پشاور یونیورسٹی کی کشیدگی کے اسباب و عوامل

پشاور یونیورسٹی کی کشیدگی کے اسباب و عوامل

پشاور یونیورسٹی کے طلباء پر پولیس کیجانب سے ہونیوالے تشدد کو کسی بھی صورت درست اور مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ تعلیمی اداروں کا اپنا پروٹوکول اور تقدس ہونا چاہیئے اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بھی عام بچے نہیں ہوتے بلکہ وہ یہاں سے فارغ ہوکر ہمارے اداروں اور معاشرے کو چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر شیئر کی گئیں ہیں، وہ یہ بتانے اور دکھانے کیلئے کافی ہیں کہ پولیس اور انتظامیہ نے غیر ضروری سختی اور تشدد سے کام لیا ہے۔ اگر حکام چاہتے تو وہ متحدہ طلباء محاذ کے لیڈروں سے مذاکرات اور بات چیت کرکے معاملات کو پرامن طریقے سے نمٹا سکتے تھے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: پشاور یونیورسٹی کی کشیدگی کے اسباب اور وجوہات جو بھی ہوں، پشاور یونیورسٹی کے طلباء پر پولیس کی جانب سے ہونے والے تشدد کو کسی بھی صورت درست اور مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ تعلیمی اداروں کا اپنا پروٹوکول اور تقدس ہونا چاہیئے اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بھی عام بچے نہیں ہوتے بلکہ وہ یہاں سے فارغ ہو کر ہمارے اداروں اور معاشرے کو چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان اداروں کو ماضی میں دہشت گردوں کے لاتعداد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث ہزاروں بچوں اور بچیوں کی پڑھائی متاثر ہوئی۔ اب جب عوام اور والدین نے پشاور یونیورسٹی طلباء پر ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے پولیس کا لاٹھی چارج اور تشدد دیکھا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی، اس کا محض اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر شیئر کی گئیں ہیں، وہ یہ بتانے اور دکھانے کیلئے کافی ہیں کہ پولیس اور انتظامیہ نے غیر ضروری سختی اور تشدد سے کام لیا ہے۔ اگر حکام چاہتے تو وہ متحدہ طلباء محاذ کے لیڈروں سے مذاکرات اور بات چیت کرکے معاملات کو پرامن طریقے سے نمٹا سکتے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلباء کے خلاف کارروائی اس لئے ہوئی کہ انہوں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی تھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ احتجاج میں وہ آوٹ سائیڈرز شامل تھے، جن کو انتظامیہ کے بقول ہاسٹل سے بے دخل کیا گیا تھا۔ دوسری طرف متحدہ طلباء محاذ کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پُرامن تھا اور وہ فیسوں میں ہونے والے ناروا اضانے، سہولیات کے فقدان اور ہاسٹلز کی کمی اور کئی ہفتوں سے انتظامیہ سے رابطے میں تھے، مگر حکام ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھے اور طلباء کیلئے فیسوں کی ادائیگی ناممکن ہوگئی تھی، اس لئے پرامن احتجاج کی کال دی، جو ان کا جمہوری حق تھا۔ مگر انتظامیہ نے پولیس کو بلا کر تشدد کا راستہ اپنایا، جس نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی یا افسوس ناک واقعے پر طلباء کے علاوہ سیاسی کارکنوں، پارٹیوں اور سول سوسائٹی نے زبردست تنقید کی ہے۔ تنقید کرنے والوں میں تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹس اور کارکن بھی شامل ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انتظامیہ اور پولیس نے غلط حکمت عملی کے ذریعے اس مسئلے کو خراب کر دیا اور غالباََ اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے ایک انکوائری کا عندیہ دیا ہے، تاکہ معاملے کی تحقیقات ہوں۔

انتظامی کا یہ موقف درست نہیں ہے کہ وہاں احتجاج کرنے والے آؤٹ سائیڈرز یا طلباء تنظیموں کے کارکنان تھے، سچی بات یہ ہے کہ اکثریت ریگولر اسٹوڈنٹس تھے اور آؤٹ سائیڈرز کو کئی روز قبل نکالا جاچکا تھا، جس کا متحدہ طلبہ محاذ نے اس لئے خیر مقدم کیا تھا کہ ریگولر اسٹوڈنٹس کو خود کمروں کے حصول میں آؤٹ سائیڈرز کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ جہاں تک طلباء تنظیموں کی موجودگی کا تعلق ہے ان پر پابندی نہیں لگائی جاسکی، کیونکہ یہ تنظیمیں ہر یونیورسٹی میں موجود ہوتی ہیں اور طلباء ان سے اس لئے رجوع کرتے ہیں کہ انتظامیہ میرٹ کی بنیاد پر اسٹوڈنس کے مسائل حل نہیں کرتی۔ فیسوں میں اضافے کا سلسلہ اور مسئلہ کئی برسوں سے چلا آرہا ہے اور واقف حال حلقوں کا کہنا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کی فیسیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ہاسٹلز کی سہولیات ناکافی ہیں، مگر اب کی بار ان میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی شاہ خرچیاں، ملازمین کی موج اور اساتذہ کے غیر ملکی دورے عروج پر ہیں اور ان تمام اخراجات کو مڈل کلاس اور لوئر کلاس اسٹوڈنٹس کی فیسوں کے ذریعے چلانے کی شکایات بہت عام ہیں۔

تمام یونیورسٹیوں میں انتظامیہ کی شاہ خرچیوں پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے، بلکہ متعدد وائس چانسلرز، ڈین حضرات اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف ہراساں کرنے سمیت بدعنوانی کے الزامات بھی عام سی بات بن گئی ہے۔ میرٹ کی خلاف ورزی کا کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا، جبکہ یہ شکایات بھی بہت عام ہیں کہ فی میل اسٹوڈنٹس کو ہراسمنٹ سمیت بعض ایسی مشکلات کا بھی سامنا ہے، جن کا ذکر تحریری صورت میں نہیں کیا جاسکتا۔ مختلف قسم کے مافیاز نے بھی تعلیمی اداروں کو پراگندہ کرکے رکھ دیا ہے۔ بہرحال اس معاملے کی نہ صرف تحقیقات ہونی چاہئیں بلکہ جن مسائل کا اسٹوڈنٹس کو سامنا ہے، ان کے مستقل حل کیلئے طلباء اور انتظامیہ پر مشتمل ایک فورم تشکیل دینا چاہیئے، جس میں صوبائی حکومت اور پیوٹا کے نمائندگان کا ہونا بھی لازمی ہوتا کہ مسائل کا حل نکالا جائے اور دوطرفہ شکایات اور کشیدگی کا بھی خاتمہ ہو۔ ہائیر ایجوکیشن کا وزیر بھی کابینہ میں شامل نہیں ہے، اس مسئلے کا حل نکلنا بھی لازمی ہے، تاکہ یونیورسٹیوں کے معاملات کو موثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ جن پولیس افسران نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، ان سے بھی بازپرس بھی کی جانی چاہیئے، کیونکہ حالیہ واقعے نے مثالی پولیس کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔

رپورٹ: ایس علی حیدر

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram