قرآن کریم میں شیاطین کے مصادیق

قرآن کریم میں شیاطین کے مصادیق

کچھ لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ تم مسلمانوں کے درمیان کیوں آنا جانا رکھتے ہو اور قرآنی آیات کو کیوں سنتے ہو؟ تو وہ جواب میں کہتے تھے: ہم تو ان کا مذاق اڑانے جاتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی اوراق//
شیطان کے مختلف مصادیق ہیں، یا یوں کہئے کہ شیطان کا عنوان مختلف افراد (خواہ وہ جن ہو خواہ انسان ہو) جچتا ہے: وہ جو غافل کرتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، گناہ کی طرف بلاتے ہیں، ریا اور دکھاوے میں الجھاتے ہيں، انسانوں کی عبادت کا رخ منحرف کرکے غلط سمت میں لگا دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نیکی کرتے ہیں لیکن وہ اعمال راہ خدا کے بجائے راہ ابلیس میں شمار ہوتے ہيں اور نہ صرف ان پر کوئی ثواب مترتب نہیں ہوتا بلکہ ممکن ہے کہ یہ اعمال ان کی دوسری نیکیوں کو بھی ضائع کردیں۔
انسی شیاطین وہ ہیں جو چکنی چپٹی باتوں اور نرم لہجے سے خیر و نیکی کے بھیس میں لوگوں کو برائیوں میں پھنساتے ہیں یا وہ جو اپنے مفاد کے لئے انسانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہيں۔
قرآن اور روایات میں انسی شیطان کا عنوان مذکور ہے جو ان ہی مفسد، منحرف اور گمراہ انسانوں کا عنوان ہے۔
قرآن میں مذکورہ انسی شیطان کی کئی قسمیں ہیں:
ایک تو وہ لوگ ہیں جو صدر اول میں مختلف حیلوں بہانوں سے بیٹھکیں منعقد کرکے اپنے جیسوں کو مسلمانوں کے بھیس میں جاسوسی کے لئے مسلمانوں کے درمیان تعینات کرتے تھے، یا حتی کہ مسجدیں بنا کر (مسجد ضرار جیسی) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے، جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے تھے جنہیں منافقین کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے؛ وہ مسلمانوں کی خفیہ خبریں یہود اور مشرکین کے لئے لے جاتے تھے۔  شود؛ ان میں جاہلی افکار زندہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
یہ وہ لوگ تھے جو خفیہ اطلاعات پہنچا کر اپنے ہم پیالہ اور ہم نوالہ مشرکین، منافقین یا کفار سے کہتے تھے کہ کلام خدا اور مسلمانوں کی باتیں ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں کرسکتیں اور کہتے تھے کہ "ہم تمہارے ساتھ اور تمہارے وفادار ہيں"۔
کچھ لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ تم مسلمانوں کے درمیان کیوں آنا جانا رکھتے ہو اور قرآنی آیات کو کیوں سنتے ہو؟ تو وہ جواب میں کہتے تھے: ہم تو ان کا مذاق اڑانے جاتے ہیں۔ خداوند متعال نے ان لوگوں کو شیطان کا عنوان دیا ہے اور ان کو انسانوں کے زمرے سے حذف کرلیا ہے۔ قرآن ان کے بارے میں فرماتا ہے: اور جب منافقین اور جاسوس مؤمنین کے سامنے آتے تھے تو کہتے تھے کہ "ہم ایمان لائے ہیں" اور جب اپنے شیاطین [کفر و شرک و نفاق کے اکابر) کے ساتھ خلوت کرتے تھے تو کہتے تھے کہ "ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان (مسلمانوں) کا مذاق اڑا کر آئے ہيں"۔
دوسری قسم کے لوگ، جنہیں قرآن نے شیطان کہا ہے وہ لوگ ہیں جو بیہودہ اور بےبنیاد کاموں کے ذریعے ـ جو نمائشی تو ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں ہے ـ لوگوں کو مصرف کرتے ہیں: قرآن کریم کا ارشاد ہے: "سلیمان نے کبھی بھی اپنا ہاتھ سحر اور جادو ٹونے سے آلودہ نہیں کیا اور کبھی بھی کافر نہیں ہوئے، لیکن شیاطین (وہ جو سحر و جادو کی تعلیم دیتے تھے اور نوع انسانی میں سے تھے) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں، جاسوسی اور تجسس کو رواج دیتے ہیں اور وہ کافر ہوئے"۔ خداوند متعال نے ان لوگوں کو بھی شیطان کا خطاب دیا ہے اور انہیں انسانوں سے الگ کردیا ہے۔
تیسری قسم کے انسی شیاطین ـ جن پر شیطان کا عنوان طاری ہے اور وہ انسانیت سے خارج ہیں ـ وہ لوگ ہیں جو انبیاء اور رسل کے دشمن ہیں اور ان کے مد مقابل آکھڑے ہوئے ہيں اور دلفریب باتوں اور نعروں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جِنُّوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کو دھوکہ و فریب دینے کے لیے بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں اور اگر آپ کا پروردگار (زبردستی) چاہتا، تو وہ یہ ایسا نہ کرتے لہٰذا چھوڑیئے انہیں اور اسے جو افترا پردازی کرتے رہتے ہیں۔  
اس آیت کریمہ میں یاددہانی ہے اس بات کی کہ اس طرح کے ہٹ دھرم اور ضدی دشمنوں کا سامنا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ سمیت تمام انبیاء کو بھی کرنا پڑا ہے۔
مذکورہ تین آیات کریمہ میں خداوند متعال کچھ انسانوں کو شیطان قرار دیتا ہے اور انسانیت کا عنوان ان سے اٹھا چکا ہے اور انسانوں کے زمرے سے خارج کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram