جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے یوم تاسیس پرعظیم الشان تقریب کا انعقاد، ڈاکٹر سید کمال خرازی کی غیر متوقع شرکت+ تصاویر

جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے یوم تاسیس پرعظیم الشان تقریب کا انعقاد، ڈاکٹر سید کمال خرازی کی غیر متوقع شرکت+ تصاویر

۱۳ رجب یوم ولادت امیر المومنین علیہ السلام اور یوم تاسیس جامعہ عروۃ الوثقیٰ کی مناسبت سے منعقدہ عظیم الشان تقریب میں ایران کی اسٹریٹیجک کونسل برائے امور خارجہ تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر سید کمال خرازی نے غیر متوقع طور پر شرکت کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق، سرزمین پاکستان کے شہر لاہور میں واقع حوزہ علمیہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ کہ جس میں تقریبا دو ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم و رہائش پذیر ہیں ، میں ۱۳ رجب المرجب اور یوم تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ عظیم الشان جشن میں ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق، تقریب کا انعقاد جامعہ عروۃ الوثقٰی میں تعمیر شدہ مسجد بیت العتیق میں کیا گیا اس مسجد کا شمار ملک کی سب سے بڑی شیعہ جامع مساجد میں کیا جاتا ہے اس مسجد میں بیک وقت ۵۰ ہزار نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے معروف علمائے اہل تشیع و تسنن نے مولائے کائنات امام علی علیہ السلام سے اپنے اپنے انداز میں عقیدت کا اظہار کرنے کے علاوہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ کو مملکت پاکستان میں اسلامی وحدت کا مرکز قرار دیا۔


جشن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر سید کمال خرازی کی غیر متوقع شرکت
رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر سید کمال خرازی جو پاکستان کے سفارتی و سرکاری دورے پر تھے نے غیر متوقع طور پر جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا دورہ کیا اور پروگرام میں شرکت کی۔
 ڈاکٹر خرازی نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کی عمارت اور اس میں قائم مختلف شعبہ جات اور جامعہ کی سرگرمیوں نیز طلاب کے اسلامی انقلاب اور رہبر معظم کے تئیں جوش و جذبے کو دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا۔


 ڈاکٹرخرازی نے  شرکائے محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی شک و شبے کہ یہ تعلیمی مرکز اسلامی انقلاب کی برکتوں کا نتیجہ ہے۔


تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے جامعۃ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد نقوی نے کہا: یہ حوزہ علمیہ جامعہ عروۃ الوثقٰی اس ملت تشیع کے عزم و حوصلے ،جرات و محنت اور کوششوں کی ایک مثال ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملت آزادانہ طور پر بغیر کسی بیرونی امداد و وسائل کے عروۃ الوثقیٰ جیسے قیمتی اثاثے کو آئندہ نسلوں کیلئے تعمیر کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ خود پاکستانی قوم کو بھی یقین نہیں ہوتا کہ یہ اتنا بڑا کام پاکستان میں رہنے والے مومنین نے ہی انجام دیا ہے جب کہ ہماری قوم کا پختہ یقین اس بات پر ہوگیا ہے کہ ہم غیروں کی امداد کے بغیر خود کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ شیعوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے امامت کے دامن کو چھوڑ دیا حالانکہ ہر زمانے کیلئے امامت ہی اسلام کا واحد سماجی و سیاسی نظام ہےچاہے وہ  دورخلافت ہو یا بنی امیہ،بنی عباس، سلطنت عثمانیہ ،آمریت یا جمہوریت ہو لیکن تشیع کا موقف ہردور اور ہر زمانے میں نظام امامت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ جامعہ امید کا مرکز ہے ملت پاکستان کیلئے اور انشاء اللہ مستقبل میں بھی یہ ملت اس جامعہ سے نکلتی ہوئی روشنی کی کرن کو دیکھے گی۔

مزید تصاویر ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلیک کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram