منافقین کی خصوصیات (۳)

منافقین کی سیاسی خصوصیات

منافقین کی سیاسی خصوصیات

دینی ثقافت میں منافق کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟

اجنبیوں کے ساتھ دوستی [اور کفار کو فائدہ پہنچانا]
سورہ مجادلہ، آیت 14:
"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ؛ کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اتحاد عمل کیا ہے اس جماعت سے جس پر اللہ کا غضب ہے، نہ وہ ان میں سے ہیں اور نہ تم میں سے اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں"۔
فتنہ انگیزی:
سورہ توبہ، آیات 47 اور 48:
"لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً ولأَوْضَعُواْ خِلاَلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُاْ الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ الأُمُورَ حَتَّى جَاء الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ؛ اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکلتے تو تم میں بس خرابیوں میں اضافہ کرتے اور تمہارے درمیان گھوڑے دوڑاتے اس کوشش میں کہ تم میں فتنہ و فساد برپا ہو اور تم میں ایسے ہیں جو ان کی خوب سنتے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔ وہ پہلے بھی فتنہ پردازی کے خواہاں رہے ہیں اور آپ کے لیے معاملات کو درہم و برہم کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق سامنے آ گیا اور اللہ کی بات غالب آ گئی، درصورت یہ کہ وہ ناپسند کرتے تھے"۔
موقع پرستی:
سورہ نساء، آیت 141:
"الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّهِ قَالُواْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً ۔ وہ جو تمہارے ساتھ موقع پر نظر رکھتے ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ہو گئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کچھ کامیابی ہو گئی تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر قابو نہ رکھتے تھے پھر بھی ہم نے مسلمانوں سے تمہاری حفاظت نہیں کی۔ اب اللہ ہی تمہارے درمیان روز قیامت فیصلہ کرے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مسلمانوں پر دسترس قرار نہیں دے گا"۔  
سورہ احزاب، آیات 19 و 20:
"أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاء الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ أُوْلَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً ۔ يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا وَإِن يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنبَائِكُمْ وَلَوْ كَانُوا فِيكُم مَّا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلاً؛ بخل کرتے ہوئے تمہارے اوپر تو جب خوف کا موقع آئے تو تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں، دیدے گھما گھما کے جیسے وہ آدمی جسے موت کی سختی سے غش آ جائے۔ اس کے بعد جب خوف چلا جائے تو تیز زبانوں سے تم لوگوں کو باتیں سنائیں گے۔ دولت کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے ۔ ان فوجوں کو وہ سمجھتے ہیں کہ گئی نہیں ہیں اور اگر وہ فوجیں آ جائیں تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ صحرائی عربوں کے ساتھ رہ کر جنگلوں میں تمہاری خبریں دریافت کرتے ہوتے۔ اور اگر وہ تم میں ہوتے تب بھی جنگ نہ کرتے مگر بہت کم"۔
نفسیاتی جنگ معرض وجود میں لانا:
سورہ نساء، آیت 83:
"وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلاَّ قَلِيلاً؛ اور جب ان کے سامنے امن و امان یا خوف اور اندیشے کی کوئی بات آتی ہے تو اور اسے مشہور کر دیتے ہیں، حالانکہ اگر اس میں رجوع کریں پیغمبر کی طرف اور فرمانروائی کا حق رکھنے والوں کی طرف جو ان میں سے ہوں تو اسے جان لیں وہ لوگ جو ان میں سے اس کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں اور اگراللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تو سوا تھوڑے سے آدمیوں کے تم سب شیطان کی پیروی کرتے"۔
سورہ احزاب، آیت 60:
"لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلاً؛ اگر باز نہ آئے منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینے میں غلط افواہیں پھیلانے والے تو ہم آپ کو ان کے خلاف حرکت میں لے آئیں گے، پھر وہ اس (مدینہ) میں آپ کے پاس نہ رہ سکیں گے مگر بہت کم"۔
دین کا فیصلہ اور دین کی حاکمیت کو تسلیم نہ کرنا:
سورہ نساء، آیات 60 اور 61:
"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيداً ۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُوداً؛ کیا آپ نے نہیں دیکھا انہیں جن کا دعوی یہ ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر بھی جو آپ پر اتارا گیا ہے اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتارا گیا تھا۔ پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ حکومت باطل کے پاس وہ مقدمے لے جائیں۔ حالانکہ انہیں حکم یہ ہے کہ وہ اس کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں گمراہی میں مبتلا کرے ۔ اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور پیغمبر کی طرف تو منافقین کو دیکھئے گا کہ وہ آپ سے شدت کے ساتھ روگردانی کریں گے"۔
ولایت کے احکامات کی عملی مخالفت کرنا:
سورہ نور، آیات 62 و 63:
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاء بَعْضِكُم بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ؛ ایمان والے بس وہ ہیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہوں اور جب اس (پیغمبر) کے ساتھ کسی مشترک معاملہ پر غور میں مصروف ہوں تو جائیں نہیں جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، یقینا وہ جو آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں، وہ یہ ہیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں تو جب وہ آپ سے اپنی کچھ ضروریات کی وجہ سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے چاہیے اجازت دے دیجئے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کیجئے، بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے، بڑا مہربان ۔ نہ بناؤ پیغمبر کے پکارنے کو اپنے درمیان اس طرح جیسے تم میں سے ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ اللہ جانتا ہے تم میں کے ان لوگوں کو جو پناہ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں تو ڈرنا چاہیے انہیں جو اس کے حکم سے انحراف کرتے ہیں اس بات سے کہ پہنچے انہیں کوئی آزمائش یا پہنچے انہیں دردناک عذاب"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram