دنیا کی آزادی کی ضرورت یورپیوں کے تسلط سے

دنیا کی آزادی کی ضرورت یورپیوں کے تسلط سے

ماضی میں یہودی ـ عیسائی رابطہ نشیب و فراز کا شکار رہتا تھا کبھی دوستانہ اور کبھی معاندانہ، کبھی جنگ اور کبھی تعاون؛ جنگ اور تعاون کا ایک سلسلہ فریقین کے مفاد پر استوار ہوتا تھا اور دیکھا جاتا تھا کہ کونسا رویہ ان کے لئے بہتر ہے۔ لیکن گذشتہ صدی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں "عیسائی صہیونیت" نامی تفکر ابھرنے کے بعد یہ تعلق ایک اتحاد (Alliance) میں بدل گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنہ 2002ع‍ کو جرمنی میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق، یورپی 87 نسلی گروہوں پر مشتمل ہیں جن میں سے 30 گروہ دوسروں سے بڑے ہیں اور روس، جرمنی، فرانس، ہسپانیہ اور پرتگال میں زندگی بسر کررہے ہیں؛ جن کی ثقافت ایک ہے اور ان کی ثقافت پر "یہودی ـ عیسائی مشترکہ ورثہ" حکمرانی کررہا ہے اور یہ یہ اصطلاح (یہودی ـ عیسائی مشترکہ ورثہ) آج کے زمانے میں مغرب میں وسیع سطح پر رائج ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے باہمی رابطے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ یہودی اور عیسائی ایک ہی چیز ہیں۔
چنانچہ "یہودی ـ عیسائی مشترکہ ورثہ" مغربی تمدن کے اصلی اجزاء اور عناصر میں شامل ہے؛ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی تورات کی تقدیس کرتے ہیں اور اس کا نام عہد قدیم رکھتے اور انجیل کو بھی تورات ہی کا حصہ قرار دیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ "تورات عہد قدیم ہے اور انجیل عہد جدید ہے" یا یہ کہ "کتاب مقدس کا پہلا حصہ تورات ہے اور دوسرا حصہ انجیل ہے"۔
ماضی میں یہودی ـ عیسائی رابطہ نشیب و فراز کا شکار رہتا تھا کبھی دوستانہ اور کبھی معاندانہ، کبھی جنگ اور کبھی تعاون؛ جنگ اور تعاون کا ایک سلسلہ فریقین کے مفاد پر استوار ہوتا تھا اور دیکھا جاتا تھا کہ کونسا رویہ ان کے لئے بہتر ہے۔ لیکن گذشتہ صدی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں "عیسائی صہیونیت" نامی تفکر ابھرنے کے بعد یہ تعلق ایک اتحاد (Alliance) میں بدل گیا ہے۔ عیسائی صہیونیت مذہبی دلیلوں کی بنیاد پر اسرائیل (نامی یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتی ہے، کیونکہ پرٹیسٹنزم (Protestantism) یا پروٹسٹننٹ مسیحیت بڑی شدت سے یہودیت کے زیر اثر ہے۔
گوکہ دوسری طرف سے یورپی تمدن کی دینی بنیاد عیسائیت اور تہذیبی بنیاد "رومی ـ یونانی" ہے۔
زمانۂ قدیم سے یورپی اقوام ایک نمایاں خصوصیت رکھتی ہیں جو ان قوموں کو دنیا کی دوسری قوموں سے الگ کر دیتی ہے اور وہ خصوصیت "قسی القلبی اور بےرحمی" ہے، یہاں تک موت کا ، ٹارچر اور قتل ان کے ہاں ایک تفریح ہے اور روم شہر کے مرکز میں کولوزیئم (Colosseum) نامی موت کا اکھاڑہ، پورے یورپی معاشرے یعنی مردوں، عورتوں حتی کہ بچوں کی تفریح کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یورپی گھرانے خونخوار اور درندہ شیروں کا تماشا دیکھنے جاتے تھے جن کو عرصے تک بھوکا رکھا جاتا تھا اور پھر جنگی قیدیوں اور ان کی بیویوں اور بچوں کے اکھاڑے میں لایا جاتا تھا اور بھوکے شیر یورپی مردوں، عورتوں اور بچوں کے قہقہوں اور "مارو، مارو" کی صداؤں کے بیچ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیتے تھے۔ یا پھر جنگی قیدیوں کو اکھاڑے میں لایا جاتا تھا اور یورپی تماشائیوں کی خوشیوں کے بیچ انہیں ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جاتا تھا اور یہ لوگ ان کی لڑائی اور ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل سے لذت اٹھاتے تھے۔ ان قیدیوں میں کئی لوگوں کے آپس میں دوستیاں ہوتی تھیں لیکن انہیں مجبور کیا جاتا تھا کہ ایک دوسرے کو قتل کریں اور یورپیوں کے بچے تک اس خونی کھیل سے مزا لیتے تھے۔ اس اکھاڑے میں ہونے والی ایک تفریح شمشیر بازی کے مقابلوں پر مشتمل تھی جو فریقین میں سے ایک کے قتل پر منتج ہوتے تھے۔ یہ سارے خونی کھیل یورپ اور قدیم روم کے ہر دلعزیز ترین تفریحات اور مقابلوں میں شمار ہوتے تھے چنانچہ بآسانی سمجھ لیتے ہیں کہ کروڑوں انسانوں کی ہلاکت پر منتج ہونے والی یورپیوں کی باہمی جنگیں محضماضی میں رونما ہونے والے متعدد خونی واقعات کی تکرار کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ جنگیں ایک بار پھر دہرائی جاسکتی ہیں۔
ان جنگوں میں سے ایک یورپ کی 30 سالہ جنگ تھی جس میں ایک کروڑ دس لاکھ انسان جان کی بازی ہار گئے۔ جرمنی کی دو کروڑ آبادی میں سے ستر لاکھ مارے گئے اور ایک کروڑ تیس لاکھ رہ گئے اور نرینہ آبادی شدت سے گھٹ گئی چنانچہ جرمنی کی اس وقت کی حکومت نے آبادی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے مردوں کو متعدد شادیوں پر مجبور کیا۔ اور نپولین کی جنگ میں ساٹھ لاکھ سے زاید یورپی اپنوں کے ہاتھوں مارے گئے؛ جبکہ برطانیہ اور فرانس کی 7 سالہ لڑائی میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد اور روس کی خانہ جنگیوں میں چالیس لاکھ سے زاید افراد مارے گئے جبکہ پہلی عالمی جنگ میں ـ جو آسٹریا اور سربیا کے درمیان شروع ہوئی تھی ـ دو کروڑ افراد مارے گئے اور دوسری عالمی جنگ میں ـ جو پولینڈ پر جرمنی کے حملے سے شروع ہوئی ـ تقریبا ساڑھ آٹھ کروڑ لوگ مارے گئے جن میں یورپیوں کے علاوہ دوسری اقوام کے لوگ بھی شامل تھے۔ اور ہاں یورپیوں کے ہاتھوں یورپیوں اور دوسری اقوام کے قتل عام کی کہانیاں اتنی زیادہ ہیں کہ جن کے تذکرے کی گنجائش اس مضمون میں نہیں ہے۔
یہ خونخوارانہ جنگیں اور خونی قتل عام کے واقعات ہیں جن میں تشدد اور کشت و خون کا سلسلہ اپنی ہولناک ترین شکل میں اور ہر قسم کی روشوں سے فائدہ اٹھا کر جاری رہا ہے۔
یورپیوں کے ہاں کے تشدد کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں:
٭ انسانوں کا سر آہنی اور نوکدار کنکھیوں سے کنگھی کرنا،
٭ آری سے انسانی بدن کے ٹکڑے کرنا،
٭ دباؤ ڈالنے والے آلات سے انسانوں کی ہڈیاں توڑنا،
٭ آہنی سلاخوں کو آگ میں رکھنا اور گرم سلاخوں سے انسانوں پر تشدد کرنا اور انہیں قتل کرنا،
٭ انسانوں کی پاؤں کو دو مخالف سمتوں میں کھینچ کر بدن کو چیرنا،
٭ خاص روشوں سے انسانوں کے جبڑے توڑنا،
٭ خاص آلوں کے ذریعے عورتوں کے پستان جڑوں سے اکھاڑنا،
٭ آہنی تابوتوں اور مقدمے کی آہنی کرسیوں کو تقدیس نام کی عدالتوں میں استعمال کرنا جن میں بےشمار آہنی کیلیں ہوتی تھیں۔
یورپیوں کی تربیت اس قساوت اور بےرحمی سے ہوئی تھی چنانچہ وہ یہی بےرحمی اور سنگدلی لے کر یورپ سے باہر نکلے تو انسانیت کے لئے وسیع ویرانیوں اور بربادیوں کا سبب بنے۔
یورپی سمندر پار سرخ فاموں کی سرزمیں میں پہنچے تو انھوں نے وہاں کے باشندوں کو ہی نہیں بلکہ وہاں موجود حیوانات اور مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں کو نیست و نابود کیا اور اس قدر بدترین اوزاروں اور روشوں کو استعمال کیا کہ جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
وہ وہاں کے لوگوں کو امداد کے نام پر سینکڑوں ہزاروں کمبل لے گئے جو چیچک، ہیضے، تپ محرقہ اور تپ دق کے جراثیموں سے آلودہ تھے تا کہ کوئی بھی براہ راست اقدام کئے بغیر مقامی باشندوں کو نیست و نابود کریں۔ انھوں نے چند ہی برسوں میں کروڑوں مقامی باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
انھوں نے ہر اس شخص کے لئے انعام مقرر کیا جو کسی سرخ فام مرد، عورت کا بچے کا سر قلم کرکے لائے اور پورے براعظم امریکہ میں انسان کے شکاری پھیلا دیئے اور انسان کے قتل عام کا بھیانک کاروبار شروع کیا۔ سروں کے لانے میں مشکل پیش آئی تو انھوں نے اعلان کیا کہ سر کے بجائے صرف سر کی ادھڑی ہوئی کھال لانے پر اکتفا کریں۔ چنانچہ انسان کے یورپی شکاری انسانوں کو مار کر ان کے سر کی کھال ادھیڑ کے لانے لگے تا کہ نقل و حمل میں آسانی ہو؛ اور بہت سے یورپی شکاری فخر کرتے تھے کہ ان کے جوتے انسان کی جلد کے بنے ہوئے تھے۔ یہ اعمال مزید آگے بڑھے اور مقامی باشندوں کے جسموں کو اعلی یورپی اہلکاروں کی موجودگی میں چیرا پھاڑا جانے لگا اور ان کے سامنے ہی ان کے بدن کا مثلہ کیا جانے لگا۔ اور درندگی کے ان اعمال کے لئے خصوصی تقریبات منعقد ہونے لگیں۔
انھوں نے امریکہ کی 10 کروڑ مقامی آبادی کا قتل عام کیا اور یوں وہاں کی آبادی بدل گئی اور یورپی باشندے وہاں کے مقامی باشندے بن گئے جو کہ مختلف یورپی اقوام سے تھے؛ چنانچہ آج برازیلی باشندے پرتگالی اور ہسپانوی ہیں، اور ارجنٹینا کے باشندے ہسپانوی اور اطالوی ہیں اور جنوبی امریکہ کی اکثریتی آبادی پسپانیہ اور دوسے یورپی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوروگوئے، کولمبیا، وینزوئلا وغیرہ کی آبادی کی صورت حال بھی یہی ہے۔
اور جب یورپیوں نے سیاہ فاموں کی سرزمین "افریقہ" کا رخ کیا تو انھوں نے غلام بنانے کو تجارت کا درجہ دیا اور انسانوں کی خرید و فروخت کو حیوانات کی خرید و فروخت کی شکل میں رائج کیا۔ یورپی حکومتوں نے اس بھونڈی تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم کی اور اس کے لئے منظم قوانین وضع کئے، کمپنیاں قائم کردیں اور ان کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت منافع بخش ترین کار بار میں بدل گئی۔
جب غلاموں کی تجارت مجاز قرار دی گئی اور نجی کمپنیوں کو بھی اس کاروبار میں شراکت کی اجازت ملی تو انھوں نے کثیر تعداد میں افریقی باشندوں کو یورپی ممالک اور ان کی نوآبادیوں میں بطور مال التجارہ برآمد کیا۔ فرانس ـ جو یورپ کے اندر بھی اپنی تہذیب پر فخر کے حوالے سے مشہور ہے ـ کی کمپنیوں نے کم از کم ایک لاکھ افریقی باشندوں کو غلام بنا کر امریکہ اور براعظم امریکہ میں اپنی نو آبادیوں میں منتقل کیا۔ علاوہ ازیں ہسپانوی، برطانوی، جرمن، اطالوی اور پرتگالی کمپنیوں نے اتنے ہی لوگوں کو غلام بنایا اور مختلف ممالک میں بھجوایا۔ یوں امریکہ منتقل کئے جانے والے سیاہ فاموں کی تعداد کروڑوں تک پہنچی۔ یہ سارے اقدامات قابل قبول اور تسلیم شدہ تھے اور کمپنیوں کے اجازت نامے یورپی حکومتوں کی طرف سے جاری کئے جاتے تھے اور کئی لوگ ان کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرتے تھے۔
جو کچھ مندرجہ بالا سطور میں بیان ہوا وہ کردار ہے جو یورپیوں نے امریکہ اور افریقہ میں ادا کیا گوکہ انھوں نے ایشیا میں حیرت انگیز کارنامے سر کئے۔ یورپی حکومتوں نے ایشیا میں منشیات کا کاروبار شروع کیا۔ برطانیہ نے منشیات منشیات کی پہلی کھیپ سنہ 1781ع‍چین کو برآمد کیا۔ چین میں منشیات کی لت سے مسائل پیدا ہوئے تو چین کے سلطان نے منشیات کی درآمد پر پابندی کا حکم جاری کیا؛ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ فرانس اور برطانیہ نے مل کر جنگی بحری جہاز چین کے سمندر میں روانہ کئے تاکہ چین کو فوجی طاقت سے منشیات کی سوداگری کے لئے اپنے دروازے کھول دے۔ یورپیوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر چینی افواج کو شکست دی اور بیجنگ پہنچ گئے اور سنہ 1785ع‍میں سلطان چین کو تیانجین معاہدے (Treaty of Tianjin) پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔
معاہدے پر دستخط کرنے والے یورپیوں میں برطانیہ، فرانس، چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مندوبین شامل تھے۔ اس معاہدے کے تحت افیون کو بطور خاص چین کے مجاز درآمدی سامان کی فہرست میں جگہ دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ یورپیوں نے چین کو مجبور کیا کہ اپنے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ و ترویج کو بھی مجاز قرار دے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں منشیات کی لت میں مبتلا چینیوں کی تعداد سنہ 1850ع‍میں 20 لاکھ تک اور سنہ 1878ع‍میں 12 کروڑ تک پہنچی۔ یہ معاہدہ سنہ 1911ع‍تک نافذ العمل رہا۔
جو کچھ بیان ہوا اس انسانی خصلت کی مختصر سی رپورٹ تھی جس میں ظلم و ستم، اپنی بدترین شکل میں، رسوخ کرچکا ہے مدنیت و تہذیب اس کو بدل نہیں سکی ہے۔ ایک نادان اور ذہنی پسماندہ شخص بھی جس عمل کے بارے میں نہیں سوچ سکتا، یورپ کے تہذيب یافتگان وہی کچھ عملی طور پر انجام دیتے ہیں؛ معاصر تاریخ میں ہم نے اپنی آنکھوں سے سربوں کے ہاتھوں بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل عام دیکھا جس کے نتیجے میں تقریبا 250000 افراد جاں بحق ہوئے 60000 سے زائد خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ پندرہ لاکھ مسلمانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ قتل عام کے بہت سے بڑے واقعات اقوام متحدہ کے زیر قیادت یورپی فوجی دستوں کی موجودگی میں رونما ہوئے۔
بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل عام چار سال تک جاری رہا، سربوں میں اس عرصے میں 800 مساجد کو شہید کیا جن میں سے بعض تاریخی مسجدیں سولہویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی تھیں۔ جدید یورپیوں نے منگولی کتاب سوزانی کی روایت کو زندہ کیا اور دارالحکومت سرائیوو کے تاریخی کتب خانے کو نذر آتش کیا۔ متنازعہ ہالوکاسٹ کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہانے والے سرب یورپیوں نے ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو کیمپوں میں بھوکا پیاسا رکھا یہاں تک کہ ان کے جسم ڈھانچوں میں تبدیل ہوئے۔
ماڈرن یورپ کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے متعدد واقعات میں شاید سب سے زیادہ بھیانک اور وحشیانہ قتل عام سریبرینیتسا کا قتل عام تھا۔ سربوں نے دو سال تک سریبرینیتسا کا محاصرہ کئے رکھا اور جب وہاں کے عوام کو بھوکا پیاسا رکھ کر بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہ کرسکے اور شہر میں داخل نہیں ہوسکے تو انہیں ہتھیار ڈالنے کے عوض امان نامہ دیا اور جب انھوں نے اپنا اسلحہ سربوں کی تحویل میں دیا تو تو انھوں نے یورپی روایات کے عین مطابق عہدشکنی کی، مردوں کو خواتین سے جدا کردیا اور 12000 مردوں اور کم عمر لڑکوں کو ایک مقام پر جمع کیا اور سب کو نہایت بےدردی سے چاقؤوں اور خنجروں سے ذبح کیا اور ان کے جسموں کا مثلہ کیا جبکہ اقوام متحدہ کی طرف سے شہر کی حفاظت پر مامور ولندیزی فوجی دستے کھلی آنکھوں سے اس درندگی کا تماشا دیکھتے رہے۔
حالیہ برسوں میں یورپیوں کے نہایت بھونڈے اقدامات میں سے وہ وحشیانہ تشدد تھا جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فوجیوں نے عراق میں سرانجام دیئے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی 80 فیصد آبادی برطانویوں، آئرستانی (Irish) اور جرمن باشندوں پر مشتمل ہے۔ یہ رسوائی سنہ 2004ع‍میں طشت از بام ہوئی۔ انھوں نے بغداد کے بدنام زمانہ جیلخانے "ابو غریب" میں مردوں اور عورتوں پر منظم جنسی تشدد کیا، برقی جھٹکوں (Electric shocks)، کتوں اور تشدد کے تمام تر اوزاروں کو بروئے کار لا کر قیدیوں کو آزآر دیا۔ امریکیوں نے قیدیوں کے خلاف تشدد کی تیرہ قسمیں آزما لیں۔ تشدد کا سلسلہ منہ پر تھپڑ مارنے اور زد و کوب کرنے سے شروع ہوجاتا تھا اور مردوں اور عورتوں پر جنسی تشدد، عورتوں اور مردوں کو ننگا رکھنے، مردوں کو عورتوں کا زیر جامہ پہننے پر مجبور کرنے، قیدیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ غیر فطری جنسی فعل پر مجبور کرنے اور ان کی ویڈیو فلم بنانے پر ختم ہوجاتا تھا نیز وہ ننگے قیدیوں کو ایک دوسرے پر ڈھیر کیا جاتا تھا۔
بیرونی دنیا میں یورپیوں کی ان جنگوں کے نتیجے میں یورپی ہی "دنیا" اور "عالم" میں بدل گئے؛ اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کی زیادہ تر خشکیوں پر ان کا قبضہ ہے، یہاں تک کہ شمالی اور جنوبی امریکہ کے اصل باشندوں کا قتل عام کرکے وہ ان سرزمینوں کے مالک بن بیٹھے؛ آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کو نیست و نابود کرکے اس سرزمین کو بھی اپنی ملکیت میں تبدیل کیا، براعظم ایشیا کے بڑے حصے پر ان کا تسلط عیاں ہے، کیونکہ روس مشرقی یورپ سے مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے جبکہ روس کی سرحدات شمال مغرب میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے ملی ہوئی ہیں اور ان کا درمیانہ فاصلہ چار کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ انگریز برطانیہ پر حکمروائی کرتے ہیں اور دنیا کے 16 ممالک پر مسلط ہیں گوکہ ان 16 ممالک کو خودمختار ممالک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے لیکن ابھی تک برطانوی بادشاہت سے وابستہ ہیں اور ان ممالک کو "برطانوی سمندرپار علاقے (British Overseas Territories) کہا جاتا ہے اور کینیڈا، آسٹریلیا اور جمیکا (Jamaica)  ان ہی علاقوں میں مشہور ترین ہیں؛ جیسا کہ فرانس کے بھی 13 سمندر پار علاقے ہیں جن کو فرانسیسی سمندر پار علاقے (French Overseas Territories) کہا جاتا ہے۔
اور آپ یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شمالی یورپ میں ایک چھوٹا سا ملک ڈنمارک واقع ہے اور یورپ کے باہر اس کے زیر تسلط علاقے اس ملک کے رقبے سے دس گنا زیادہ ہیں؛ جن میں گرین لینڈ، (Greenland) اور فائو جزائر (Fao Islands) شامل ہیں۔ یوں یورپیوں نے دنیا کے وسیع علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے جو ان کی اپنی ضروریات سے کئی گنا وسیع ہیں۔ ان میں زیادہ تر علاقے نہایت بہت زرخیز اور وسائل سے مالامال ہیں۔ چنانچہ یورپیوں کے پاس کبھی نہ ختم ہونے والے وسیع و عریض مالی وسائل ہیں۔ وہ دنیا بھر میں بےمثل معاشی خوشحالی سے بہرہ ور ہیں۔
یورپیوں نے دنیا بھر کی عظیم ترین سیاسی جماعت تشکیل دی ہے جس کو Freemasonry کہا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سیاسی راہنما، تاجر اور ذرائع ابلاغ کے مالکان شامل ہیں؛ اور سوڈان سمیت (1) کئی اسلامی ممالک کے سیاستدان، تاجر اور صحافی بھی اس کے رکن ہیں جو ان ممالک کے مختلف اداروں اور ذرائع ابلاغ اور کاروبار تجارت میں مصروف عمل ہیں۔
دنیا میں یورپیوں کی یہ ہولناک ترقی، ہماری عقلوں کے چھن جانے کا سبب ہوئی ہے، چنانچہ جب ہم میں سے کوئی شخص یورپ، امریکہ، ایشیا (بمعنی روس) اور آسٹریلیا کے باشندوں کو دیکھتا ہے، جو ایک جیسا لباس پہنتے ہیں، ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں، ایک جیسے کھیل کھیلتے ہیں، تو وہ سمجھتا ہے کہ اس پر بھی لازم ہے کہ ان کے تمام اعمال کو دہرایا کرے اور وہی کرے جو وہ کرتے ہيں، کیونکہ ان کے خیال میں "یہ وہ کام ہیں جو پوری دنیا انجام دیتی ہے"؛ اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو نیست و نابود کیا، دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کیا ہے۔ ہم مسلمان اکیسویں صدی میں بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ دنیا نہیں ہے بلکہ سامراجیوں کا مجموعہ ہے اور ان کی ریت روایت ایک جیسی ہے، ان کی تہذیب ایک ہے؛ عظمت رفتہ کے دعویداروں کے اذہان اور افکار یورپیوں کے ہاتھوں اسیر ہیں؛ ہم ان کے پیچھے پیچھے چلنے پر فخر کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ سے جب ہمیں خطرہ محسوس ہوتا ہے تو ان ہی میں سے کچھ اوروں کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔ ادھر وہ جب ان کے آپس میں کوئی نظری اختلاف ابھرتا ہے یا ان کے اپنے مفادات کی بنا پر ان کے درمیان مسابقت کی کیفیت سامنے آتی ہے تو بڑی آسانی سے ہم سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اوزار کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ اور بعض ممالک کو ایک مدد سے یا دوسرے مدد سے بلیک میل کرتے ہیں؛ لہذا ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اپنی عقلوں کو ـ جو نہ دیکھتی ہیں اور نہ سنتی ہیں سوا ان چیزوں کے جو یورپی دیکھنے یا سننے کے لئے پیش کرتے ہیں ـ آزاد کرائیں۔ اور یہ وہی آزادی ہے جو اس مضمون کا مطمع نظر ہے؛ یہ آزادی اس آزادی سے کوئی شباہت نہیں رکھتی جو نسل کشیوں اور اقوام کی بیخ کنیوں اور دوسروں کے استحصال پر استوار ہے، کیونکہ ہم ایسے دین کے تابع ہیں جو جس نے انسان کو عزت و احترام دیا ہے اور اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا ہے؛ ہمارا دین وہ دین ہے جو نہ صرف غلام پروری اور غلاموں کی تجارت سے سروکار نہیں رکھتا بلکہ اس نے غلامی کی آزادی کو عبادت قرار دیا ہے اور جنگوں میں عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے اور قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک واجب کیا ہے: " اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس (اللہ) کی محبت میں محتاج اور یتیم اور جنگ کے قیدی کو۔ (سورہ انسان، آیت 8)
ہمارا دین وہ ہے جس کے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ نے جنگ کے لئے عزیمت کرنے والے اصحاب سے فرمایا:
"انطلقوا باسم الله، لا تقتلوا شيخا فانيا، ولا طفلا صغيرا، ولا امرأة ...؛ جاؤ اللہ کے نام سے، اور اللہ کی ذات کی مدد سے اور رسول خدا کی ملت پر، اور بڑے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو مت مارو۔
اور فرمایا:
"استوصوا بالاساري خيرا؛ قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھو۔
کیا ہم نے اپنے دماغ اور خیالات کو یورپ کے کنٹرول سے آزد کرا دیا ہے اور کیا ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ خیر اور نیکی کا پیغام دنیا میں پھیلادیں؟ والسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: عبدالعلیم شداد ۔۔۔ سوڈان
ترجمہ و تعلیق: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالعلیم شداد سوڈان کے قلمکاروں میں سے ہیں، اچھا لکھتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کے مضمون سے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ ان کا قلم آزاد ہوگا اور وہ جناب عمر البشیر اور یہود نوازی اور سعود نوازی کے ہلاکت خیز دائرے سے باہر قلم اٹھانے کے قابل ہونگے۔
وہ عیسائیوں کے ہاتھوں بوسنیا کی 800 مساجد کی شہادت سے تو بہت ناراض ہیں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ناراض ہونا بھی چاہئے فلسطین میں یہودیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی نابودی کے منصوبوں کو شمار میں ہی نہیں لاتے؛ حجاز میں بنی سعود نے اور بحرین میں بنی خلیفہ نے، اور یمن میں بنی سعود، بنی خلیفہ اور بنی نہیان نے سینکڑوں مساجد کو شہید کیا جس کی طرف وہ اشارہ تک نہیں کرتے، اور تو اور یمن کی مساجد اور وہاں کے عوام کے قتل عام میں جناب عمر البشیر بطور مذہبی فریضہ !!! ملوث ہیں اور یمن کی تباہی میں سوڈان کا کردار کرائے کے قاتلوں کا کردار ہے۔
جناب شداد یورپیوں کے ہاتھوں سرخ فاموں اور سیاہ فاموں نیز مسلمانوں کے قتل عام اور چین میں مغربیوں کے ارسال کردہ منشیات سے بہت زیادہ ناراض ہیں اور ایک انسان اور مسلمان کے طور پر ہونا بھی چاہئے لیکن وہ یہودی ریاست نیز بنی سعود، بنی نہیان اور بنی فلاں و بنی فلاں کے ذریعے پورے عالم اسلام میں دہشت گردی پھیلانے اور قتل انسان کے جواز کے فتؤوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا یمن، شام، عراق، پاکستان اور افغانستان اور فلسطین کے انسان، انسان نہيں ہیں جنہیں انھوں نے یکسر نظرانداز کیا ہے۔
جناب شداد نہ صرف یہودی سعودی جڑواں ریاستوں اور بنی سعود کی سرکردگی میں قائم اتحاد کی جرائم پیشگی، طفل کُشی، اور قتل و غارت ـ جو مغربی دنیا، لبرل جمہوریت کے دعویداروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں وغیرہ کی کھلی آنکھوں کے سامنے انجام پا رہی ہے ـ کو نہ صرف جرم قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے لئے حتی یورپیوں پر بھی لعنت ملامت نہیں کرتے جو تمام اسلامی ممالک میں قتل و غارت اور تخریبکاریوں اور حرمت شکنیوں کے سہولت کار ہیں۔ وہ یہودی ریاست کے حکمرانوں اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کے حوالے سے کوئی تنقید روا نہیں رکھتے یہاں تک کہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں ہونے والی خونریز جنگوں کے حوالے سے اپنے ہی ذکر کردہ "یہودی ـ عیسائی مشترکہ ورثے" کی طرف بھی اشارہ نہیں کرتے اور یہ کہنے سے تغافل عارفانہ کرتے ہیں کہ "یہاں بھی قتل و غارت و تخریب کرنے والے ان ہی یورپیوں کے تابع ہیں جو "یہودی ـ عیسائی مشترکہ ورثے" کو ہی دنیا پر حکمرانی کا سرمایہ سمجھتے ہیں۔
وہ اللہ کے کلام اور سورہ انسان کی آیت 8 میں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے کلام میں بچوں اور عورتوں اور قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کے احکامات کی طرف بےدہڑک اشارہ کرتے ہيں لیکن گویا تکفیری جماعتوں نیز یورپیوں کے کٹھ پتلی سعودیوں اور نہیانیوں کے ہاتھ ہزاروں بچوں اور عورتوں کے قتل اور قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ خدا اور رسول نے مطلق طور پر مسلم اور غیر مسلم انسان کی حرمت پر زور دیا ہے تو ہم عرض کرتے ہیں کہ یمنی، شامی، عراقی، لیبیائی، مصری اور بحرینی نہ صرف انسان ہیں بلکہ مسلمان بھی ہیں، تو ان کے قتل اور ان کے ممالک کی نابودی ـ جن میں سوڈان بھی ملوث ہے ـ کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے؟ تو کیا کیا جناب شداد یورپیوں سے بھی بڑھ کر انسانیت اور امت مسلمہ پر ظلم کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں؟
وہابی مفتی ابن عثیمین نے فتوی دیا کہ "ہمارے ہاں ظاہر امر یہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا چاہئے اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ دشمن کے دل کو توڑ دیا جائے اور ان کی اہانت کی جاسکے۔ اور پھر قرآنی آیت "فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُم؛ تو جیسی اس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ویسی ہی زیادتی تم اس کے ساتھ کرو"، (سورہ بقرہ، آیت 194) حالانکہ فتوی آیت کریمہ سے تضاد رکھتا ہے، بہرحال:
مصر کے دارالافتاء نے کے ابن عثیمین کے اس فتوے کو داعش کے قیام کا سبب گردانا ہے۔ لیکن جناب شداد نے اس یورپی نواز فتوے کی طرف بھی کوئی اشارہ نہيں کیا ہے۔
عین ممکن ہے کہ کوئی یہ کہہ دے کہ اس وہابی مولوی نے یہ فتوی کفار کے خلاف دیا ہے ـ جو اگر ایسا بھی ہوتا تو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا ـ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ وہابیت میں کفر کے خلاف جنگ کا تصور ہی نہیں ہے۔ وہابیت مسلمانوں کے قتل عام پر استوار ہوئی ہے اور وہابیت کے فتؤوں کا نشانہ وہ مسلمان ہوتے ہيں جو کسی بھی وقت ان ہی یورپیوں کے لئے مسائل کھڑے کرتے ہیں جنہوں نے جناب شداد کے بقول دنیا کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔ ابن عثیمین نے یہ فتوی بھی مصر، لیبیا، شام، یمن اور عراق و بحرین کے مسلمانوں اور ان کی عورتوں اور بچوں کے قتل کے جواز کے طور پر جاری کیا ہے۔
...........

http://www.sudanile.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram