مولانا سمیع الحق کے قتل میں قریبی افراد ملوث : پولیس ذرائع

مولانا سمیع الحق کے قتل میں قریبی افراد ملوث :  پولیس ذرائع

مولانا سمیع الحق کی لاش کا معائنہ کرنے والے پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق کےقاتل قریبی لگتے ہیں جو پرسکون انداز میں گھر میں داخل ہوئے اورجنھوں نے مولانا کو بہیمانہ اندا ز میں چہرے ، چھاتی اور بازوں پر چھریوں کے کٹ لگا کر اذیت ناک طریقہ سے قتل کردیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی لاش کا معائنہ کرنے والے ایک پولیس افسر کا دعویٰ ہے کہ مولانا سمیع الحق کےقاتل قریبی لگتے ہیں جو پرسکون انداز میں گھر میں داخل ہوئے اورجنھوں نے مولانا کو بہیمانہ اندا ز میں چہرے ، چھاتی اور بازوں پر چھریوں کے کٹ لگا کر اذیت ناک موت کے گھاٹ اتارا دیا۔ جمعیت علما ئے اسلام (س) کے سربراہ سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں نے انتہائی نفرت اور انتقام کا مظاہرہ کیا ہے مولانا کو بہیمانہ اندا ز میں چہرے ، چھاتی اور بازوں پر چھریوں کے کٹ لگا کر اذیت ناک موت کے گھاٹ اتارا گیا مولانا سمیع الحق کے جسد خاکی کا معائنہ کرنے والے ایک پولیس افسر کا دعویٰ ہے کہ قاتل قریبی لگتے ہیں جو پرسکون انداز میں گھر میں داخل ہوئے پہلے اپنی پیاس بجھائی اور اس کے بعد ہدایت پر عمل کیا انہیں معلوم تھا کہ مولانا سمیع الحق گھر پر اکیلے ہی ہیں مولانا کا گن مین اور ڈرائیور بھی پر اعتماد ہونے کی وجہ سے انہیں اکیلا چھوڑ کر گھر سے چلے گئے ۔ پولیس کے سینئر تفتیشی افسروں کے مطابق گھریلو ملازمین گن مین اور ڈرائیورکو شامل تفتیش کئے بغیر بات آگے نہیں چلے گی کہا جاتا ہے کہ مولانا سمیع الحق کو طالبان دہشت گرد تنظیم کو معنوی باپ سمجھا جاتا تھا پولیس کے مطابق مولانا سمیع الحق کو قتل کرنے والے بہت ہی قریبی لگتے ہیں جو گھر کے پورے ماحول سے واقف تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق نے مولانا کے قتل میں افغانستان کے ملوث ہونے کا خدشہ ظآہر کیا ہے کیونکہ مولانا سمیع الحق افغان طالبان کے بڑے حامی تھے اور وہ افغانستان میں طالبان کے حکومت کے طرفدار تھے انھیں افغان اور پاک طالبان دہشت گرد تنظیموں کا باپ بھی سمجھا جاتا تھا۔

.........

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram