انسان یا جن کس طرح شیطان بن جاتا ہے؟

انسان یا جن کس طرح شیطان بن جاتا ہے؟

انسان کے لئے شیطان (خواہ ابلیس خواہ انس خواہ جن) کے وجود کا فلسفہ، بالکل انسان کی اندرونی قوتوں، جبلتوں اور نفس امارہ اور انسان کے دوسرے نفسوں کی مانند ہیں۔ ان جبلتوں اور نفس امارہ کا کام یہ ہے کہ کہ وہ انسان کو مادیات میں گھیر لیں، حقیقی کمال سے دور کریں اور ظاہری خوبصورتیوں میں گھیر کر حقیقی محاسن اور خوبصورتیوں سے دور رکھیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
شیطان (خواہ وہ جنی ہو خواہ انسی ہو) مختلف حیلوں اور حیلوں اور گناہوں کے اسباب اور مظاہر کو خوبصورت بنانے کے ذریعے انسان کو ان گناہوں اور برے اعمال کی ترغیب دلاتے ہیں، لیکن وہ زور زبردستی کرکے انسانوں کو بدیوں سے دوچار کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
شیطان کے سلسلے میں اٹھائے گئے سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ شیطان کے وجود کا فلسفہ کیا ہے؟ خدا نے شیطان کو کیوں خلق فرمایا جو انسان کو فریب دیتا ہے اور اسے گمراہ کردیتا ہے۔ اس یادداشت میں اس مسئلے کا جائزہ لیا گیا ہے:
ابلیس (یعنی جانا پہچانا شیطان) ہے کون؟
ابلیس ـ یا وہی مشہور شیطان ـ اللہ کی مخلوقات اور جنّات میں سے ہے جس نے طویل مدت تک خدا کی عبادت کی لیکن خدا کی نافرمانی کرکے اللہ کی درگاہ سے نکال باہر کیا گیا:
خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ؛ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے، جس نے سجدہ نہ کیا، اس نے انکار اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔ (سورہ بقرہ، آیت 34)

شیطان ہے کیا؟
یہ لفظ "شیطان" مفرد صورت میں 70 مرتبہ اور جمع کی صورت میں "شیاطین" 18 مرتبہ آیا ہے۔
امین الاسلام طبرسی، راغب اصفہانی اور دیگر کی رائے کے مطابق لفظ شیطان کا آخری "نون" اس لفظ کا جزء ہے اور اس کا مادہ "شطن" ہے؛ جس کے معنی "خیر اور نیکی سے دور ہونے" کے ہیں۔ چنانچہ شیطان کے معنی "خیر سے دور ہونے والے" کے ہیں۔ اور بعدازاں ہر باغی اور شورشی، طاغی اور فریب کار ہیں چاہے وہ جنّ ہو چاہئے انسان ہو چاہے زمین پر رینگنے اور چلنے والا ہو"۔

شیطان کا فلسفۂ وجود  
مذکورہ بالا سطور کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کہا جائے کہ خداوند متعال نے ابلیس یا ہر شیطان کو (خواہ جنی ہو خواہ انسی ہو، جو شیطان کی صورت اپنا چکا ہے ـ وجود عطا کیا؟
جواب یہ ہے کہ ہر انسان اور ہر جن شیطان ـ بمعنی باغی، شورشی اور مکار و فریبکار ـ ابتدائی طور پر شیطان کے طور پر خلق نہیں ہوا ہے۔
مخلوقات ابتداء میں پاک ہیں اور انسان اور جن اللہ کی مخلوق ہے اور خداوند متعال نے اسے نیک اور اچھی صورت میں پیدا کی ہے۔ حتی کہ ابلیس ابتداء میں اللہ کی اطاعت کے حوالے سے مشہور ہوا ہے اور بارگاہ رب کے مقربین میں سے تھا لیکن اللہ کے حکم کے سامنے ڈٹ گیا، اس نے انسان کے آگے سجدہ ریز ہونے سے انکار کیا، لغزش کا شکار ہوا اور راندہ درگاہ بن گیا۔ شیطان نے اپنی طویل عبادت کے بدلے اللہ سے طویل العمری کی اور قیامت تک زندہ رہنے کی التجا کی اور اللہ نے اس کو معینہ دن تک زندگی عطا کی۔
"قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ * وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ * قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ * قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَى يَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ؛ ارشاد ہوا (فرشتوں کی صف سے ) نکل جا کہ تو مردود (میری درگاہ سے راندہ) ہوا ہے * اور روز جزا تک تجھ لعنت ہے * اس نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے * فرمایا: تجھے ان مہلت پانے والوں میں سے ہے * جنہیں وقت معلوم تک مہلت دی گئی ہے۔ (سورہ حجر، آیات 34 تا 38)
انسان اور جِنّات (منجملہ ابلیس جو کو جنات میں سے ہے) پر خلق نہیں ہوئے ہیں کہ لوگوں کو فریب دیں۔ وہ پسندیدہ مقاصد کے لئے خلق ہوئے ہیں اور ان کی خلقت خیر ہے لیکن بعض انسان اور جنات اللہ کے عطا کردہ اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر شیطان کی صورت اختیار کرتے ہیں، یعنی اپنے نفس کے دھوکے میں آتے ہیں اور جو اختیار ان کے پاس ہے اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، دوسروں کو فریب دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ انہیں اپنی طرح گمراہ کردیں۔
بالفاظ دیگر، چونکہ انسان اور جنات کے پاس اختیار ہے اور ذاتاً مختار ہیں اور اختیار کا لازمہ یہ ہے کہ وہ صحیح یا غلط راستے کو منتخب کرسکتے ہیں۔ ان میں سے جو شخص غلط راستے کا انتخاب کرتا ہے اور دوسروں کو بھی غلط راستے پر گامزن ہونے کی دعوت دیتا ہے یہی شیطان ہے۔

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ٭ مَلِكِ النَّاسِ ٭ إِلَهِ النَّاسِ ٭ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ٭ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ٭ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ؛
سہارا اللہ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا بڑا مہربان ہے
کہئے میں پناہ لیتا ہوں تمام آدمیوں کے پروردگار سے ٭ جو تمام آدمیوں پر سلطنت کا مالک ہے ٭ جو سب آدمیوں کا خدا ہے ٭ شر سے وسوسے پیدا کرنے والے سے جو باربار پلٹ پلٹ کر آتا ہے ٭ جو لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے ٭ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے۔ (سورہ ناس)

شیطان کی فریب کاری کا فلسلفہ
لیکن اگر کہا جائے کہ خداوند متعال نے ابلیس کو مہلت کیوں دی؟ شیاطین انسانوں کی زندگی میں کیوں ہیں اور انہیں غلط راستے پر گامزن ہونے کی رغبت کیوں دلاتے ہیں؟ اور خداوند متعال ان کی فریب کاریوں کا سد باب کیوں نہیں کرتا؟  
جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے لئے شیطان (خواہ ابلیس خواہ انس خواہ جن) کے وجود کا فلسفہ، بالکل انسان کی اندرونی قوتوں، جبلتوں اور نفس امارہ اور انسان کے دوسرے نفسوں کی مانند ہیں۔ ان جبلتوں اور نفس امارہ کا کام یہ ہے کہ کہ وہ انسان کو مادیات میں گھیر لیں، حقیقی کمال سے دور کریں اور ظاہری خوبصورتیوں میں گھیر کر حقیقی محاسن اور خوبصورتیوں سے دور رکھیں۔
اس مسئلے کا سبب یہ ہے کہ انسان اور جن کی نشوونما ایک اختیاری عمل ہے، اگر انسان فطری اور طبیعی جبلتوں کا حامل نہ ہوتا تو فرشتوں کی مانند بےاختیار ہوتا، شیطان اور اندرونی قوتوں کا اس پر کوئی اثر نہ ہوتا، لیکن انسان اور جن صاحب اختیار ہیں اور انہیں اپنے اختیار سے حقیقی کمال کی طرف گامزن ہونا چاہئے اور یہ سارے مسائل اختیار کا لازمہ ہیں۔ (غور کیجئے)
دوسری طرف سے کمال، نیکی، عقل، انبیاء اور رسل کی طرف رجحان ان نفسوں اور شیطان نیز جبلتوں کے مد مقابل آ کھڑا ہوتا ہے جو انسان کو کمال اور سعادت کی طرف ہدایت کرتا ہے اور صرف ان دو متضاد قوتوں کی بیک وقت موجودگی ہی کی صورت میں انسان یا جن اپنے اختیار سے ان دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرسکتا ہے اور سعادت یا شقاوت تک پہنچ جاتا ہے۔
چنانچہ اگر نفس امارہ، سرکش اندرونی قوتیں نہ ہوتیں اور شیاطین نہ ہوتے تو انسان یا جن اللہ کی طرف کی آزمائشوں سے نہ گذرتا اور ان قوتوں کی نفی نہ کرسکتا اور ان کے خلاف جدوجہد نہ کرسکتا اور اس کی اعلی استعدادات اور صلاحیتوں کو جلا اور نشوونما نہ ملتی اور وہ کمال و سعادت کی راہ پر گامزن نہ ہوسکتا اور ابدی سعادت تک نہ پہنچ سکتا۔
علامہ سید محمد حسین طباطبائی فرماتے ہيں: "اگر کوئی شیطان نہ ہوتا، عالم انسانی کا نظام بھی نہ ہوتا، اور ایک شیطان کا وجود ـ جو انسان کو شر اور گناہ کی دعوت دیتا ہے ـ عالم انسانیت کے نظام کا رکن اور ستون ہے، اور  صراط مستقیم کی نسبت اس کی حیثیت سڑک کے کناروں جیسی ہے اور واضح ہے کہ جب تک کہ سڑک کے دو کنارے نہ ہونگے سڑک کا وجود بھی فرض نہیں کیا جاسکے گا"۔ (تفسیر المیزان، ترجمه فارسى، ج 8، ص 50.)

شیطان اور انسان کے اندر کے نفس امارہ کے فوائد
کچھ لوگ "شیطان کے وجود" کو اللہ کی پناہ مانگنے کے لئے قوی محرکات کے معرض وجود میں آنے کا سبب گردانتے ہیں اور یہ پناہجوئی انسان کو ارتقاء اور کمال کی راہ پر گامزن کرتی ہے اور اس سلسلے میں قرآن کریم کی تاکیدات بکثرت ہیں۔
شیطان اور طبیعی اور جبلی قوتیں اور انسان کا نفس امارہ بعض پہلؤوں سے انسان کی نشوونما اور بالیدگی کا سبب ہے۔ تجربے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دہاتیں ناخالصیوں اور اضافی اشیاء سے پاک ہونے کے لئے آگ میں پگھلائی جاتی ہیں تاکہ ایک عمدہ اور قیمتی دہات میں بدل جائیں۔
انسان کو بھی خالص ہونے کے لئے کچھ سختیوں، دشواریوں، آزمائشوں، مخالفتوں اور اندرونی قوتوں کے کڑے انتظام و انصرام کی ضرورت ہے تا کہ اس کا اصل جوہر نمایاں ہوجائے اور اللہ کی محبت کے استحقاق کے مرحلے میں داخل ہوسکے اور لقاء اللہ کا لائق بن سکے۔
دنیا آزمائشوں کا میدان ہے اور انسان اس آزمائش کا اصل ہدف ہے، چنانچہ ایک شیطان کا ہونا ضروری ہے تا کہ انسان اس کا مقابلہ اور اس کی مخالفت کرکے اپنی غیر معمولی صلاحیتیوں کو نکھار سکے اور اپنی مثبت الہی قوتوں کو نشوونما دے سکے۔
چنانچہ انسان کے وجود کی ماہیت اختیار اور انتخاب کی حامل ہے اور چونکہ انتخاب کا مسئلہ سامنے آتا ہے لہذا خوبی اور بدی کے درمیان ایک کا انتخاب صرف اسی وقت ممکن ہے کہ یہ دونوں قوتیں موجود ہوں اور یوں انتخاب اور اختیار با معنی اور بامقصد ہوسکے۔
پس چونکہ اللہ نے انسان کو مختار بنا کر خلق کیا ہے لہذا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ گناہ کے راستے بند کیوں نہیں ہوئے اور شیطانوں کی موجودگی کا راستہ بند کیوں نہیں ہوا۔ (غور کیجئے)

شیطان محض وسوسہ ڈالتا ہے لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کرسکتا
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ شیطان ـ خواہ جنی ہو خواہ انسی ہو ـ مکر و فریب اور دھوکوں کے ذریعے نیز القائات اور گناہوں کو زینت دینے کے واسطے سے انسان کو گناہ کی طرف رغبت دلاتا ہے لیکن وہ ایسی کوئی استعداد نہیں رکھتا کہ مخلوقات کو زور زبردستی کے ذریعے اور مجبور کرکے بدیوں پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ انسان اپنے اختیار سے بدیوں کے راستوں کو منتخب کرتا ہے۔
فلسفی تعبیر کے مطابق: شیطان گناہ کی علت تامہ (اور واحد سبب) نہیں ہے، شیطان مختلف چالوں اور ہتھکنڈوں سے انسان کی اندرونی قوتوں کی مدد کرتا ہے یہاں تک کہ حتی کہ اگر فرض کریں شیطان نہ بھی ہو تو انسان ان ہی اندرونی قوتوں اور جبلتوں کے ہاتھوں بھی (جو اس کی فطرت اور اختیار کا لازمہ ہیں) بدیوں سے دوچار ہوسکتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں کہ:
"وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ؛ اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں۔ بلاشبہ نفس برائی پر آمادہ کیا ہی کرتا ہے مگر یہ کہ میرے پروردگار کا رحم و کرم شامل حال ہو۔ یقینا میرا پروردگار بخشنے والا ہے، بڑا مہربان۔ (سورہ یوسف، آیت 53)
شیطان کی طاقت کی حدود "وسوسے" سے آگے نہیں بڑھتیں۔ اگر انسان نے استقبال کیا تو وہ اس کے اندر نفوذ کرتا ہے۔ لیکن یہ نفوذ انسان کے بدن میں نہیں ہے بلکہ انسان کی فکر اور سوچ میں ہوتا ہے۔ شیطان کا نفوذ وسوسہ کرنے (اور غلط افکار اور غلط ذہنیتیں اس القاء کرکے) اور امر باطل کو خوبصورت شکل و صورت میں پیش کرنے تک محدود ہے۔ چنانچہ شیطان انسان پر تب ہی مسلط ہوجاتا ہے، جب انسان خود اس کے تسلط کا خواہاں ہوتا ہے۔
خداوند متعال قرآن کریم میں بہت خوبصورتی سے قیامت کے دن انسان کے ساتھ شیطان کے استدلال کی وضاحت فرماتا ہے؛ ارشاد ہوتا ہے:
"وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الأَمْرُ إِنَّ اللّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ؛ اور اس وقت کہ جب جو ہوتا ہے وہ ہو جائے تو شیطان کہے گا: "بےشبہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تمہیں سبز باغ دکھائے تھے تو وہ سب غلط ثابت ہو گئے اور مجھ کو تم پر کوئی جبری تسلط تو تھا نہیں، سوا اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی تو تم نے میری آواز پر لبیک کہی، تو مجھے لعنت ملامت نہ کرو اور خود اپنے کو لعنت ملامت کرو، میں تمہاری فریاد رسی نہیں کر سکتا اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو میں انکار کرتا ہوں اس سے جو تم نے مجھے اس کے پہلے (خدا کا) شریک قرار دیا تھا بلاشبہ جو ظالم ہیں، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے"۔ (سورہ ابراہیم، آیت 22)

شیاطین اور نفس امارہ کے مقابلے میں عقل و فطرت اور ملائکۃ اللہ صف آرا ہیں
ادھر شیطان اور نفس امارہ کے مقابلے میں ملائکۃ اللہ، انسانی عقل و فطرت، انبیاء الہی اور ائمۂ معصومین علیہم السلام، علمائے صالح اور نیک سیرت مؤمنین صف آرا ہیں جو انسان کو نیکیوں اور حقیقی کمال و سعادت کی دعوت دیتے ہیں اور انسان کو اسی کشمکش صحیح راستے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
مولانا جلال الدین رومی بلخی کہتے ہيں:
از جهان دو بانگ می‌‌آید به ضد / تا کدامین را تو باشی مستعد
آن یکی بانگش نشور اتقیا / وان یکی بانگش فریب اشقیا
دنیا سے دو قسم کی متضاد صدائیں آتی ہیں / دیکھنا یہ ہے کہ کس صدا سے متاثر کی استعداد رکھتے ہو تم
اُس کی صدا پرہیزگاروں کا احیاء اور اٹھایا جانا / اور اس صدا کا کام اشقیاء کا فریب

خلاصہ یہ کہ:
1۔ خداوند متعال نے کسی بھی انسان اور جن کو شیطان (اور شورشی، باغی اور مکار و فریب کار) بنا کر خلق نہیں کیا۔ انسان یا جن اپنی آزادی اور اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور طغیان اور سرکشی پر اتر آتا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
2۔ انتظام خلقت کے لحاظ سے، شیطان ان لوگوں کے لئے نقصان دہ اور باعث زیاں نہیں ہے جو باایمان ہیں اور راہ حق پر گامزن رہنا چاہتے ہیں، شیطان ان لوگوں کے لئے پیشرفت اور ترقی و کمال کا سبب ہے اور ترقی اور کمال تضادات کے درمیان قابل حصول ہے۔
بالفاظ واضح تر: جب تک کہ انسان کو ایک طاقتور دشمن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، کبھی بھی اپنی صلاحیتوں اور تخلیقی قوتوں کو بروئے کار نہیں لائے گا۔ طاقتور دشمن کی موجودگی بجائے خود انسان کی زيادہ سے زیادہ کوششوں اور کا سبہ ہے جس کے نتیجے میں ترقی اور کمال کے اسباب فراہم ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
نویسنده: تہران یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام وحید واحدجوان
مترجم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram