چین کے مجسمہ جنگ نے امریکہ کے مجسمہ آزادی کو پیچھے چھوڑ دیا

چین کے مجسمہ جنگ نے امریکہ کے مجسمہ آزادی کو پیچھے چھوڑ دیا

چین نے ایک ہزار تین سو بیس ٹن وزنی اور اٹھاون میٹر اونچے مجسمے کی رونمائی کی ہے جو امریکہ کے مجسمہ آزادی سے بارہ میٹر بلند ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق چین نے ایک ہزار تین سو بیس ٹن وزنی اور اٹھاون میٹر اونچے مجسمے کی رونمائی کی ہے جو امریکہ کے مجسمہ آزادی سے بارہ میٹر بلند ہے۔

جنگ کے دیوتا کے نام سے مشہور یہ مجسمہ در اصل قدیم چین کے ہان شاہی سلسلہ کے سپہ سالار گوآن یو کا مجسمہ ہے جس نے چین کی خانہ جنگی میں اہم کردار ادا کیا ہے جو ہان سلسلے کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ کانسی کا ہیبت ناک اور جنگ کے لیے تیار یہ مجسمہ چین کے وسطی شہر جیانگژو میں نصب کیا گیا ہے۔

اس دیو ہیکل سپہ سالار کے قدموں تلے آٹھ ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا گوآن یومیوزیم واقع ہے جو دراصل قدیم چین کی ایک جنگی کشتی کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ قدیم چین کا یہ دیو مالائی کردار دراصل ایک قدیم جنگی کشتی کے عرشے پر کھڑا ہے۔

اگر چہ جنگ کے دیوتا کا یہ مجسمہ، چین ہی میں واقع دنیا کے سب سے بڑے مجسمے یعنی گوتم بدھ کے مجسمے سے کوسوں دور نصب ہے لیکن جنگ کے لیے آمادگی و تیاری کی حالت نے، کانسی کے اس شمشیر بردار مجسمے کو بالکل منفرد بنا دیا ہے۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram