کابل کے ہوٹل میں مزید 2 دھماکے

کابل کے ہوٹل میں مزید 2 دھماکے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے انٹرکونٹینینٹل ہوٹل میں اتوار کی صبح دو شدید دھماکے ہوئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔  ہوٹل میں دھماکے ہونے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے ہوٹل کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیئے۔

اس سے قبل ہفتے کی رات مسلح حملہ آوروں نے ہوٹل کے پیچھے کی طرف سے اس ہوٹل پر حملہ کیا جس کے بعد حملہ آوروں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہونے لگا جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق سترہ افراد ہلاک اور تقریبا تیس دیگر زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو حملہ آور بھی شامل ہیں۔
کابل میں ہوٹل پر یہ حملہ ایسی حالت میں ہوا ہے کہ افغانستان میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے دو روز قبل اپنے ملک کے شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان اور خاص طور سے کابل میں اہم عمارتوں اور ہوٹلوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
کابل حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے جبکہ افغان حکام نے حقانی نیٹ ورک کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں ہوٹل پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اتوار کو ایک بیان میں کابل ہوٹل پر حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی کے خلاف اپنے ملک کی مہم جاری رہنے پر پاکید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے صوبے بلخ کے علاقے شولگر کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ سراج الدین عابد نے کہا ہے کہ شمالی افغانستان پر ہونے والے حملے میں اٹھارہ عام شہری مارے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ہفتے کی رات شولگر کے ایک دیہات میں ایک تقریب کے دوران ہوا جہاں طالبان نے اٹھارہ افراد کا قتل کر دیا۔
واضح رہے کہ شمالی افغانستان کے صوبے بلخ میں کافی بدامنی پائی جاتی ہے۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram