قم میں عظمت نہج البلاغہ پر سمینار کا انعقاد+ تصاویر

قم میں عظمت نہج البلاغہ پر سمینار کا انعقاد+ تصاویر

موسسہ فکر اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مقبول علوی صاحب نے سمینار میں تقریر کرتے ہوئے نہج البلاغہ کی عظمت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جس طرح امیر المومنین اپنے زمانے میں مظلوم تھے اسی طرح آج ان کا کلام بھی مظلوم ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے گہوارہ علم و دانش سرزمین قم میں گزشتہ روز ’’موسسہ فکر اسلامی‘‘ کی جانب سے مدرسہ امام خمینی(رہ) میں عظمت نہج البلاغہ کے عنوان سے ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں آیت اللہ سید جمال الدین دین پرور نے خصوصی خطاب کیا۔
موسسہ فکر اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مقبول علوی صاحب جو لندن سے تشریف لائے تھے نے سمینار میں تقریر کرتے ہوئے نہج البلاغہ کی عظمت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جس طرح امیر المومنین اپنے زمانے میں مظلوم تھے اسی طرح آج ان کا کلام بھی مظلوم ہے۔
انہوں نے موسسہ فکر اسلامی کی کارکردگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۰۴ سے اب تک اس موسسہ کی جانب سے منعقدہ مختلف مقالہ نویسی کے مقابلوں میں نہج البلاغہ سے متعلق ۶۲ عناوین پر ۷۵۰ مقالے تحریر کئے گئے ہیں جو چار کتابوں کی صورت میں منظر عام پر آ چکے ہیں۔
انہوں نے طلاب اور علماء کو نہج البلاغہ کے مفاہیم پر علمی کاوشیں انجام دینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص نہج البلاغہ کے حوالے سے مقالہ تحریر کرے گا یا کتاب تالیف کرے گا تو اس کی محنت کو رایگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ موسسہ فکر اسلامی اسے زیور چاپ سے آراستہ کرے گا۔
انہوں نے اہل سنت کے نزدیک نہج البلاغہ کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ نہج البلاغہ کے سنی مفسر ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو اپنی زندگی میں دو سو مرتبہ مطالعہ کیا اور ہر بار نئے مفاہیم میرے ذہن میں آئے۔
سیمنار کے خصوصی خطیب آیت اللہ دین پرور نے نہج البلاغہ کے موضوع پر سمینار منعقد کرنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ اگر کوئی ہمارے لیے رھگشاہ اور مشکل کشا ہے وہ مولا امیر المومنین کا کلام ہے۔
بین الاقوامی ادارہ نہج البلاغہ کے سربراہ نے نہج البلاغہ کی سندی اور روائی بحث کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت کے بزرگ دانشور ابن ابی الحدید نے ثابت کیا ہے کہ نہج البلاغہ مکمل طور پر امیر المومین علی علیہ السلام کا کلام ہے۔
انہوں نے نہج البلاغہ کے مولف سید رضی کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سید رضی بزرگ عالم دین، فقیہ اور حدیث شناس تھے لہذا انہوں نے جو بھی کلام نہج البلاغہ میں جمع کیا ہے وہ صحیح السند ہے اور اس میں کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا جس کی ایک دلیل یہ ہے کہ سید رضی نے چوتھی صدی ہجری میں نہج البلاغہ کو مرتب کیا اور چھٹی صدی ہجری تک کسی نے بھی اس کتاب پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اس سمینار کے آخر میں موسسہ فکر اسلامی کی جانب سے مقالہ نویسی کے مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو نفیس انعامات سے نوازا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram