ایک تصویر ایک بدنما داغ؛

کلنک کا ٹیکہ مودی حکومت، بھارتی جمہوریت اور بالی ووڈ کے ماتھے پر

 کلنک کا ٹیکہ مودی حکومت، بھارتی جمہوریت اور بالی ووڈ کے ماتھے پر

اس کا نام ہے امیتابھ بچن، جس کو کسی وقت شاید پاکستان اور ہند میں اس بنا پر یکسان مقبولیت حاصل تھی کہ وہ گویا سرحدوں پر یقین ہی نہیں رکھتا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو بھائی بھائی اور ایک ہی قوم و ملت سمجھتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بات ایک تصویر کی ہے، ایک تصویر جو ایک 76 سالہ فنکار کی ماہیت کو برملا کردیتی ہے
اس کا نام ہے امیتابھ بچن، جس کو کسی وقت شاید پاکستان اور ہند میں اس بنا پر یکسان مقبولیت حاصل تھی کہ وہ گویا سرحدوں پر یقین ہی نہیں رکھتا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو بھائی بھائی اور ایک ہی قوم و ملت سمجھتا ہے۔
امیتابھ کو کل تک اسلامی ممالک کے فلم بینوں کے ہاں کافی مقبولیت حاصل تھی جب تک کہ یہ تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔
اس تصویر میں پہلی بار امیتابھ بچن کی مسکراہٹ دیکھ کر ہزاروں فلسطینی بچوں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگتی ہے اور فن و ہنر کی غیرجانبداری ایک کھلا اور وحشیانہ مذاق نظر آتا ہے۔ اور یہ بات ایک خوفناک کھیل لگنے لگتی ہے کہ فن و ہنر کا تعلق انسانیت سے ہے اور فنکار تو تمام انسانوں کے لئے فنکاری کرتے ہیں، نہیں نہیں بلکہ دعوی تو یہ کیا جاتا رہا ہے کہ فنکار تو معاشرے کے مظلوم طبقوں کے نمائندے ہیں اور ظلم و جبر کے خلاف لڑنا ـ جو ان کی فلموں میں دیکھا دیتا ہے ـ ایک عینی اور ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن اس تصویر نے اس دعوے کو بھی بے بنیاد ثابت کردیا۔
فلسطینی بچوں کے قاتل اور یمنی، عراقی، لبنانی اور شامی بچوں کے قتل عام میں آل سعود کے پہلے درجے کے شریک بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ امیتابھ بچن کی ہنستی مسکراتی تصویر، فن و ہنر کے منہ پر ہی طمانچہ نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستانی سیاست کی غیرجانبدارانہ پالیسی اور فلسطینی بچوں کی حمایت کے دعؤوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔
یہاں اگر دعوی کیا جائے کہ امیتابھ کو مجبور ہوکر نیتن یاہو کے ساتھ تصویریں اتروانی پڑی ہیں تو سوال اٹھے گا کہ ایک مجبور شخص اپنے خونخوار مہمان کے ساتھ سیلفیاں بناتا ہے کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ امیتابھ ایک اداکار ہے وہ مظلوموں کی حمایت کی اداکاری کرتا ہے ـ بالکل حکومت ہندوستان کی طرح ـ لیکن فی الواقع وہ ہندوستانی حکومت کی یہود نواز پالیسی کا ایک کردار ہے اور طفل کش یہودی وزیر اعظم کے ساتھ اس کی یہ تصویریں اس کے لئے عزت و اعتبار کا سبب نہیں بلکہ اس کے اور بالی ووڈ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔۔۔
عامر خان، سلمان خان اور شاہرخ خان کو بھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا اور یقینا ہندوستانی عوام کے ہاں قومی ہیرو کہلانے کے حقدار ہوئے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی سرکار نے ان کے لئے کیا سپنے دیکھے ہیں؟



........
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram