انسانی اور جنی شیاطین میں فرق کیا ہے؟

انسانی اور جنی شیاطین میں فرق کیا ہے؟

اگر آپ چاہیں کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں انسی شیطانوں کو تلاش کریں تو یہ آیت کریمہ ان کا جیتا جاگتا تعارف ہے جو البتہ عام افراد، جماعتوں اور احزاب اور فرقوں پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔ ایک کسوٹی ہے جس کے اوپر آپ لوگوں کے رویوں اور پالیسیوں کو پرکھ سکتے ہیں گوکہ تاریخ اسلام کے سلسلے میں بھی ایک اہم معیار ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی اوراق//

ایک انسان کیونکر شیطانی چیلہ بن کر شیطانی لشکر میں شامل ہوجاتا ہے؟
انسی شیاطین بھی جنی شیاطین کی طرح خدا اور دین کے خلاف اقدام کرتے ہیں اور انسانوں کو مکر و فریب دے کر خدا سے دور کردیتے ہیں یا شیطانی اعمال انجام دیتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت اسلامی جمہوریہ کے بانی حضرت امام خمینی (قدس سرہ) نے امریکہ کو "شیطان کبیر" کا خطاب دیا۔
چنانچہ انسی شیاطین جنس اور نوع کے لحاظ سے عام انسانوں سے مختلف نہیں ہیں بلکہ فکری، اعتقادی اور عملی لحاظ سے جنی شیاطین کے راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں اور جان کر کا یا انجانے میں شیطان کے چیلے بن جاتے ہیں۔
2۔ لیکن یہ ہے کہ انسان کس طرح شیطان کے لشکر میں شامل ہوجاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ "سوفیصد غیرجانبدار اور خاموش اور نیوٹرل انسان" ایک بے معنی انسان ہے اور ہر انسان یا تو خدا کے لشکر میں شامل ہے یا پھر جنود شیطان کا سپاہی ہے۔ یا وہ حزب اللہ میں شامل ہے یا پھر حزب الشیطان میں؛ کیونکہ حق اور باطل کے بیچ تیسرا راستہ کوئی نہیں۔ تو جو خدا کی راہ اور راہ حق و حقیقت سے خارج ہوجائے وہ شیطانی لشکر میں شامل ہے۔ اس حقیقت کا راز ہم قرآن میں تلاش کرتے ہیں:
ارشاد ربانی ہے:
"وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ؛ اور جو لوگ اللہ، اس کے پیغمبر اور ایمان رکھنے والوں سے تولا رکھیں (اور ان کی پیروی کریں) تو یقینا تو بلا شبہ (وہ اللہ کے لشکر میں شامل ہیں اور) اللہ کی جماعت غالب آنے والی ہے۔ (سورہ مائدہ، آیت 56)
اس آیت کریمہ کے مطابق صرف وہ لوگ حزب اللہ میں شامل ہیں جو اللہ، رسول اور حقیقی مؤمنین کی ولایت رکھتے ہیں؛ اور حقیقی مؤمن پہلے درجے میں وہ ہو جو معصوم ہو، اور اس کے جہنمی ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تو جو اس زمرے سے خارج ہوگا حزب الشیطان میں شامل ہے۔
حزب الشیطان کے مراتب اور مدارج ہیں۔
"اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ؛ ان پر شیطان نے غلبہ پالیا ہے تو انہیں اللہ کی یاد کو بھلا دیا ہے (اور اللہ کی یاد کو ان کے دلوں سے نکال دیا ہے) یہ لوگ شیطان کی جماعت والے ہیں، آگاہ ہو کہ شیطان کی جماعت گھاٹا اٹھانے والی ہے۔
تو اللہ کی جماعت وہ لوگ ہیں جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں اور اپنے امور میں اللہ کو یاد نہیں رکھتے۔ پس جو بھی جس قدر اپنے امور کو اللہ کی خاطر انجام دے گا اسی قدر اللہ کی جماعت میں شامل ہونگے اور جس قدر کے وہ اللہ کی یاد سے غافل ہونگے اسی قدر حزب الشیطان میں شامل ہیں۔ چنانچہ حزب اللہ اور حزب الشیطان ہونا بہت سے افراد کے لئے نسبتی اور وقتی ہے۔ یعنی بہت سے افراد کبھی حزب الشیطان ہوجاتے ہیں اور کبھی حزب اللہ بن جاتے ہیں۔ اور ایسے افراد بھی ہیں جو ہمیشہ حزب اللہ کا حصہ رہتے ہیں یا ہمیشہ حزب الشیطان کا حصہ ہیں۔  
"لَا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؛ کسی جماعت کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو، نہیں پاؤ گے کہ وہ محبت رکھیں ان سے جو اللہ اور اس کے پیغمبر کے مخالف ہیں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قبیلے والے ہوں۔ یہ وہ ہوں گے کہ جن کے دلوں میں اس نے ایمان کو ثبت کر دیا ہے اور ان کی تقویت کی ہے اپنی طرف کی روح سے اور انہیں داخل کرے گا ان بہشتوں میں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔ یہ اللہ کی جماعت والے ہوں گے، یقینا اللہ کی جماعت والے، غالب آنے والے ہیں۔ (سورہ مجادلہ، آیت 22)
اس آیت کریمہ کے مطابق ہر وہ شخص ظاہرا مسلمان ہے لیکن خدا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے دشمنوں اور اسلام دشمنوں کے ساتھ دوستی کرتا ہے؛ اور نظام اسلام کے خلاف خفیہ یا اعلانیہ کردار ادا کرتا ہے، شیاطین اور حزب الشیطان میں شامل ہے۔ لیکن حزب اللہ وہ ہے جو اگر اس کے قریبی لوگ بھی اسلام کی دشمنی کریں تو وہ ان سے دوستی نہیں کرے گا اور ان سے برائت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
اگر آپ چاہیں کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں انسی شیطانوں کو تلاش کریں تو یہ آیت کریمہ ان کا جیتا جاگتا تعارف ہے جو البتہ عام افراد، جماعتوں اور احزاب اور فرقوں پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔ ایک کسوٹی ہے جس کے اوپر آپ لوگوں کے رویوں اور پالیسیوں کو پرکھ سکتے ہیں گوکہ تاریخ اسلام کے سلسلے میں بھی ایک اہم معیار ہے۔
بےشک امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاستوں کو آپ زمانے کے جیتے جاگتے بڑے شیطانوں کے زمرے میں پائیں گے جو اس وقت مسلمانوں کے درمیان گھس آئے ہیں اور ہوشیاری، زیرکی، بصیرت اور بصارت کے دعویداروں کو ورغلا رہے ہیں، اکسا رہے ہیں، اور بعض تو جانتے بھی ہیں کہ یہ شیاطین جھوٹ بول رہے ہیں لیکن اندرونی کمزوریوں اور عوامی عدم مقبولیت کی بنا پر ان کے مکروفریب کو قرآن اور تعلیمات اسلامی پر ترجیح دے رہے ہیں اور مقدم رکھ رہے ہيں۔
اور دوسری طرف سے کئی افراد، جماعتیں، فرقے اور تنظیمیں اور کئی ممالک کے سربراہان، بادشاہ، صدور، ان کے ماتحت سول اور فوجی حکام، سیاستدان نیز سول حکام اور ادارے ان سے ڈکٹیشن لیتے ہیں یا پھر ان کے کٹھ پتلیوں اور نوکروں کے کٹھ پتلی اور نوکر بنے ہوئے ہیں جو یقینا انسی شیطانوں یا انسی شیطانوں کے چیلوں میں شمار ہوتے ہیں اور جو جتنا ان سے قریبتر ہے اتنا ہی بڑا شیطانی چیلہ ہے، اور ادھر جو لوگ ان کے مکر و فریب میں نہیں آتے اور ان سے ڈکٹیشن نہیں لیتے بلکہ ان کی سازشوں کے خلاف تن، من، دہن، سے جہاد کررہے ہیں، وہ حزب اللہ میں شمار ہوتے ہیں۔ بہت اہم قاعدہ، جس کو دیکھ کر آپ ہدایت پا سکتے ہیں ابتدائے اسلام سے آج تک کے مسائل کا صحیح جائزہ لے سکتے ہیں:
ارشاد ربانی ہے:
"مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً؛ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کے ساتھی ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں بہت سخت (اور) آپس میں بڑے ترس والے ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے رکوع اور سجود میں مصروف، کیونکہ وہ (صرف) اللہ کے فضل و کرم اور خوشنودی کے طلبگار ہیں"۔ (سورہ فتح، آیت 29)
اب دیکھنا ہے کہ واقعی قرآن و حدیث میں بیان ہونے والے تمام قواعد و ضوابط کے مطابق کون رسول اللہ(ص) کا ساتھی ہے جو کافروں کا سخت دشمن ہے اور مؤمنین کے ساتھ رحم برتنے والا ہے؛ اور دیکھ لیں کہ کون ہے جو رکوع و سجود کرتا ہے لیکن خوشنودی صرف اللہ کی طلب کرتا ہے اور کون ہے جو بظاہر تو رکوع و سجود کرتا ہے لیکن خوشنودی کفار اور شیاطین کی چاہتا ہے؟ کون ہے جو کسی صورت میں بھی شیاطین کے دھوکے میں نہیں آتا اور کسی صورت میں بھی شیاطین کی خوشنودی کے لئے کسی مسلمان کو ٹھیس پہنچانے پر آمادہ نہیں ہوتا اور اللہ کی خوشنودی کو نصب العین بنا کر شیاطین کو مایوس کرتا ہے؟ اور کون ہے جو کسی صورت میں بھی اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتا اور شیطانوں کی خوشنودی کے لئے لاکھوں مسلمانوں کا خون تک بہانے کے لئے تیار ہوتا ہے؟ دیکھ لیں آج کون کھیل رہا ہے شیطان کی بساط پر اور کون ہے جو امت کے تحفظ کے لئے میدان میں کھڑا ہوگیا ہے اور تمام تر مشکلات اور مسائل کو جھیلنے کے لئے تیار ہے لیکن شیاطین کا چیلا بننے کے لئے تیار نہيں ہے؟
نیز ارشاد ہوتا ہے:
"وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ؛ اور جو خدا کی یاد سے اندھا رہتا (اور روگردان ہوجاتا) ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے"۔ (سورہ زخرف، آیت 36)
اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ سے غفلت کا نتیجہ ابلیس کے جال ميں گرفتار ہونے کا سبب ہے، یہاں تک کہ جنی شیاطین ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کی زبان اور افعال و کردار کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں اور اپنے منصوبے اس کے ذریعے انسانوں کے درمیان نافذ کرتے ہیں۔ ان کی زبان شیطان کی زبان اور اعضاء و جوارح شیطان کے اعضاء و جوارح اور اس کا کردار شیطان کا کردار ہوجاتا ہے۔ یادرہے کہ شیطان اپنا عمل نیکی اور اچھائی کے بھیس میں کرتا اور کراتا ہے، اچھے بھلے نام اور عناوین استعمال کرتا ہے کیونکہ دوسری صورت میں کوئی اس کی بات نہیں مانے گا لہذا ہوشیار رہنا پڑتا ہے اور جو شخص سب سے زیادہ اور غیر معمولی انداز سے اللہ اور رسول(ص) کے حوالے دیتا ہے اور ہر مسئلے میں کوئی دینی حوالہ دیتے ہیں حتی وہاں بھی جہاں اس کی ضرورت نہیں ہوتی، تو زیادہ ہوشیاری کی ضرورت پڑتی ہے کہ کہیں یہ شخص تو شیطان یا شیطان کا چیلہ تو نہیں ہے؟
نیز ارشاد رب متعال ہے:
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٭ ""إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ"" ٭ وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لاَ يُقْصِرُونَ؛ اور اگر شیطان کیطرف سے آپ کو کچھ بہکانے کی کوشش ہو تو اللہ سے پناہ مانگئے، یقینا وہ بڑا سننے والا ہے، جاننے والا ٭ جو پرہیز گار ہیں، جب انہیں شیطان کی طرف کا کوئی خیال پیدا ہوتا ہے تو فوراً ہوشیار ہو جاتے ہیں اور ایک دم ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے ٭ اور جو ان کے بھائی بند ہوتے ہیں وہ انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں، پھر کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔ (سورہ اعراف، آیات 200 تا 202)
ان آیات میں شیطان کے جال سے رہائی کا طریقہ سکھایا گیا ہے، وہ یوں کہ اگر وہ کوئی وسوسہ ڈالنا چاہے تو اللہ کی پناہ مانگو، جو لوگ پرہیزگار ہیں، انہیں ویسے بھی خیال رہتا ہے کہ اگر شیطانی وسوسہ ان کے دل میں آجائے تو ہوشیار ہوجاتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں بچا دیتی ہے؛ یقینا انسی شیطانوں سے بچنے کے لئے اسی بصیرت کی ضرورت ہے جو اگر انسان پرہیزگار ہو تو اللہ انسان کو بصیرت عطا فرماتا ہے اور وہ ان شیطانوں اور ان کے چیلوں کی مکاریوں سے نجات پاتا ہے،
جبکہ شیطان کے چیلے اور بھائی بندوں کی کوشش رہتی ہے کہ اسے بہکا دے اور بچنے والے صرف وہ ہیں جو خالصتا اللہ کے بندے ہوتے ہیں، اور جنی اور انسی شیطانوں کے نوکر چاکر نہیں بنتے اور اللہ کی جماعت میں ہوتے ہیں وہ نجات یافتہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram