خدشہ ہے کہ مولانا سمیع الحق انکے اپنے ہی لوگوں نے قتل کیا ہے، اہلِسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی

خدشہ ہے کہ مولانا سمیع الحق انکے اپنے ہی لوگوں نے قتل کیا ہے، اہلِسنت والجماعت کے سربراہ  احمد لدھیانوی

اہلِسنت والجماعت کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام ہوگئی تو انکی جماعت دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کیساتھ مشاورت کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کالعدم اہلِسنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے سربراہ احمد لدھیانوی نے حکومت سے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو فوری بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ انہیں ان کے اپنے لوگوں نے قتل کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہلِسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے ملک میں مدرسوں کا نیٹ ورک بڑھانے اور اسے منظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اہلِسنت والجماعت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے مدرسے سے متعدد طالبِ علموں نے تعلیم حاصل کی، جن کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں جنگ میں کار بند ہے اور انہی میں سے متعدد اہم طالبان رہنما بھی ہیں۔ واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ کو ان کے گھر پر چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے تھے۔

خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (س) اور اہلِ سنت والجماعت دونوں ہی دفاع پاکستان کونسل میں موجود ہیں، جس میں پاکستان کی درجنوں دوسری مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران احمد لدھیانوی کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کو قتل کرنے والوں اور اس مذموم کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیئے، چاہے وہ ان کی اپنی جماعت کے ہی لوگ کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ ان کے اور ان کی جماعت کے لئے ایک اہم ترین شخصیت تھے۔ اہلِسنت والجماعت کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام ہوگئی تو ان کی جماعت دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ احمد لدھیانوی نے کہا کہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو لوگ مولانا سمیع الحق کے قریب تھے، وہی ان کے قتل میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں، لیکن جو بھی اس میں ملوث ہو اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر روز دیا کہ خدشہ ہے کہ ان کے اپنے ہی لوگوں نے انہیں قتل کیا، تاہم یہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے احمد لدھیانوی نے کہا کہ چند سال قبل ان کی جماعت کے کارکنان کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں حکام نے کہہ دیا تھا کہ یہ اندرونی کارروائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احمد لدھیانوی نے سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا کی منتظر آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر پارٹی کے ایک اور اہم رہنما اورنگزیب فاروقی اور ممبر پنجاب اسمبلی معاویہ اعظم بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے قتل میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram