بسلسلہ شہادت امام حسن (ع)

"لا یوم کیومک یا ابا عبداللّہ ''، امام حسن(ع) کی شہادت کے وقت کے اہم واقعات

مرحوم شیخ جعفر نقدی نے نقل کیا ہے کہ امام حسن (ع) کو جو زہر دیا گیا وہ اتنا سخت تھا کہ اس کی وجہ سے آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر طشت میں گرا، امام حسن علیہ السلام کو جب بتایا گیا کہ آپ کی بہن زینب (س) آپ کے پاس تشریف لا رہی ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ اس طشت کو وہاں سے ہٹا دیا جائے تاکہ زینب (س) کی اس طشت پر نگاہ نہ پڑے جس میں جگر کے ٹکڑے پڑے ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

امیر شام سے صلح کے بعد
جب امام حسن علیہ السلام امیر شام کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہو گئے تو آپ نے صلح نامہ میں جہاں باقی بہت سارے شرائط معین فرمائے وہاں اس بات کی قید و شرط بھی لگا دی کہ امیر شام معاویہ اپنے بعد کسی کو اپنی جگہ عہدہ خلافت پر معین کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ امیر شام سے صلح کے بعد آپ دار الخلافہ کوفہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس چلے گئے۔
معاویہ کی خونخوار سازش
اگر چہ معاویہ نے روز اول سے ہی صلح کے تمام شرائط کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی تھی لیکن پھر بھی اسے امام حسن (ع) سے اس بات کا خطرہ لاحق تھا کہ آپ اسے یزید کے لیے اسلامی حاکم کے عنوان سے بیعت نہیں لینے دیں گے اور اس راہ میں ضرور رکاوٹ کھڑی کریں گے۔ اس وجہ سے امیر شام نے امام حسن علیہ السلام کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔
معاویہ کی قاتلانہ سازش یہ تھی کہ اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ پوشیدہ طریقے سے امام حسن(ع) کو قتل کر دیا جائے اپنے اس ارادے کو پورا کرنے کے لئے اس نے چار منافقوں کا الگ الگ انتخاب کیا ، ہر ایک سے کہا کہ اگر تم نے حسن بن علی کو قتل کر دیا تو میں تمہیں دو لاکھ درہم اور شام کا فوجی افسر بنا دوں گا ۔ اس کے علاوہ اپنی بیٹی سے شادی کردوں گا ۔ ان چار کا نام تھا ۔١۔ عمر و بن حریث۔٢۔ اشعث بن قیس ۔٣۔ حجر بن الحارث اور ۔٤۔ شبث بن ربعی ۔
معاویہ نے جن انعامات کا اعلان کیا تھا انہیں حاصل کرنے کے لئے ان سب نے حامی بھر لی ۔
معاویہ نے ان سب پر جاسوس مقرر کر دیئے جو پوشیدہ طریقے پر ان کی کارکردگی کی رپورٹ معاویہ کو بھیجتے رہتے تھے ۔
امام حسن کو اس سازش کی خبر ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ مکمل طور سے نگراں رہے کہ یہ سازش اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ آپ ہر وقت لباس کے اندر زرہ پہنتے تھے یہاں تک کہ اسی زرہ میں آپ نماز بھی پڑھتے تھے ،آخر ایک سازشی نے حالت نماز میں آپ پر تیر چلا دیا ، لیکن اس زرہ کی وجہ سے تیر کا زخم بدن پر نہ لگا ۔( بحار الانوار ،ج٤٤،ص٣٣)
خوارج کی سازش
دوسری طرف خوارج آپ کی گھات میں تھے ، یعنی وہی تقدس مآب جاہل افراد آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے، ان کا بہانہ یہ تھا کہ آپ نے معاویہ سے جنگ کیوں نہیں کی ، وہ آپ کو ( معاذ اللہ )مشرک و مذل المومنین پکارتے تھے ۔
انہیں خوارج میں ایک جراح بن سنان نامی شخص نے ساباط ( مدائن )میں سر راہ امام حسن کا لجام فرس پکڑ لیا اور تلوار سے آپ کو اس طرح مارا کہ ران کا گوشت شگافتہ ہو کرتلوار استخوان تک پہونچ گئی ۔ امام نے درد کی شدت سے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں اور دونوں زمین پر گرگئے ، امام حسن کے ایک شیعہ عبد اللہ بن خطل نے لپک کر تلوار اس کے ہاتھ سے چھین لی اور قتل کر دیا ، ایک دوسرے ساتھی کو بھی پکڑ کر قتل کر دیا ۔ امام حسن کو مدائن کے گورنر سعد بن مسعود ثقفی کے مکان پر لے گئے اور آپ کا علاج کرایا گیا ۔ ( ترجمۂ ارشاد شیخ مفید ،ج٢،ص٨ )
امام حسن کو زہر دیا گیا
جعدہ بنت اشعث امام حسن کی زوجہ تھی ، معاویہ نے اسے ایک لاکھ درہم بھیجا اور پیغام بھیجا کہ اگر امام حسن کو زہر دیدوگی تو تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کردوں گا ، جعدہ نے معاویہ کی یہ پیش کش قبول کر لی اور امام حسن کو زہر دیدیا ۔
معاویہ نے جعدہ کے پاس سیّال زہر بھیجا،امام حسن روزے سے تھے ،ہواگرم تھی ، افطارکے وقت جعدہ نے وہ زہر آپ کے دودھ کے پیالے میں ملا کر امام کی خدمت میں پیش کیا ، امام نے اسے پیا تو فوراً زہر محسوس کر لیا ، جعدہ سے فرمایا :
''تو نے مجھے قتل کیا ، خدا تجھے قتل کرے ، خدا کی قسم تیری آرزو پوری نہ ہو گی ، خدا تجھے ذلیل کرے گا ۔''
دو روز کے بعد آپ نے اسی زہر سے شہادت پائی ۔ معاویہ نے جعدہ سے جو قول و قرار کیا تھا اسے پورا نہ کیا ،یزید سے اس کی شادی نہیں کی ،اس نے امام حسن کے بعد خاندان طلحہ کے ایک شخص سے شادی کر لی،
اور اس سے کئی بچے ہوئے،جب ان بچوں کے خاندان اور خاندان قریش کے درمیان تکرار ہوتی تو انہیں کہا جاتا ''یا بنی مسمّة الازواج '' ( اے ایسی عورت کے بیٹو جو اپنے شوہروں کو زہر دیتی ہیں )۔ (ارشاد شیخ مفید،ج٢ ص١٣ پر روایت ہے کہ جعدہ معاویہ کے پاس گئی اور کہا :میری یزید سے شادی کردو۔ اس نے جواب دیا :''اذھبی فان الامرأة لا تصلح للحسن بن علی لا تصلح لابنی یزید'' دفعان ہو جا ! تیری جیسی عورت جب حسن بن علی سے نباہ نہ کر سکی تو میرے بیٹے یزید سے کیا نباہ کرے گی ۔ (بحار الانوار ،ج٤٤،ص ١٤٨و١٥٤)
عمر بن اسحاق کا بیان ہے کہ میں حسن و حسین علیہما السلام کے ساتھ گھر میں تھا اتنے میں امام حسن(ع) طہارت کے لئے گھر سے باہر گئے، واپس آکر فرمایا کہ ''کئی بار مجھے زہر دیا گیا لیکن اس مرتبہ سب سے شدید تھا ، میرے جگر کا ایک ٹکڑا گرا ، اسے میں نے اپنے اس عصا سے حرکت دی '' ۔ امام حسین(ع) نے پوچھا :'کس نے آپ کو زہر دیا ۔''
امام حسن(ع) نے فرمایا : اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ کیا اسے قتل کرو گے ؟ جسے میں سمجھتا ہوں اس پر تم سے زیادہ خدا عذاب کرے گا اور اگر وہ نہ ہو تو میں نہیں چاہتا کہ بے گناہ میری وجہ سے گرفتار ہو ۔ (بحار الانوار،ج٤٤،ص١٤٨،١٥٤)
امام حسن زہر کھانے کے بعد چالیس دن بیمار اور صاحب فراش رہے، آخر ماہ صفر میں آپ کی شہادت واقع ہوئی ۔ (کشف الغمہ ،ج٢،ص ١٦٣)
ایک دوسری روایت میں حضرت صادق آل محمد کا ارشاد ہے کہ جس وقت امام حسین اپنے بھائی کے سرہانے آئے اور حالت دیکھی تو رونے لگے ۔ امام حسن نے پوچھا ۔بھائی کیوں روتے ہو ؟
امام حسین نے کہا : کیسے گریہ نہ کروں کہ آپ کو مسموم دیکھ رہا ہوں ،لوگوں نے مجھے بے بھائی کا کر دیا ۔
امام حسن نے فرمایا : میرے بھائی ! اگر چہ مجھے زہر دیا گیا ہے لیکن جو کچھ ( پانی ، دودھ ،دواوغیرہ )چاہوں یہاں مہیّا ہے ۔ بھائی ، بہنیں اور خاندان کے افراد میرے پاس موجود ہیں ، لیکن
'لا یوم کیومک یا ابا عبداللّہ .''
اے ابا عبد اللہ! تمہاری طرح میری حالت تو نہیں ہے ، تم پر تیس ہزار اشقیاء کا ہجوم ہو گا جو دعویٰ کریں گے کہ ہم امت محمدی ہیں ۔ وہ تمہارا محاصرہ کر کے قتل کریں گے ، تمہارا خون بہائیں گے، تمہاری عورتوں اور بچوں کو اسیر کریں گے ،تمہارا مال لوٹ لیں گے، اس وقت بنی امیہ پر خدا کی لعنت روا ہو گی ۔
میرے بھائی تمہاری شہادت دلگداز ہے کہ
''و یبکی علیک کلّ شئی حتیٰ الوحش فی الفلوات و الحیتان فی البحار ''تم پر تمام چیزیں گریہ کریں گی یہاں تک کہ حیوانات صحرائی و دریائی تمہاری مصیبت پر روئیں گی ۔ (امالی صدوق مجلس ٣٠، مقتل المقرم ،ص٢٤٠)
امام حسن علیہ السلام کی وصیت
شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ جب امام حسن علیہ السلام کی شہادت کا وقت نزدیک آیا تو آپ نے امام حسین علیہ السلام کو یوں وصیت کی:
’’اے میرے بھائی! میں آپ سے الگ ہو رہا ہوں اور اپنے پروردگار سے ملحق ہو رہا ہوں مجھے زہر دے دیا گیا ہے اور میرے جگر کے ٹکڑے طشت میں جا گرے ہیں اور جس نے مجھے زہر دیا ہے اور میرے ساتھ خیانت کی ہے میں اسے ٹھیک سے جانتا ہوں۔ میں خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب لوں گا۔ لہذا آپ کو میرے حق کا واسطہ کہ آپ اس بارے میں کوئی گفتگو نہ کریں اور منتظر رہیں کہ خدا اس بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔
جب میں دنیا سے چلا جاوں تو میری آنکھوں کو بند کر دینا مجھے غسل و کفن دینا اورتابوت میں رکھ کر نانا کی قبر کی طرف لے جانا تاکہ میں ان کے ساتھ تجدید عہد کروں اس کے بعد مجھے میری دادی فاطمہ بن اسد(رہ) کی قبر کے پاس لے جانا اور وہاں مجھے دفن کر دینا۔ اور آپ عنقریب دیکھیں گے کہ کچھ لوگ یہ گمان کریں گے کہ آپ مجھے رسول خدا(ص) کے پاس دفن کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں اس وجہ سے کچھ کو آگے لگائیں گے تاکہ آپ لوگوں کو اس کام سے روکیں۔ میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ میرے جنازے میں ذرہ برابر کسی کا خون نہ بہنے دینا‘‘۔
اس کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال کے بارے میں وصیتیں کی اور ان امور کی طرف بھی توجہ دلائی جن کے بارے میں امیر المومنین علی علیہ السلام نے وصیت کی تھی۔
امام حسن مجتبی(ع) کی حالت احتضار
شیخ کلینی اور شیخ صدوق نے بیان کیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب امام حسن (ع) حالت احتضار میں تھے تو گریہ فرمانے لگے میں نے عرض کیا: آپ گریہ کر رہے ہیں جبکہ آپ نانا رسول خدا(ص) کے نزدیک خاص مقام رکھتے ہیں اور نانا نے آپ کے بارے میں اتنا سب فرمایا اور جبکہ آپ بیس مرتبہ پا پیادہ حج پر مشرف ہوئے ہیں تین مرتبہ آپ نے اپنا سارا مال و منال راہ خدا میں فقراء و مساکین کو دے دیا حتی اپنے پیروں سے جوتیاں بھی اتار کر تقسیم کر دیں ایک اپنے لیے رکھی اور دوسری فقیر کو دے دی؟
آپ نے جواب میں فرمایا:
انما ابکی لھول المطلع و فراق الاحبۃ(کافی، ج۱،ص ۴۶۱، امالی، مجلس ۳۹، ص۱۳۳)
میں جس سفر میں قدم رکھ رہا ہوں اس کے خوف سے رو رہا ہوں اور آپ عزیزوں کی جدائی پر گریہ کر رہا ہوں۔
حضرت زینب (ع) کا بھائی کے پاس آنا
مرحوم شیخ جعفر نقدی نے نقل کیا ہے کہ امام حسن (ع) کو جو زہر دیا گیا وہ اتنا سخت تھا کہ اس کی وجہ سے آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر طشت میں گرا، امام حسن علیہ السلام کو جب بتایا گیا کہ آپ کی بہن زینب (س) آپ کی طرف تشریف لا رہی ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ اس طشت کو وہاں سے ہٹا دیا جائے تاکہ زینب (س) کی اس طشت پر نگاہ نہ پڑے جس میں جگر کے ٹکڑے پڑے ہیں اس لیے کہ زینب (ع) برداشت نہیں کر پائے گی کہ بھائی کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر طشت میں گرا ہے۔ (زینب کبریٰ، ص۲۲)
جنازے پر تیر بارانی
محدث قمی نے مناقب بن شہر آشوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنازہ ٔامام حسن پر تیر بارانی بھی ہوئی اور دفن کے وقت ستر تیر آپ کے جسد مبارک سے نکالے گئے ۔ (انوار البہیہ ،ص٨٣)
اسی لئے ہم زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں:
''و انتم صریع قد فلق ''
تم ( خاندان نبوت والو )میں سے کسی کو محراب عبادت میں سر شگافتہ کیا گیا، دوسرے کو تابوت کے اندر تیر بارانی کی گئی ،کسی کو بعد قتل نوک نیزہ پر سر بلند کیا گیا ۔ اور بعض کو زندان کے گوشے میں کھینچا گیا اور اعضاء کو لوہے کا فشار دیا گیا ۔ یا زہر کے اثر سے داخلی طور سے قطع قطع کیا گیا ۔
امام حسین(ع) جنازے کو بقیع میں لے گئے اور جدۂ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ۔
مرثیۂ امام حسین(ع)
امام حسین(ع) نے جنازے کو تابوت میں رکھتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :
کیا میں سر میں تیل لگاؤں یا ریش کو عطر سے خوشبودار کروں ؟ جبکہ میں آپ کے سر کو مٹی میں دیکھ رہا ہوں اور آپ کو کٹی شاخ یا پتے کی طرح دیکھ رہا ہوں ۔
جب تک کبوتر کی آواز گونجے گی اور شمالی و جنوبی ہوا چلے گی میں آپ پر روتا رہوں گا ۔
میرا گریہ طولانی ہے،میرے آنسو رواں ہیں ، آپ مجھ سے دور ہیں اور قبر نزدیک ہے ۔
جس کا مال چھین لیا گیا ہو ، غارت شدہ نہیں ہے ، بلکہ غارت شدہ وہ ہے جو اپنے بھائی کو خاک میں لٹائے ۔ (مناقب بن شہر آشوب ،ج٤،ص ٤٥)

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram