لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ؛ چار دیواری میں مجالس عزاءکیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ؛ چار دیواری میں مجالس عزاءکیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں

لاہور ہائی کورٹ نے چاردیواری میں مجالس عزاکے انعقاد کیلئے اجازت لینے کو مسترد کردیاہے، پولیس حکام امام بارگاہوں اور چار دیواری میں منعقدہ مجالس کو سکیورٹی فراہم کرنے کے پابند ہیں.

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ شہریان پاکستان کے کنونیئرسیدوقارالحسنین نقوی کی سیدمحمد ناصرنقوی ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پرمقدمہ کے فریق ایس ایچ او تھانہ صدر کامونکی سیف اللہ ورک اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل عمر فاروق خان کے روبرو1973 کے آئین پاکستان کےآرٹیکل 204سیکشن 3ایکٹ 2004 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج علی اکبر قریشی نےکہاکہ چار دیواری میں مجالس عزاءکیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ،پولیس حکام امام بارگاہوں اور چار دیواری میں منعقدہ مجالس کو سکیورٹی فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے محرم الحرام کےآغاز کے ساتھ ہی لاہور اور دیگر شہروں میں عزاداران امام حسین ؑ اور بانیان مجالس کو بلاجواز ہراساں کرنا شروع کردیا تھا ، گلبرک ، کامونکی اور دیگر علاقوں میں گھروں اور امام بارگاہوں میں منعقدہ سالانہ تاریخی مجالس عزاکے اختتام میں معمولی سی بھی تاخیر پر صاحب مجلس کو بلاجواز ایف آئی آر کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، جس پر شیعہ شہریان پاکستان کے کنونیئرسیدوقارالحسنین نقوی نے لاہور ہائی کورٹ میں ایس ایچ او تھانہ صدر کامونکی کو فریق بنا کر پٹیشن دائر کی تھی جس پر معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس حکام کو امام بارگاہوں اور چاردیواری میں منعقدہ مجالس میں رکاوٹ ڈالنے سےمنع کیا اور مجالس عزاکو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram