منافقین کی خصوصیات (۲)

منافقین کی اخلاقی خصوصیات

منافقین کی اخلاقی خصوصیات

دینی ثقافت میں منافق کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی اوراق//
عدم خوداعتمادی، خوفزدگی اور بخل و کنجوسی:
سورہ احزاب، آیت 19:
"أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاء الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ أُوْلَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً؛  بخل کرتے ہوئے تمہارے اوپر تو جب خوف کا موقع آئے تو تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں، دیدے گھما گھما کے جیسے وہ آدمی جسے موت کی سختی سے غش آ جائے۔ اس کے بعد جب خوف چلا جائے تو تیز زبانوں سے تم لوگوں کو باتیں سنائیں گے۔ دولت کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے"۔
سورہ منافقون، آیت 7:
"هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَى مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ؛ وہی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ روپیہ پیسہ نہ دو ان لوگوں کو جو رسول خدا کے پاس ہیں تا کہ یہ لوگ منتشر ہو جائیں حالانکہ اللہ کے لئے خزانے ہیں آسمانوں اور زمین کے مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں"۔
سورہ توبہ، آیت 67:
"الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُواْ اللّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ؛  منافق مرد اور منافق عورتیں، سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں برائیوں کی تحریک کرتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں، وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انہیں بھلاوے میں ڈال دیا بلاشبہ منافق لوگ فاسق ہیں"۔
ضد اور ہٹ دھرمی:
سورہ بقرہ آیت 18:
"صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ؛ بہرے، گونگے اندھے ہیں، وہ اب پلٹیں گے نہیں"۔
سورہ اعراف، آیت 179:
"وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لاَّ يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَّ يَسْمَعُونَ بِهَا أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ؛ اور بے شک ہم نے دوزخ کے واسطے پیدا کیا جنات اور آدمیوں میں سے بہتوں کو ان کے دل و دماغ ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کے پاس آنکھیں ہیں۔ وہ جن سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہ وہ ہیں جو بالکل مدہوش ہیں"۔
تکبر اور بڑائی کا احساس یا اظہار:
سورہ بقرہ آیت 206:
"وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ؛ اور جب اُس سے کہا جائے کہ اللہ کے غضب سے بچو تو غرور اس سے گناہ پر اصرار کراتاہے ایسے کے لیے دوزخ ہی بس کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے"۔
ہوائے نفس کی پیروی:
سورہ محمد(ص)، آیت 16:
"وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفاً أُوْلَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ؛ اور ان میں ایسے بھی ہیں جو (بظاہر) آپ کی باتوں کو سنتے ہیں، یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان سے جنہیں علم ملا ہے، کہتے ہیں کہ یہ انھوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہ وہ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہرلگا دی ہے اور جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی ہے"۔
گناہ کا جواز پیش کرنا:
سورہ نساء، آیت 62:
"فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآؤُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ إِحْسَاناً وَتَوْفِيقاً؛ تو کیسا ہو گا اس وقت جب انہیں ان گذشتہ اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت درپیش ہو گی اور پھر وہ آپ کے پاس آئیں گے خدا کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہمارا مقصد تو بھلائی و موافقت کے سوا کچھ بھی نہ تھا"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram