پاراچنار میں قدس جلوس کا پرامن انعقاد + تصاویر

پاراچنار میں قدس جلوس کا پرامن انعقاد + تصاویر

آقائے حسینی نے پاراچنار میں ہونے والے پے درپے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں دھماکے ہوئے۔ حکومت نے کئی دھماکوں اور سہولتکاروں کی نشاندھی بھی کی، مگر آج تک کسی سہولتکار کو سزا نہیں ملی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام خمینی اور ان کے سچے جانشین آیۃ اللہ خامنہ ای کے حکم پر اسرائیل کے ظلم و بربریت نیز فلسطین کی مظلوم قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف کل جمعہ کو پوری دنیا کے ملک ملک اور شہر شہر میں یوم القدس کے نام پر احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے مغربی سرحدی شہر پاراچنار میں بھی تحریک حسینی کے زیر اہتمام اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی کی قیادت میں ایک عظیم الشان جلوس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں علاقائی تنظیموں، علمائے کرام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

جلوس کیلئے سکیورٹی کے انتظامات:
جلوس سے کئی روز قبل پاراچنار میں چار خودکش بمباروں کے داخلے کی افواہ پھیلی ہوئی تھی۔ چنانچہ پاراچنار کے داخلی راستوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ ہر آنے جانے والی کی کڑی تلاشی لی جاتی تھی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ خودکش کی افواہ جلوس کو ناکام کرنے کے لئے پھیلائی گئی تھی، تاہم حقیقت جو بھی ہو، پاک فوج اور اسکی اعلٰی قیادت نے سکیورٹی میں حتی الامکان تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے کا اہتمام کیا۔ آج جمعہ کو پاراچنار میں گاڑیوں کے داخلے کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ پھاٹکوں سے مسافروں کو سرکاری گاڑیوں میں شہر لایا جاتا تھا۔

قدس جلوس کی برآمدگی:
جلوس نماز جمعہ کے فوراً بعد 2 بجے مدرسہ رہبر معظم انقلاب پاراچنار سے برآمد ہوا اور اپنے مقررہ راستوں، خامنہ ای روڈ، شنگک روڈ، کشمیر چوک، کڑمان اڈہ، نظربندی چوک وغیرہ سے ہوتا ہوا شہید پارک پہنچ گیا۔ جہاں جلوس نے جلسے کی شکل اختیار کرلی۔ اس موقع پر تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی علامہ سید عابد حسین الحسینی، صدر تحریک مولانا یوسف حسین جعفری، مولانا سید کوثر شیرازی نے خطاب کیا۔ علامہ سید عابد حسین الحسینی نے فلسطینوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل اور اسکی پشت پر موجود ممالک، امریکہ، یورپ خصوصاً عرب ممالک کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انہی ممالک کی ایماء پر فلسطین میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے غیرت عرب اور کچھ دیگر اسلامی ممالک یمن کی مظلوم قوم کے خلاف ایکا کرکے دن رات ایک کرکے انکے خلاف طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ یہی ممالک فلسطین کے خلاف اسرائیل کے مظالم پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انکی اپنی مرضی نہیں، ہر کام کے لئے انہیں امریکہ، اسرائیل اور یورپ سے این او سی لینا پڑتا ہے۔

عرب ممالک خصوصاً سعودیہ ہمیشہ سے امریکہ اور اسرائیل کے حکم پر ہر اقدام کرتا ہے۔ یمن، شام، عراق، افغانستان اور پاکستان میں امریکہ اور دیگر آقاؤں کے اشارے پر اس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ امریکہ اپنا بیکار اور پرانا اسلحہ زبردستی سعودی عرب کو فروخت کرکے ایک طرف اپنی معیشت کو سہارا دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی اسلحہ سے اسرائیل کے دشمن مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ علامہ حسینی نے ارجنٹائن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ارجنٹائن ایک غیر مسلم ملک ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے اپنا فٹ بال میچ اس وقت منسوخ کر دیا، جب فلسطینی جوانوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ گراؤنڈ انکی آبادیوں کو گرا کر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ یہاں پر کسی قسم کے کھیل کو انکے جسموں اور انکے خون پر کھیل تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارباب انصاف سے استفسار کرتے ہیں کہ یہ کافر ملک ارجنٹائن بہتر ہے یا سعودی عرب اور اسکے دیگر اتحادی عرب اور مسلم ممالک بہتر ہیں۔ جو اسرائیل کا بائیکاٹ، اسکی مذمت اور مخالفت تو کیا، اسکے کہنے پر مقاومتی گروہوں حزب اللہ اور حماس کو دہشتگرد قرار دیتے ہیں۔

آقائے حسینی نے پاراچنار میں ہونے والے پے درپے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں دھماکے ہوئے۔ حکومت نے کئی دھماکوں اور سہولتکاروں کی نشاندھی بھی کی، مگر آج تک کسی سہولتکار کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد یا علاقوں نے خودکش بمباروں کو سہولت فراہم کی، ان کے خلاف اگر کارروائی عمل میں آتی تو زندگی بھر یہاں کوئی دھماکہ نہ ہوتا۔ صدر تحریک حسینی مولانا یوسف حسین جعفری نے کہا کہ قدس مسلمانوں کا اولین قبلہ ہے، جس پر یہودیوں نے زبردستی قبضہ جما لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بھی ہمارے اور دیگر اقوام کے الگ الگ حقوق ہیں۔ چنانچہ حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر فریق کو کاغذات مال کی روشنی میں اپنے اپنے حقوق دیئے جائیں۔ انہوں نے آخر میں سول اور فوجی انتظامیہ خصوصاً بریگیڈیئر اختر علیم اور پی اے کرم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ سکیورٹی اداروں، پولیس اور فوج کی جانب سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے پر صدر تحریک نے انکا شکریہ ادا کیا۔ جلوس کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں کو نذر آتش کیا گیا اور آر پی چوک، پیواڑ اڈہ، جیل روڈ، پنجابی بازار سے ہوتا ہوا جلوس مرکزی امام بارگاہ پہنچ گیا۔ مرکزی امام بارگاہ میں علامہ سید محمد حسین طاہری نے مصائب امام حسین علیہ السلام اور دعائے امام زمانہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram