بیت المقدس سے متعلقOIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

بیت المقدس سے متعلقOIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

آغا حسن نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنانہ صرف فلسطینی کاز پر ایک کاری ضرب ہے، بلکہ یہ امریکی اقدام دنیائے اسلام کے خلاف یہود و نصاریٰ کے دیرینہ عزائم کی ایک بدترین کڑی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں کشمیر کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ترکی میں منعقدہ OIC اجلاس میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے امریکی فیصلے کے خلاف پاس کردہ قرار داد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس قرارداد کو دنیائے اسلام کے دینی جذبات و خواہشات کا آئینہ دار قرار دیا۔
آغا حسن نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنانہ صرف فلسطینی کاز پر ایک کاری ضرب ہے، بلکہ یہ امریکی اقدام دنیائے اسلام کے خلاف یہود و نصاریٰ کے دیرینہ عزائم کی ایک بدترین کڑی ہے، جس کے خلاف سینہ سپر ہونا عالم اسلام کے محفوظ مستقبل کیلئے انتہائی ناگزیر ہے۔ آغا حسن نے OIC اجلاس کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اجلاس میں اسلامی ممالک کی طرف سے امریکی فیصلے کو ناقابل قبول قرار دے کر بیت المقدس کو مملکت فلسطین کے ادرالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی تجدید حق و انصاف اور مشرقی وسطیٰ میں قیام امن کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد امت مسلمہ کی تمام نگاہیں OIC کے اجلاس میں لئے گئے فیصلہ جات کی عمل آوری پر مرکوز رہیں گی۔ دریں اثناء انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی اسلام آباد چلو کال کو ناکام بنانے کیلئے جنوبی کشمیر اور سرینگر میں غیر اعلانیہ کرفیو، انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی سمیت دیگر مزاحمتی قائدین کی خانہ نظر بندیوں کی پڑ زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو غیر جمہوری اور آمرانہ سوچ و اپروچ سے تعبیر کیا۔ ترجمان نے کہا کہ دینی رہنماؤں بالخصوص ائمہ جمعہ کو خانہ نظر بند رکھ کر ریاستی انتظامیہ مداخلت فی الدین کی مرتکب ہورہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram