جنسی تعلقات سے متعلق بھارتی عدلیہ کے ریمارکس انسانی غیرت و شرافت کے منافی

جنسی تعلقات سے متعلق بھارتی عدلیہ کے ریمارکس انسانی غیرت و شرافت کے منافی

آغا صاحب نے کہا کہ اس طرح کاعدالتی فیصلہ ادیان عالم کو چلینج کرنے اور اخلاقی و روحانی قدروں کو ملیامیٹ کرنے کے مترادف ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/مرد و عورت کے درمیان غیر ازدواجی جنسی تعلقات کو جُرم قرار دینے والے قوانین کو منسوخ کرنے کے بھارتی عدلیہ کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے عدلیہ کے فیصلے کو انسانی غیرت، حمیت اور شرافت کا جنازہ نکالنے اور معاشرتی امن و سکون کو درہم برہم کرکے تہذیبی انار کی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ۔ آغا صاحب نے کہا کہ اس طرح کاعدالتی فیصلہ ادیان عالم کو چلینج کرنے اور اخلاقی و روحانی قدروں کو ملیامیٹ کرنے کے مترادف ہے۔
آغا صاحب نے کہا کہ لواط جیسے مذموم ترین عمل کو جائز قرار دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت ہند بھارت کی قدیم تہذیبی ، ثقافتی اور روحانی قدروں کو یکسر ختم کر کے ہندوستان کو مغربی تہذیب کا گہوارہ بنانے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں کی تو ہندومت میں بھی کوئی گنجائش نہیں عدلیہ کے ایسے اخلاق سوز فیصلے بھارت میں بے راہ روی اور خواتین کے خلاف بھیانک جرائم کے شرح میں ہوشروبااضافے کے پیش خیمہ ثابت ہونگے اور وقت آئے گا جب بھارتی عوام اپنی عدلیہ کے ایسے اخلاق سوز فیصلوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے۔
آغا صاحب نے فرقہ پرست ہندو کارکنوں کی طرفسے مساجد کو غیر ضروری قرار دلوانی کی کوششوں پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہمہ گیر مہم شروع لی گئی ہے اور اس حوالے سے عدلیہ کا سہارہ لیا جا رہا ہے۔ آغا صاحب نے کہا کہ اسلام میں مساجد کی اہمیت و عظمت اور ناگزیر ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ دریں اثناء آغا سید حسن نے ریاست جموں و کشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کو ایک لاحاصل مشق سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی ناموزون حالات اور عوام کی حددرجہ عدم دلچسپی و ناراضگی سے صرف نظر ریاست میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا فیصلہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک سعی لاحاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سلگتی صورتحال کے تناظر میں یہاں کسی بھی قسم کے انتخابات بنیادی تنازعہ کے حل یا کشمیریوں پر جاری ظلم و زیادتیوں کے سدباب میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے اور نہ ایسے انتخابات استصواب رائے کا نعم البدل ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا عوام اس لاحاصل عمل سے دور رکھ کے اپنی سیاسی بلوغیت کا بھرپور ثبوت پیش کریں۔
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram