سرینگر؛ امام بارگاہ ہری نارہ پٹن میں انجمن شرعی کے اہتمام سے پُروقار محفل میلاد

بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ اسلامی ممالک کے عدم اتحاد کا شاخسانہ: آغا حسن

سرینگر؛ امام بارگاہ ہری نارہ پٹن میں انجمن شرعی کے اہتمام سے پُروقار محفل میلاد

انجمن شرعی شیعیان جموں کشمیر کے اہتمام سے عید میلاد النبی ؐ کی اختتامی تقریب کے سلسلے میں امام بارگاہ ہری نارہ پٹن میں ایک پُروقار محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان جموں کشمیر کے اہتمام سے عید میلاد النبی ؐ کی اختتامی تقریب کے سلسلے میں امام بارگاہ ہری نارہ پٹن میں ایک پُروقار محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا جس میں تنظیم کے زیر انتظام شاخہائے مکاتب کے ہزاروں طلباء و طالبات کے علاوہ عاشقان رسولؐ کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی نے سیرت نبویؐ کے مختلف گوشوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صحیفہ ہائے آسمانی میں پیغمبر آخر الزمانؐ کی واضح بشارت اور نشانیوں کے باوجود یہود و نصاریٰ نے حضور ؐ کی رسالت کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ حضورؐ اور مسلمانوں کے خلاف متواتر محاذ آرائی میں مصروف رہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کا حالیہ فیصلہ اسلام اور مسلمین کے خلاف یہود و نصاریٰ کے دیرینہ عزائم کی ایک بدترین کڑی ہے۔
آغا حسن نے کہا کہ اگر دنیا کے 56 اسلامی ممالک کی حکومتوں کے درمیان قرآن و سنت کی بنیادوں پر استوار باہمی اخوت و اتحاد کا جذبہ کارفرما ہوتا تو امریکی صدر ایسا فیصلہ کرنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔
محفل میلاد میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرنے والے مقتدر عالم دین آقای موسوی زادہ نے کہا کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی اسلام اور مسلمین کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ قرآن اور حضور اکرمؐ کے واضح ارشادات کے بعد ان قوتوں سے رشتوں اور روابط کی محدود گنجائش ہی باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے ان قوتوں کے ساتھ رابطوں کو انتہائی مسدود کررکھا ہے۔ آقای موسوی زادہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے شرمناک فیصلے سے اگر چہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی مملکت کے امکانات کو معدوم کرنے میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھی تاہم اگر اب بھی مسلمان ممالک اس فیصلے کے خلاف خلوص نیت اور ایمانی قوت کے ساتھ مزاحمتی حکمت عملی مرتب کریں گے تو امریکہ کا فیصلہ سراب ثابت ہوگا۔
محفل میلاد سے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی، حجۃ الاسلام سید محمد حسین الموسوی اورحجۃ الاسلام سید لیاقت حسین نے بھی خطاب کیا جبکہ حجۃ الاسلام سید تقی النقی نے مہمان خصوصی کے خطاب کا ترجمہ کیا۔محفل میں جو دیگر علمائے دین موجود تھے ان میں حجۃ الاسلام سید یوسف الموسوی، حجۃ الاسلام سید احمد الموسوی، حجۃ الاسلام سید محمد حسین صفوی، حجۃ الاسلام حاتم علی میر، حجۃ الاسلام ارشد حسین موسوی، مولوی شیخ غلام احمد بٹ، مولوی شیخ ذاکری، مولوی نثار احمد والو، مولوی سید مصطفی موسوی اور امام جمعہ ہری نارہ مولوی سید افضل بھی موجود تھے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے اسلام اور مسلم دشمن قوتوں کے خلاف عالم اسلام کے اتحاد کو وقت کی ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ دنیائے اسلام کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ اگر اس اسلام اور مسلم دشمن فیصلے کے بعد بھی اسلامی ممالک کی حکومتوں نے کوئی عبرت حاصل نہیں کی اور متحد ہوکر یہود و نصاریٰ کی منصوبہ بندیوں کے سد باب کیلئے تفکر نہیں کیا تو مستقبل میں عالم اسلام کو شدید خطرات اور خدشات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محفل میلاد کے اختتام پر تقریب کے انعقاد میں جامعہ باب العلم کے انسپکٹر صاحبان جناب غلام حسین شگنو، جناب نثار حسین راتھر، جناب مختار احمد نجار، جناب سید سجادکے سرگرم رول پر موصوفان کا شکریہ ادا کیا گیا۔محفل میلاد میں نظامت کے فرائض توفیق حسین نے انجام دئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram