیان اقتصادی تعلقات کی توسیع کے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں اور اس کے لئے بینکینگ کے شعبے میں تعاون کی تقویت ضروری ہے -

انہوں نے ایران اور ویتنام کے صدور کے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کی توسیع اور تقویت کے لئے دونوں ملکوں کے سیاسی عزم و ارادے کاغماز قراردیا اور کہا کہ ایرانی عوام ، ویتنام کے دوست اور دلیر و ثابت قدم عوام سے اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے پر زور دیتے ہیں -

ویتنام کے وزیراعظم نگوین شوان پوک Nguyen Xuan PHUC  نے بھی اس ملاقات میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات اور انہیں مستحکم بنانے کو خاص اہمیت دیتاہے کہا کہ ہنوئی دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو دوارب ڈالر سے زیادہ اوپر لے جانے کے لئے پوری کوشش کرے گا -

ویتنام کے وزیراعظم نے بھی ایٹمی معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں اور بلاشبہہ ایران کے صدر کا دورہ ویتنام، تہران اور ہنوئی کے تعلقات میں استحکام کی راہ میں سنگ میل ثابت ہوگا -

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایرن اور ویتنام کے پاس بے شمار صلاحتیں ہیں جنھیں دونوں قوموں کے مفاد میں استعمال کیا جانا چـاہئے-

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کو ہنوئی میں ویتنام کے وزیراعظم سے ملاقات میں کہاکہ مشرقی ایشیا کے ملکوں منجملہ ویتنام کے ساتھ تعلقات کی تقویت ہمیشہ ایران کے نزدیک خاص اہمیت کی حامل رہی ہے اور ویتنام مشرقی ایشیا میں ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے -

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران اور ویتنام کے درمیان اقتصادی تعلقات کی توسیع کے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں اور اس کے لئے بینکینگ کے شعبے میں تعاون کی تقویت ضروری ہے -

انہوں نے ایران اور ویتنام کے صدور کے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کی توسیع اور تقویت کے لئے دونوں ملکوں کے سیاسی عزم و ارادے کاغماز قراردیا اور کہا کہ ایرانی عوام ، ویتنام کے دوست اور دلیر و ثابت قدم عوام سے اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے پر زور دیتے ہیں -

ویتنام کے وزیراعظم نگوین شوان پوک Nguyen Xuan PHUC  نے بھی اس ملاقات میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات اور انہیں مستحکم بنانے کو خاص اہمیت دیتاہے کہا کہ ہنوئی دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو دوارب ڈالر سے زیادہ اوپر لے جانے کے لئے پوری کوشش کرے گا -

ویتنام کے وزیراعظم نے بھی ایٹمی معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں اور بلاشبہہ ایران کے صدر کا دورہ ویتنام، تہران اور ہنوئی کے تعلقات میں استحکام کی راہ میں سنگ میل ثابت ہوگا -


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram