لبنانی وزیر خارجہ:

امریکی صدر نے عربوں کی خاموشی دیکھ کر امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا

امریکی صدر نے عربوں کی خاموشی دیکھ کر امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا

لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر عرب ممالک خاموش نہ ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ نہ کرتے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل نے المیادین نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر عرب ممالک خاموش نہ ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ نہ کرتے۔

جبران باسیل نے کہا کہ عربوں نے ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کی جس کی وجہ سے ٹرمپ نے القدس پر ایسا فیصلہ کرنے کی جرات کی.

انہوں نے مزید کہا کہ القدس اور مسئلہ فلسطین پر عرب ممالک کا مؤقف کمزور اور غیرموثر ہے اور اس حوالے سے ان ممالک کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں.

شام کی صورتحال کے حوالے سے لبنانی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام اور لبنان کی مشترکہ مزاحمت نے دونوں ممالک کو تقسیم کرنے کی سازش کو ناکام بنادیا.

جبران باسیل نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہم شام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس مقصد کے لئے شام کے لئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کرتے ہیں.

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram