حرم امیرالمؤمنین(ع) کے گھڑیال والے مینار کی دلچسپ تفصیلات

حرم امیرالمؤمنین(ع) کے گھڑیال والے مینار کی دلچسپ تفصیلات

گھڑیال کے اندر تین بہت بڑی گھنٹیاں ہیں، گھڑیال کی گھنٹی ہر 15 منٹ بجتی ہے۔ مینار کے اوپر کا چھوٹا گنبد آٹھ چھوٹے سنہری ستوںوں پر استوار ہے۔ یہ آمنے سامنے واقع ستون چار چھوٹے برآمدوں کی تشکیل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حرم علوی کے صحنِ ساعت میں واقع گھڑیال اہل بیت علیہم السلام کے حرم ہائے شریفہ میں نادر اور اپنی مثال آپ ہے۔ یہ گھڑیال ایک چھوٹے سنہری گنبد کے انتہائی بلندی پر دکھائی دیتا ہے۔ (1)
گھڑیال کے اندر تین بہت بڑی گھنٹیاں ہیں، گھڑیال کی گھنٹی ہر 15 منٹ بجتی ہے۔ مینار کے اوپر کا چھوٹا گنبد آٹھ چھوٹے سنہری ستوںوں پر استوار ہے۔ یہ آمنے سامنے واقع ستون چار چھوٹے برآمدوں کی تشکیل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
یہ ستون ایک مربع شکل کی بنیاد پر کھڑے ہیں جو درحقیقت گھڑیال والے کمرے کی چھت ہے۔ کمرے کے اندر گھڑیال اور اس کے کل پرزے اور گئیر  لگے ہوئے ہیں۔ یہ برطانوی ساخت کا گھڑیال 1305 ہجری [1888ع‍] میں ایرانی بادشاہ ناصرالدین شاہ قاجار کے ایک وزیر امین الملک نے حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام کو بطور ہدیہ پیش کیا ہے۔
گھڑیال کی مشین مستطیل شکل کی ہے اور اس کی اونچائی دو میٹر ہے جو افقی شکل میں کمرے کے فرش پر رکھا گیا ہے۔ اس گھڑیال کے اوپر ایک عمودی سلاخ قرار دی گئی ہے جو قوت محرکہ کو مشین سے چار اسکرینوں کی طرف منتقل کرتی ہے۔
ایک بہت بڑا پنڈولم گھڑیال سے پیوست ہے اور مشین کے نیچے کے دوسرے چھوٹے کمرے کی طرف لٹکا ہؤا ہے۔ دوسرے کمرے میں گھڑیال کے اوپر کی طرف ایک عمودی سیڑھی نصب کی گئی ہے۔
گھڑیال والے مینار کی اونچائی ـ چھت کے فرش سے لے کر لفظ جلالہ (اللہ) تک جو کہ مینار کے گنبد کے اوپر واقع ہے ـ 14/75میٹر ہے۔ گھڑیال برج (Clock tower) کا ڈھانچہ لکڑی کا بنا ہؤا ہے۔
گھڑیال والے مینار کی تعمیر نو کے منصوبے کے تحت اس کے ڈھانچے کو لوہے کے گاڈر کے ذریعے مستحکم کیا گیا اور اس کی دیواروں کو معرق کاشیوں کے ذریعے خوبصورت بنایا گیا۔ گھڑیال والے مینار کی دیواروں پر لگے معرق کاشیوں کے لگے کتبوں کی تفصیل یہ ہے:
شمال کی طرف:  "أشهَدُ أَنّ عَلیاً حُجَّةُ الله" ـ "عَلِیٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِیٍّ" ـ "يَا حِرْزَ مَنْ لا حِرْزَ لَهُ"۔
مشرق کى طرف: "اشْهَدُ انَّ عَلِیّاً وَلِیُّ اللّٰهِ" ـ "عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ" ـ "يَا ذُخْرَ مَنْ لا ذُخْرَ لَهُ"۔
مغرب کى طرف: "اشْهَدُ انَّ عَلِیّاً وَلِیُّ اللّٰهِ" ـ "عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ" ـ "يَا ذُخْرَ مَنْ لا ذُخْرَ لَهُ"۔
جنوب کى طرف: "أشهَدُ أَنّ عَلیاً حُجَّةُ الله" ـ "عليٌ رَايَةُ الْإَيمَانِ ومَنارَةُ الْهُدَى" ـ "يَا غَوْثَ مَن لا غَوْثَ لَهُ"۔ (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادداشتیں:
1. گھڑیال والے مینار کی دیواروں کو سنہ 1323 ہجری میں دہات کی پلیٹوں سے ڈھانپا گیا جن پر سونے کا پانی چڑھایا گیا تھا۔ اس کار خیر کا بانی شہر تبریز کا ایک مخیر شخص تھا۔ اس زمانے میں طلاکاری کے اس کام پر 20000 دینار کے اخراجات آئے تھے۔ (مشهد الامام علي، سعاد ماهر، ص176). الحلفی اپنی کتاب "لمحات تاریخیة عن مشهد الامام علي" میں لکھتا ہے کہ آیت اللہ امام سید محمود الشاہرودی نے اپنے ذاتی خرچے سے سنہ 1393ہجری میں اس مینار پر طلاکاری کا کام کروایا۔ شیخ علی الشرقی لکھتا ہے کہ یہ حرم مطہر کا پہلا گھڑیال نہیں تھا اس سے قبل بھی ایک گھڑیال تھا لیکن چونکہ یہ گھڑیال بہتر تھا چنانچہ پرانا گھڑیال اٹھایا گیا۔ پہلے گھڑیال کی تنصیب کی تاریخ ثبت نہیں ہوئی ہے۔ (المفصل، حسن الحکیم 114:2)۔
انتهای پیام/
2۔ کتب تاریخ، حدیث و دعا
    


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram