اسکتباری قوتیں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

اسکتباری قوتیں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

علامہ راجہ ناصر جعفری نے کہا کہ سابق حکومت نے جس الیکشن کمیشن کی خود تشکیل کی تھی اس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار عوام کے لیے حیران کن ہے۔

اسلام آباد( )استکباری قوتیں ارض پاک کو معاشی و اقتصادی بحران سے دوچار کر کے اسے عدم استحکام  کا شکار بنانا چاہتی ہیں۔قومی انتخابات میں عوام کی طرف سے ملنے والے مینڈیٹ کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے علامہ عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کی مناسبت سے پریڈ گراونڈ اسلام آباد میں ’’حمایت مظلومین کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے جس الیکشن کمیشن کی خود تشکیل کی تھی اس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار عوام کے لیے حیران کن ہے۔سابق حکومت کے ذمہ داران واضح کریں کہ کیا انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کلیدی پوسٹوں پر بد دیانت افراد کی تقرری کی۔ا۔انہوں نے کہا کہ داعش سمیت دیگر استعمال شدہ مہروں کو پاکستان میں آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ان سازشوں کو اتحاد و اخوت کے ہتھیار سے ناکام بنایا جائے گا ۔ اس وقت اسلام دشمن عالمی طاقتیں ارض پاک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ملک کو معاشی و اقتصادی بحران اور بدامنی کا شکار کرکے اس کی سالمیت و بقا کو سنگین نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ارض پاک میں سب سے پہلے شہید قائدعارف حسینی نے امریکہ کے مکروہ چہرے اور گھناونے عزائم کو بے نقاب کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے تبدیلی کی حمایت کی ہے۔ جو طاقتیں انتخابی عمل کو مشکوک قرار دے رہی ہیں وہ ملک کو بحران کا شکاربنانا چاہتی ہیں۔عوام ان طاقتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے۔ ملک کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی کسی کو اجازت دینا قومی حمیت و عظمت کے منافی ہے۔ شہید قائد عارف حسینی ملکی سیاست میں ملت تشیع کے سیاسی کردار کے زبردست حامی تھے۔مجلس وحدت مسلمین شہید قائد کی نظریاتی جدوجہد کی پاسدار ہے۔ہم دنیا بھر کے مظلومین کے ساتھ کھڑے ہیں۔یمن، عراق فلسطین اور کشمیر سمیت جہاں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے ہم اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں وحدت و اخوت کی داعی اور ملت تشیع کی سیاسی عمل میں شرکت کو حالات کے عین متقاضی سمجھتی ہے۔تکفیری گروہوں کی پارلیمنٹ تک رسائی میں رکاوٹ ملت تشیع کے سیاسی استحکام سے مشروط ہے۔انہوں نے کہاکہ انتخابات کے ذریعے آنے والی حالیہ تبدیلی حوصلہ افزا ہے۔ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیاجانا عوام کے سیاسی شعور میں بہتری کی نوید ہے۔خوشنما نعروں کی آڑ میں عوام کو دھوکہ دینے والے ماضی کے حکمرانوں نے بالآخر اپنا انجام دیکھ لیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد عوام کو نئی حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔عوامی مینڈیٹ کا تقاضہ ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا اور لوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کا کڑا احتساب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے سیکرٹیری جنر ل آغا علی رضوی سمیت عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی شخصیات کا نام شیڈول فورتھ میں ڈالنا حفیظ الرحمان حکومت کا متعصبانہ فعل ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اس وقت بہترین خارجہ پالیسی کی ضروررت ہے ۔پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کر کے ملکی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں سے تعلقات ڈکٹیشن کی بجائے باہمی احترام کی بنیاد پر قائم رہنے چاہیے۔ علامہ باقر زیدی نے کہا کہ معاشی مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایسی جامع پالیساں مرتب کرنا ہوں گی جس سے عام طبقے کا نظام زندگی بہتر ہو سکے۔مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد نقوی نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندے شاہانہ رہن سہن کی بجائے سادگی کو اپنائیں تاکہ عوام کا دیا ہوا ٹیکس قومی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے اورقومی خزانے کا بے جا ضیاع نہ ہو ۔علامہ شبیر بخاری نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع موجود ہیں ۔ماضی میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کربیرونی سرمایہ کاروں کو دانستہ طور پر ملک سے دور رکھا گیا ۔نئی حکومت سے توقع ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ ملک معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔حلقہ پی بی 30 کے امیدوار سید آغٖا محمد رضا نے کہا کہ ہم اس حلقہ میں انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔حلقہ پی ایس 89 کے امیدوار علی حسین نقوی نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا۔ مذکورہ حلقے میں مخالف امیدوار کو دھاندلی سے جتایا گیاجس کے خلاف تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔کانفرنس میں علامہ امین شہیدی، علامہ مختار امامی،علامہ اعجاز حسین بہشتی،علامہ برکت مطہری،علامہ اقتدار نقوی، علامہ مبارک موسوی،نثار فیضی،علامہ اقبال بہشتی ،علامہ شبیر بخاری اور علامہ ذوالفقار سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں ہزاروں کارکناں سمیت بزرگوں ،خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد موجود تھی۔شرکا نے امریکہ اور اسرائیل سمیت استکباری قوتوں کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی

اسلام آباد( )استکباری قوتیں ارض پاک کو معاشی و اقتصادی بحران سے دوچار کر کے اسے عدم استحکام  کا شکار بنانا چاہتی ہیں۔قومی انتخابات میں عوام کی طرف سے ملنے والے مینڈیٹ کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے علامہ عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کی مناسبت سے پریڈ گراونڈ اسلام آباد میں ’’حمایت مظلومین کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے جس الیکشن کمیشن کی خود تشکیل کی تھی اس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار عوام کے لیے حیران کن ہے۔سابق حکومت کے ذمہ داران واضح کریں کہ کیا انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کلیدی پوسٹوں پر بد دیانت افراد کی تقرری کی۔ا۔انہوں نے کہا کہ داعش سمیت دیگر استعمال شدہ مہروں کو پاکستان میں آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ان سازشوں کو اتحاد و اخوت کے ہتھیار سے ناکام بنایا جائے گا ۔ اس وقت اسلام دشمن عالمی طاقتیں ارض پاک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ملک کو معاشی و اقتصادی بحران اور بدامنی کا شکار کرکے اس کی سالمیت و بقا کو سنگین نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ارض پاک میں سب سے پہلے شہید قائدعارف حسینی نے امریکہ کے مکروہ چہرے اور گھناونے عزائم کو بے نقاب کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے تبدیلی کی حمایت کی ہے۔ جو طاقتیں انتخابی عمل کو مشکوک قرار دے رہی ہیں وہ ملک کو بحران کا شکاربنانا چاہتی ہیں۔عوام ان طاقتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے۔ ملک کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی کسی کو اجازت دینا قومی حمیت و عظمت کے منافی ہے۔ شہید قائد عارف حسینی ملکی سیاست میں ملت تشیع کے سیاسی کردار کے زبردست حامی تھے۔مجلس وحدت مسلمین شہید قائد کی نظریاتی جدوجہد کی پاسدار ہے۔ہم دنیا بھر کے مظلومین کے ساتھ کھڑے ہیں۔یمن، عراق فلسطین اور کشمیر سمیت جہاں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے ہم اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں وحدت و اخوت کی داعی اور ملت تشیع کی سیاسی عمل میں شرکت کو حالات کے عین متقاضی سمجھتی ہے۔تکفیری گروہوں کی پارلیمنٹ تک رسائی میں رکاوٹ ملت تشیع کے سیاسی استحکام سے مشروط ہے۔انہوں نے کہاکہ انتخابات کے ذریعے آنے والی حالیہ تبدیلی حوصلہ افزا ہے۔ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیاجانا عوام کے سیاسی شعور میں بہتری کی نوید ہے۔خوشنما نعروں کی آڑ میں عوام کو دھوکہ دینے والے ماضی کے حکمرانوں نے بالآخر اپنا انجام دیکھ لیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد عوام کو نئی حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔عوامی مینڈیٹ کا تقاضہ ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا اور لوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کا کڑا احتساب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے سیکرٹیری جنر ل آغا علی رضوی سمیت عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی شخصیات کا نام شیڈول فورتھ میں ڈالنا حفیظ الرحمان حکومت کا متعصبانہ فعل ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اس وقت بہترین خارجہ پالیسی کی ضروررت ہے ۔پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کر کے ملکی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں سے تعلقات ڈکٹیشن کی بجائے باہمی احترام کی بنیاد پر قائم رہنے چاہیے۔ علامہ باقر زیدی نے کہا کہ معاشی مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایسی جامع پالیساں مرتب کرنا ہوں گی جس سے عام طبقے کا نظام زندگی بہتر ہو سکے۔مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد نقوی نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندے شاہانہ رہن سہن کی بجائے سادگی کو اپنائیں تاکہ عوام کا دیا ہوا ٹیکس قومی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے اورقومی خزانے کا بے جا ضیاع نہ ہو ۔علامہ شبیر بخاری نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع موجود ہیں ۔ماضی میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کربیرونی سرمایہ کاروں کو دانستہ طور پر ملک سے دور رکھا گیا ۔نئی حکومت سے توقع ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ ملک معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔حلقہ پی بی 30 کے امیدوار سید آغٖا محمد رضا نے کہا کہ ہم اس حلقہ میں انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔حلقہ پی ایس 89 کے امیدوار علی حسین نقوی نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا۔ مذکورہ حلقے میں مخالف امیدوار کو دھاندلی سے جتایا گیاجس کے خلاف تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔کانفرنس میں علامہ امین شہیدی، علامہ مختار امامی،علامہ اعجاز حسین بہشتی،علامہ برکت مطہری،علامہ اقتدار نقوی، علامہ مبارک موسوی،نثار فیضی،علامہ اقبال بہشتی ،علامہ شبیر بخاری اور علامہ ذوالفقار سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں ہزاروں کارکناں سمیت بزرگوں ،خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد موجود تھی۔شرکا نے امریکہ اور اسرائیل سمیت استکباری قوتوں کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram