2016 ریو اولمپک: نئے ریکارڈ اور اعداد و شمار کی روشنی میں

2016 ریو اولمپک: نئے ریکارڈ اور اعداد و شمار کی روشنی میں

ریو اولمپک دو ہزار سولہ کے تعلق سے نئے ریکارڈ دیکھنے میں آئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برازیل کے ساحلی شہر "ریودو جنیرو" میں ہونے والے اکتیسویں اولمپک میں شریک کھلاڑیوں نے جو ریکارڈ بنائے ہیں وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے خاصے منفرد ہیں۔ اولمپک دو ہزار سولہ میں دنیا کے دو سو چھے ملکوں کے دس سے زیادہ کھلاڑیوں نے مختلف نوعیت کے اٹھائیس کھیلوں میں حصہ لیا۔ ان کھیلوں کے اختتام پر جن اعداد و شمار کا اعلان کیا گیا ان کے تحت امریکا نے سونے کے چھیالیس، چاندی کے سینتیس اور کانسی کے اڑتیس تمغے حاصل کئے اور مجموعی طور پر ایک سو اکیس تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر رہا۔ دوسرے نمبر آنے والے برطانوی کھلاڑیوں نے سونے کے ستائیس، چاندی کے تئیس اور کانسی کے سترہ تمغے جیتے، اس طرح برطانیہ نے مجموعی طور سڑسسٹھ تمغے حاصل کئے۔ تیسرے نمبر پر چین رہا جس نے سونے کے چھبیس، چاندی کے اٹھارہ اور کانسی کے چھبیس تمغے جیتے۔ مجموعی طور پر چین نے ستر تمغے حاصل کئے۔ روس، جرمنی، فرانس اور جنوبی کوریا باالترتیب چوتھے سے آٹھویں نمبر رہے۔ چونسٹھ کھلاڑیوں کے کوٹے کے ساتھ ایران نے ترسٹھ کھلاڑیوں کو ریو اولمپک میں اتارا جنہوں نے مختلف نوعیت کے چودہ کھیلوں میں حصہ لیا۔ ایرانی کھلاڑیوں نے سونے کے تین چاندی کا ایک اور کانسی کے چار تمغے حاصل کئے۔ ایران مجموعی طور پر آٹھ تمغے حاصل کرکے پچیسویں نمبر رہا۔ اولمپک میں چونکہ سونے کے تمغے کو معیار مانا جاتا ہے اس لئے اولمپک دو ہزار بارہ سے موازنے میں برطانیہ اور چین کی پوزیشن تبدیل ہو گئی۔ امریکا نے پانچ سو چون کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا جن میں سے دو سو بانوے خواتین تھیں، اس طرح خاتون کھلاڑیوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکا پہلے نمبر رہا، برطانیہ نے تین سو چھیاسٹھ اور چین نے چار سو تیرہ کھلاڑیو کے ساتھ ریو اولمپک دو ہزار سولہ میں شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram