مولانا سید علی تقوی کے انتقال پر مجلس علماء ہند سوگوار ہے : مولانا سید کلب جواد نقوی

مولانا سید علی تقوی کے انتقال پر مجلس علماء ہند سوگوار ہے : مولانا سید کلب جواد نقوی

معروف عالم دین مولانا سید علی تقوی کا آج دہلی میں انتقال ہوگیا۔ مولانا مرحوم مجلس علماء ہند کے مخلص، سرپرست اور سابق صدر بھی تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ معروف عالم دین مولانا سید علی تقوی کا آج دہلی میں انتقال ہوگیا۔ مولانا مرحوم مجلس علماء ہند کے مخلص، سرپرست اور سابق صدر بھی تھے۔ مولانا سید علی تقوی مرحوم ایک مدت سے صاحب فراش تھے اور ادھر کچھ دنوں سے انکی طبیعت بہتر نہیں تھی ۔مولانا سید علی تقوی ایک برجستہ عالم دین اور خطیب تھے ۔

ہندوستان سے تعلیمی فراغت کے بعد مولانا نے نجف اشرف کا رخ کیا اور اپنے زمانے کے جید مراجع کرام اور آیات عظام سے حصول علم کے بعد مولانا ہندوستان تشریف لائے ۔ہندوستان میں انہوں نے منبر و محراب سے قومی خدمات میں اہم حصہ لیا اور ہر تحریک سے وابستہ رہے۔
  مولانا مرحوم نے پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک کشمیری گیٹ واقع شیعہ جامع مسجد میں امام جمعہ کے فرائض انجام دیے ۔مولانا مرحوم دہلی، نواح دہلی اور ہندوستان کی تمام مذہبی و سماجی تحریکوں سے وابستہ رہے ۔خاص طور پر دہلی میں قومی و ملی مسائل کو حل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ۔انکی بے لوث خدمات اور ایثار کی بنیاد پر عوام میں بیحد مقبولیت اور انکی شخصیت کا احترام تھا۔مولانا مرحوم رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کے وکیل بھی تھے ۔
    مولانا سید علی تقوی کے انتقال پر ملال پر مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید علی تقوی معاصر بزرگ علماء میں سے تھے ۔انکا انتقال قومی و ملّی خسارہ ہے ۔مولانا سید علی تقوی نے ہمیشہ تمام تحریکوں کی سرپرستی کی اور دہلی میں تحفظ اوقاف تحریک کے دوران انکی سرپرستی حاصل رہی ۔مولانا مرحوم ہمیشہ قومی و ملی مسائل کو حل کرنے میں بے پناہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے ۔وہ ایک مخلص ،مشفق اور مصلح قوم تھے ۔انکی خدمات اور ایثار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔انہوں نے ہمیشہ مجلس علماء ہند کی رہنمائی کی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے ۔مولانا نے کہاکہ مولانا سید علی تقوی مرحوم کی کمی کو قوم اور مجلس علماء ہند ہمیشہ محسوس کرتی رہے گی ۔مولانا کے انتقال پر مجلس علماء ہند سوگوار ہے ۔
ممبئی سے مجلس علماء ہند کے صدر مولانا سید حسین مہدی حسینی اور دیگر اراکین مجلس نے بھی مولاناسید علی تقوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا اور انکے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی ۔اسی طرح دہلی کے علماء کرام اور مجلس علماء ہند کمیٹی نے بھی انکے انتقال کو قومی نقصان قراردیا۔
    مولانا سید علی تقوی مرحوم کے پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔مجلس علماء ہند انکے فرزندان خصوصاََ مولانا سید محسن تقوی کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتی ہے ۔۔اللہ مرحوم کے درجات میں اضافہ کرے اور جوارائمہ معصومین میں جگہ عنایت کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram