یمن؛ سعودی جنگی طیاروں کا صوبہ حجہ کے طبی مرکز پر وحشیانہ حملہ

یمن؛ سعودی جنگی طیاروں کا صوبہ حجہ کے طبی مرکز پر وحشیانہ حملہ

یمن کے صوبے حجہ میں یہ طبی مرکز مستبا کے علاقے میں واقع ہے جسے سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اپنے وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جارح سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے انسانی حقوق کو پیروں تلے روندتے ہوئے مغربی یمن کے صوبے حجہ کے ایک طبی مرکز پر بمباری کی ہے۔ دوسری جانب یمنی ذرائع‏ ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات یمنی سمندری ذرائع اور آبی مخلوقات کو تباہ اور انھیں بڑی بڑی کشتیوں سے اپنے یہاں منتقل کر رہا ہے۔ یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی نے بھی کہا ہے کہ جارح ملکوں نے یمن کے خلاف اقتصادی جنگ بھی شروع کر دی ہے۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کے صوبے حجہ میں یہ طبی مرکز مستبا کے علاقے میں واقع ہے جسے سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اپنے وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے پیر کی رات صوبے الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر کئی بار بمباری کی۔

دوسری جانب یمن کے جنوبی صوبے الحدیدہ کے علاقے الدریہمی کے مغرب میں عوامی تحریک انصاراللہ کے جوانوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں منصور ہادی سے وابستہ اور اسی طرح سعودی اتحاد کے دسیوں فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی مغربی ساحل پر واقع الجبلیہ میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں سعودی اتحاد کے متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔

دریں اثنا یمنی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات یمنی سمندری ذرائع اور آبی مخلوقات کو تباہ اور انھیں بحری جہازوں اور بڑی بڑی کشتیوں سے اپنے یہاں منتقل کر رہا ہے۔

ان ذرائع‏ ابلاغ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی بڑی بڑی ماہیگیر کشتیاں روزانہ یمنی سمندری علاقے میں داخل ہو کے ماہیگیری کرتی اور پھر انھیں متحدہ عرب منتقل کر دیتی ہیں۔ ان مچھلیوں کو فوجی کمانڈروں کے لئے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے فوجی کمانڈروں نے بھی اس سے قبل یمنی نوادرات اور یمنی نادر و کمیاب پرندوں کو ابوظبی منتقل کرنے کا اقدام کیا تھا۔

یمنی صوبے تعز میں سمندری مخلوقات سے متعلق دفتے کے اعداد و شمار کے مطابق المخا اور ذباب کے اکیاسی ہزار لوگوں میں سے پچاس ہزار لوگوں کا مشغلہ اور روزگار ہی ماہیگیری ہے۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے منگل کے روز اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمنی کرنسی ریال کی قدر میں اضافے کی راہ میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں اور انھوں نے یمن کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کر دی ہے۔

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے نام ایک مراسلے میں یمنی عوام کی مالی امداد کے لئے ایک میکنزم کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے تجویز پیش کی ہے کہ لوگوں کے بینک اکاؤنٹ کھول کر ضرورت مند لوگوں کی غذائی اشیا کے بجائے رقم کی فراہمی کے ذریعے مدد کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram