الیکشن 2018ء، کون کتنا مقبول ہے؟

الیکشن 2018ء، کون کتنا مقبول ہے؟

2013ء کے عام انتخابات میں 4 کروڑ 62 لاکھ 17 ہزار 482 افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور ان میں سے دینی جماعتوں کا حصہ 6.63 فیصد جبکہ ٹاپ تھری جماعتوں (نون لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی) کے حصے میں 63.75 فیصد ووٹ آئے تھے۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2018ء میں تحریک لبیک پاکستان کی آمد کے بعد دینی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کو اتنے بڑے پیمانے پر ووٹ کا ملنا اور وہ بھی کراچی جیسے شہر سے 2 سیٹیں لیکر سندھ اسمبلی تک پہنچنا، کراچی کی سیاسی جماعتوں کیلئے جہاں کئی سوال چھوڑتا ہے، وہیں عوام کے رجحانات بھی واضح ہوتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: الیکشن ہی ایسا موسم ہوتا ہے جب سیاسی پارٹیاں عام آدمی کو اہمیت دیتی ہیں۔ انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے سروے بھی ہوتے ہیں، وہ بھی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن اصل نتیجہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر سامنے آتا ہے۔ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو ملنے والے مجموعی ووٹوں سے ملک کی مقبول ترین جماعت کا تعین ہوتا ہے اور عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو جماعت سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے، وہی ملک میں مقبول ترین جماعت بھی ہوتی ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر بار ایسا ہی ہو۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق عام انتخابات میں ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 60 ہزار تھی، جبکہ مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 51 اعشاریہ 82 فیصد رہا۔ اس حساب سے پورے پاکستان میں 5 کروڑ 49 لاکھ 8 ہزار 472 افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ ہر ووٹر عام طور پر دو (ایک صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کے امیدوار کو) ووٹ کاسٹ کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ ووٹر قومی اور صوبائی اسمبلی پر ایک ہی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے یا پھر قومی پر الگ اور صوبائی پر الگ جماعت کے امیدوار کو ووٹ دے دے۔

عام انتخابات 2018ء پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علاوہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اعتراضات اٹھا رہی ہیں، تاہم ان اعتراضات سے قطع نظر پی ٹی آئی پاکستان کی مقبول ترین جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ ملک بھر سے پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی پر ملنے والے مجموعی ووٹوں کی تعداد ن لیگ کو ملنے والے مجموعی ووٹوں سے تقریباً 39 لاکھ 53 ہزار 485 ووٹ زیادہ ہے۔ اس حساب سے پی ٹی آئی قومی سطح پر پاکستان میں ووٹرز کی مقبول ترین جماعت بن کر ابھری ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کی مقبول ترین جماعت تھی اور اس نے مجموعی طور پر 1 کروڑ 48 لاکھ 74 ہزار 104 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف ووٹرز کی دوسری پسندیدہ ترین جماعت تھی، لیکن اس نے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے کم نشستیں حاصل کی تھیں۔ تحریک انصاف نے 2013ء میں مجموعی طور پر 76 لاکھ 79 ہزار 954 ووٹ حاصل کیے تھے۔ 2013ء میں دو مقبول ترین جماعتوں کے درمیان حاصل کردہ ووٹوں کا فرق 71 لاکھ 94 ہزار 150 تھا، جبکہ 2018ء کے الیکشن میں دو مقبول ترین جماعتوں کے درمیان حاصل کردہ ووٹوں کا فرق صرف 39 لاکھ 53 ہزار 485 رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف ہر اعتبار سے پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ آزاد امیدواروں سے قطع نظر، جن کی تعداد پورے پاکستان میں تقریباً 1600 تھی، تحریک انصاف ملک بھر میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے والی جماعت تھی جس نے اپنے 242 کھلاڑی میدان میں اتارے۔ 242 میں سے تحریک انصاف کے 116 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، یعنی تحریک انصاف کے امیدواروں کی جیت کا تناسب 47.93 فیصد رہا۔ تحریک انصاف کو پورے پاکستان سے قومی اسمبلی کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ 68 لاکھ 60 ہزار 675 ووٹ ملے اور اس طرح تحریک انصاف ان انتخابات میں ووٹرز کی پسندیدہ ترین جماعت رہی۔ قومی اسمبلی کے لیے ڈالے گئے کُل ووٹوں میں تحریک انصاف کا حصہ 30.70 فیصد رہا۔ 2013ء میں تحریک انصاف نے صرف 29 قومی نشستیں حاصل کی تھیں اور اس بار پی ٹی آئی کی قومی نشستوں کی تعداد 116 ہوگئی ہیں یعنی اس کی 87 سیٹیں بڑھی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر سابقہ حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور پورے پاکستان سے (ن) لیگ کو قومی اسمبلی کی نشستوں پر 1 کروڑ 29 لاکھ 35 ہزار 236 ووٹ ملے۔ (ن) لیگ نے پورے پاکستان سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر مجموعی طور پر 212 امیدوار کھڑے کیے، جن میں سے صرف 64 امیدوار کامیاب ہوئے اور اس طرح (ن) لیگ کی کامیابی کا تناسب 30.18 بنتا ہے۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں (ن) لیگ کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 23.50 رہا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں (ن) لیگ نے قومی اسمبلی سے 126 نشستیں حاصل کی تھیں، یعنی الیکشن 2018ء میں (ن) لیگ نے تقریباً نصف یعنی 62 نشستیں گنوائی ہیں، لیکن اس کے باوجود ن لیگ قومی سطح پر ووٹرز کی دوسری مقبول ترین جماعت رہی۔ الیکشن 2018ء میں جس جماعت نے توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پیپلز پارٹی قومی سطح پر پاکستان کی تیسری مقبول ترین جماعت رہی اور اسے مجموعی طور پر 69 لاکھ 13 ہزار 410 ووٹ پڑے۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 270 نشستوں کے لیے پاکستان بھر میں 243 امیدوار کھڑے کیے، جن میں سے صرف 43 امیدوار کامیاب ہوئے اس طرح قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کا تناسب صرف 17 فیصد رہا۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں پیپلز پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 12.59 رہا۔ پیپلز پارٹی کو تحریک انصاف کے مقابلے میں 99 لاکھ 49 ہزار 565 ووٹ جبکہ ن لیگ کے مقابلے میں 59 لاکھ 94 ہزار 681 ووٹ کم ملے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے الیکشن 2018ء گزشتہ الیکشن سے بہتر ثابت ہوئے کیوں کہ پیپلز پارٹی نے 2013ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 35 جنرل نشستیں حاصل کی تھیں تاہم اس بار اس کی جنرل نشستوں میں 9 سیٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو ملنے والے مجموعی ووٹوں کی تعداد 2018 الیکشن کے تقریباً برابر ہی ہیں۔ 2013 میں پیپلز پارٹی نے 69 لاکھ 11 ہزار 218 ووٹ حاصل کیے تھے اور 35 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ اس بار اس نے 69 لاکھ 13 ہزار 410 ووٹ لے کر 43 نشستیں اپنے نام کرلی ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں آزاد امیدواروں کا کردار ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے اور انہیں بادشاہ گر کہا جاتا ہے۔ آزاد امیدوار کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے اور کامیابی کے بعد وہ عام طور پر اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ الیکشن 2018ء میں آزاد امیدواروں نے پاکستان بھر سے 60 لاکھ 60 ہزار 894 ووٹ حاصل کیے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر 58 لاکھ 80 ہزار 658 ووٹ حاصل کیے تھے۔ گزشتہ انتخابات کی نسبت آزاد امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں میں تو 2 لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، تاہم قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ 2013ء میں 30 آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس بار کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد صرف 13 ہے، جو کہ جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔ اس بار ووٹرز نے انفرادی شخصیات کے بجائے سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ووٹ دیے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں آزاد امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 11.03 فیصد رہا۔

اسی طرح دینی جماعتوں کا سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) پاکستان کی پانچویں مقبول ترین جماعت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عام انتخابات میں ایم ایم اے کو تقریباً 25 لاکھ 69 ہزار 971 ووٹ ملے ہیں اور وہ قومی اسمبلی کی 12 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2013 کے عام انتخابات میں تمام دینی و مذہبی جماعتوں نے انفرادی طور پر حصہ لیا تھا اس لیے ان کا ووٹ بینک تقسیم ہوگیا تھا۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں ایم ایم اے کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 4.60 فیصد رہا۔ سیاست کے میدان میں موجود دینی جماعتوں کی فہرست میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نومولود ہے تاہم اسے پڑنے والے ووٹوں کی تعداد نے سب کو حیران کردیا ہے۔ ٹی ایل پی نے پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کیلئے اسے مجموعی طور پر 22 لاکھ 34ہزار 338 ووٹ ملے۔قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں ٹی ایل پی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 4.06 فیصد رہا۔ حیران کن طور پر قومی سطح پر پاکستان میں ووٹرز کی چھٹی مقبول ترین جماعت ہونے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔ تاہم آنے والے وقت میں ٹی ایل پی کا ووٹ بینک مزید بڑھ سکتا ہے۔

اندرون سندھ میں بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک توڑنے کے لیے وجود میں آنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، قومی عوامی تحریک، سندھ نیشنل فرنٹ اور دیگر قوم پرست جماعتیں شامل تھیں۔ قومی سطح پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ساتویں مقبول ترین جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اس نے 11 لاکھ 93 ہزار 444 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں جی ڈی اے کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 2.17 فیصد رہا۔ گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس قومی اسمبلی کی 2 نشستیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی اور ممکن ہے کہ وہ وفاقی حکومت میں اتحادی بن جائے۔ قومی اسمبلی میں حاصل کردہ ووٹوں کے اعتبار سے عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کی 8 ویں مقبول ترین جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے والی عوامی نیشنل پارٹی 2013ء اور اب 2018ء کے انتخابات میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھاسکی۔

الیکشن 2018ء میں اے این پی نے مجموعی طور پر 8 لاکھ 15 ہزار 993 ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست حاصل کرسکی۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں آزاد امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 1.48 فیصد رہا۔ الیکشن 2018ء میں جتنا نقصان متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو ہوا ہے شاید کسی اور جماعت کو نہیں ہوا۔ ایک دور میں صرف کراچی سے جیت کر پاکستان کی چوتھی بڑی جماعت بننے والی ایم کیو ایم اس بار صرف 6 نشستوں تک محدود ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے حاصل کردہ ووٹوں کے اعتبار سے ایم کیو ایم پاکستان اب پاکستان کی 9 ویں مقبول ترین جماعت بن گئی ہے تاہم حاصل کردہ ووٹوں اور نشستوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایم کیو ایم پاکستان صرف 7 لاکھ 31 ہزار 794 ووٹ لے کر بھی قومی اسمبلی کی 6 نشستیں جیت گئی ہے جبکہ تحریک لبیک پاکستان ، جی ڈے اے اور عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم کے مقابلے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود نشستوں کے معاملے میں اس سے پیچھے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں ایم کیو ایم کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 1.33 فیصد رہا۔

2002ء کے عام انتخابات کے بعد حکومت میں آنے والی پاکستان مسلم لیگ (ق) اب محض چند حلقوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ الیکشن 2018ء میں (ق) لیگ کو مجموعی طور پر 5 لاکھ 17 ہزار کے قریب ووٹ ملے تاہم کم ووٹ ملنے کے باوجود وہ قومی اسمبلی کی 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اور یوں وہ 10 ویں مقبول ترین جماعت رہی۔ قومی اسمبلی کیلئے ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں (ق) لیگ کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب صرف 0.94 فیصد رہا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دینی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ الیکشن 2018ء میں متحدہ مجلس عمل کے نام سے دینی جماعتوں کا اتحاد سامنے آیا۔ ایم ایم اے میں جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک اسلامی پاکستان اور مرکزی جمعیت اہل حدیث جیسی مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق الیکشن 2018ء میں قومی اسمبلی کے لیے دینی جماعتوں کو ملنے والے ووٹ کو یکجا کیا جائے تو یہ تعداد تقریباً 51 لاکھ 15 ہزار بنتی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ ایم ایم اے کا رہا جسے ملک بھر سے 25 لاکھ 69 ہزار 971 ووٹ ملے۔ مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافے کا سب سے بڑا سبب تحریک لبیک پاکستان کی سیاست میں انٹری ہے جس نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں 22 لاکھ 34 ہزار 338 ووٹ لے کر سب کو حیران کردیا۔ دینی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافے کے باوجود ڈالے جانے والے مجموعی ووٹوں میں سے مذہبی جماعتوں کا حصہ محض 9.31 فیصد رہا، جبکہ اگر تین مقبول ترین جماعتوں (تحریک انصاف، ن لیگ اور پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی کے لیے حاصل کردہ ووٹوں کو یکجا کیا جائے تو تعداد تقریباً 3 کروڑ 66 لاکھ 49 ہزار271 بنتی ہے۔ یعنی عام انتخابات میں ڈالے گئے 5 کروڑ 49 لاکھ 8 ہزار 472 ووٹوں میں سے 66 فیصد ووٹ ان تین جماعتوں کے حصے میں گئے۔

2013ء کے عام انتخابات سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دینی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اضافہ تحریک لبیک پاکستان کی مرہون منت ہے کیوں کہ اگر ٹی ایل پی کے حاصل کردہ 22 لاکھ 34 ہزار 338 ووٹوں کو نکال دیا جائے تو ایم ایم اے سمیت تمام مذہبی جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد تقریباً 28 لاکھ 83 ہزار 303 بنتی ہے جو 2013 میں دینی جماعتوں کی جانب سے حاصل کردہ ووٹوں 30 لاکھ 66 ہزار 595 سے بھی کم ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں 4 کروڑ 62 لاکھ 17 ہزار 482 افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور ان میں سے دینی جماعتوں کا حصہ 6.63 فیصد جبکہ ٹاپ تھری جماعتوں (نون لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی) کے حصے میں 63.75 فیصد ووٹ آئے تھے۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2018ء میں تحریک لبیک پاکستان کی آمد کے بعد دینی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کو اتنے بڑے پیمانے پر ووٹ کا ملنا اور وہ بھی کراچی جیسے شہر سے 2 سیٹیں لے کر سندھ اسمبلی تک پہنچنا، کراچی کی سیاسی جماعتوں کے لیے جہاں کئی سوال چھوڑتا ہے، وہیں عوام کے رجحانات بھی واضح ہوتے ہیں۔ پاکستان اسٹڈی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ مذہبی اور انتہا پسند جماعتوں کا مقصد جمہوریت کا فروغ نہیں ہوتا، یہ بس اپنے اسٹریٹ پاور شو کے ذریعے نظام کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنا چاہتے ہیں۔ ان کو قومی دھارے میں لانا ضروری ہے، یہ خود رو نہیں ہیں، لہذا اداروں کو ابھی سے ان پر توجہ دینا ہوگی۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا کہ ان جماعتوں نے معاشرے کو مزید تقسیم کیا ہے اور اب 'نیا پاکستان' کم از کم اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram