ڈاکٹر طاہر القادری کا 7 سالہ زینب کے قاتل کی گرفتاری تک قصور میں قیام کا فیصلہ

ڈاکٹر طاہر القادری کا 7 سالہ زینب کے قاتل کی گرفتاری تک قصور میں قیام کا فیصلہ

عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 7 سالہ زینب کے قاتل کی گرفتاری تک قصور میں قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق 7 سالہ زینب کے والد عوامی تحریک کے ملازم ہیں اور بچی کی نماز جنازہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری ادا کریں گے۔

عوامی تحریک کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ معصوم بچی کے قاتل کی گرفتاری تک قصور میں کریں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلائے بغیر نہیں جائیں گے۔

واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا، اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔

واقعے کے بعد پولیس نے زینب کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچی کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

واقعہ کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا ۔ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں، کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔

واقعے سے متعلق ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا ہے کہ پولیس بچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک میں ملوث درندہ صفت انسان کی گرفتاری کے لیے ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ اب تک 5 ہزار لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے جب کہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہے، زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram