ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچنا چاہیے: محمد رفیع

ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچنا چاہیے: محمد رفیع

قونصلر جنرل رفیع نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ایران چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سالانہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں جشن انقلاب اسلامی ایران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قونصلر جنرل محمد رفیع کاکہنا تھا کہ پاک ایران کے مابین تجارت سرگرمیوں کا حجم 1ارب 50 کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ایران چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سالانہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچے۔

اسلامی انقلاب کی 39 سالگرہ کے موقعے پر محمد رفیع کاکہنا تھا کہ ‘انقلاب اسلامی کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک پاکستان تھا’۔

انہوں نے کہاکہ ‘پاک ایران کی مشترکہ تہذیب، مذہب اور تجارتی تعلقات کا سلسلہ دہائیوں پر مشتمل ہے اور دونوں کی جغرافیائی اور اقتصادی حیثیت خطے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے’۔

ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ صوبہ بلوچستان دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکزی راستہ ہے اور پاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس سے اقتصادی حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘زاھدان میں چیمبر کے آخری اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد تجارتی معاہدے طے پائے’۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے معتلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایرانی سیکیورٹی فورسز خطے میں امن اور استحکام کے لیے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کارروائی کررہی ہیں۔

ایرانی سفارت کار نے زور دیا کہ ‘پروسی ممالک کو خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ترقی کے لیے مثبت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے’۔

ڈان نیوز کے مطابق تقریب میں بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی، صبوئی وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکز میر عاصم، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما حاجی علی مدد، جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالحق ہاشمی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے نائب صدر عبدالولی کاکٹر نے شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram