ملت شام کے لیے خون بہانے والے تمام عزیز مجاہدوں کی قدردانی کرتا ہوں: بشار الاسد

ملت شام کے لیے خون بہانے والے تمام عزیز مجاہدوں کی قدردانی کرتا ہوں: بشار الاسد

انہوں نے ان مزاحمتی گروہوں کی قدردانی کرتے ہوئے جنہوں نے شام میں اپنی جانیں قربان کیں کہا:تمام مزاحمتی گروہوں جیسے حزب اللہ لبنان، یا وہ ہمارے بھائی جو عراق سے آئے اور انہوں نے شام کا دفاع کیا شامی باشندوں کا دفاع کیا میں یہاں پر ان کے بارے میں کہنا چاہوں گا وہ تمام عزیزان جو لبنان سے آئے عراق سے آئے، ایران سے آئے یا دوسرے ممالک سے آئے اور انہوں نے شام میں اپنا خون دیا وہ سب کے سب ہمارے شامی شہداء اور مجاہدین کے جیسے ہیں سب ایک گھرانے کے افراد ہیں میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں الفاظ کے ذریعے ان کے ایک قطرہ خون کا حق ادا کر سکوں لہذا یہ چیز الفاظ کے دائرے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ تاریخ انہیں یاد کرے گی۔ بلکہ انہوں نے تاریخ کو رقم کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے صدر بشار الاسد نے العالم ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دھشتگردوں کے مقابلے میں ہوئی کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: مشرقی غوطہ کی آزادی کے بعد ہم نے جنوب کا رخ کیا ہمارے سامنے دو آپشن تھے یا دھشتگردوں کے ساتھ صلح کریں یا ان کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔
انہوں نے کہا روس کی پیشکش یہ تھی کہ مسلح افراد کے لیے صلح کا موقع فراہم کیا جائے جیسا کہ بعض علاقوں میں ایسا ہوا ہمارا مقصد یہ تھا کہ ۲۰۱۱ سے پہلے کے حالات پلٹ آئیں یعنی شامی فوج ان علاقوں  جو صہیونی ریاست کے مدمقابل علاقے ہیں میں پلٹ جائے دھشتگرد ان علاقوں سے نکل جائیں۔ یہ پیشکش ہمارے لیے ایک مناسب پیشکش تھی۔
لیکن یہ منصوبہ عملی جامہ نہیں پہن پایا چونکہ اسرائیل اور امریکہ نے براہ راست دھشتگردوں کی حمایت کی اور انہیں شام کے جنوب سے نکلنے نہیں دیا۔
شامی صدر نے امریکہ اور اسرائیل کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا: یقینی طور پر امریکہ اور اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون یا اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔ دھشتگردوں کے ساتھ جنگ کے ابتدا سے ہی اسرائیل ہمیشہ شامی افواج کو اپنی بمباری کا نشانہ بناتا رہا ہے اور دھشتگردوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اسرائیل کی فضائیہ اور اس کے توپ خانے دھشتگردوں کے اختیار میں تھے۔ اسرائیل کی جانب سے دھشتگردوں کی مسلسل حمایت کے باوجود ہم نے اپنی ذمہ دایوں پر عمل کیا اور شامی افواج نے شام کا بہت سارا علاقہ دھشتگردوں سے آزاد کروا لیا۔ اسرائیل رضامند ہو یا نہ ہو ہم اپنی قومی ذمہ داری پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ صہیونی حکام شام کے تنصیباتی مراکز کو حملے کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں آپ ان کے خلاف کیا اقدام کریں گے؟ کہا: ہم ان کے کسی بھی حملے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گے ہم اپنے موجودہ فوجی امکانات کے مطابق ان کا مقابلہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کا منہ توڑ جواب، اسرائیلی فوج کو شام میں شکست دینا ہے۔ میری مراد وہ دھشتگرد ہیں جو واضح اور آشکارا طور پر اسرائیلی مفادات کے لیے شام میں لڑ رہے ہیں۔ انہیں شروع سے ہی امریکہ اور اسرائیل کے طرف سے اسلحہ، تربیت اور رہنمائی حاصل رہی ہے۔
سیاسی اور عسکری سطح پر سب سے بڑا حملہ اسرائیل کے خلاف یہ ہے کہ ہم شام میں موجود اسرائیلی دھشتگردوں کو نابود کریں۔ وہ دھشتگرد جو داعش یا النصرہ کا حصہ ہیں یا دیگر ٹولے جو اسرائیل کے تیار کردہ منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔
بشار اسد نے اسرائیلی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے حوالے سے کہا کہ ہم صہیونی ریاست کے شدید ترین حملوں کا جواب دے رہے ہیں ہم اپنے ملکی وسائل کے دائرے میں دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دیں گے میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ یہ بات کہ ہم دشمن کی جارحیت کا جواب دیں گے یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی تصمیم اور ملی ارادہ ہے جو روز اول سے ہی لیا گیا ہے۔
انہوں نے  فلسطین کی حمایت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ شام کے سیاسی نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسئلہ فلسطین شام کے لیے ویسے ہی ہے جیسے دس سال قبل تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
البتہ ہمارے نزدیک آج اولویت شام کے اندرونی مسائل کو حاصل ہے شام سے دھشتگردوں کا صفایا کرنا ہے اس کے بعد فلسطین کی بھی بہر صورت حمایت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے ان مزاحمتی گروہوں کی قدردانی کرتے ہوئے جنہوں نے شام میں اپنی جانیں قربان کیں کہا:تمام مزاحمتی گروہوں جیسے حزب اللہ لبنان، یا وہ ہمارے بھائی جو عراق سے آئے اور انہوں نے شام کا دفاع کیا شامی باشندوں کا دفاع کیا میں یہاں پر ان کے بارے میں کہنا چاہوں گا وہ تمام عزیزان جو لبنان سے آئے عراق سے آئے، ایران سے آئے یا دوسرے ممالک سے آئے اور انہوں نے شام میں اپنا خون دیا وہ سب کے سب ہمارے شامی شہداء اور مجاہدین کے جیسے ہیں سب ایک گھرانے کے افراد ہیں میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں الفاظ کے ذریعے ان کے ایک قطرہ خون کا حق ادا کر سکوں لہذا یہ چیز الفاظ کے دائرے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ تاریخ انہیں یاد کرے گی۔ بلکہ انہوں نے تاریخ کو رقم کیا ہے۔
میں یہاں پر اپنی تمام تر محبتوں کو اور احترام و اکرام کو نثار کرنا چاہوں گا تمام مجاہدین، شہداء، اور ان کے شجاع گھرانوں کے نام کہ جنہوں نے اپنے عزیزوں کو شام کی سرزمین پر بھیج کر ملت شام پر قربان کیا یہ گھرانے موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے اخلاق و اصول کے آئیڈیل ہیں۔
شامی صدر نے دھشتگردوں کے خلاف جنگ میں ایرانی فوجی مشیروں سے مدد کی درخواست کے حوالے سے کہا: ہم نے شروع میں ہی ایران اور روس کو دعوت دی کہ وہ شام میں مدد کے لیے پہنچیں۔ اس لیے کہ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت تھی ایران نے ہمارے دعوت پر لبیک کہی۔
ایران اور شام کے تعلقات اسٹراٹیجک ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران نے شام کی درخواست پر مدد فراہم کی اور ایران کی شام میں فوجی مشیروں کی موجودگی شامی حکومت کی درخواست پر ہے۔
انہوں نے کہا بہت سے ممالک منجملہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کریں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔
امریکی مجوزہ نام نہاد امن منصوبہ صدی کی ڈیل اور امریکی سفارتخانے کی قدس منتقلی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: فلسطین کا مسئلہ تو ۱۹۴۸ سے اب تک ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ اس کی وجہ مغربی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی دائمی حمایت اور عربوں کو ناامید کرنے کے لیے ہمیشہ تلاش و کوشش ہے۔ دوسری وجہ عرب اقوام کے ذہنوں کو فرعی مسائل میں الجھانا اور انہیں مسئلہ فلسطین پر سوچنے کا موقع نہ دینا ہے۔ اور وہ اس معاملے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ اس کے باوجود عرب اقوام کا مسئلہ فلسطین کے ساتھ ایک اندرونی رابطہ موجود ہے۔ شام کی جنگ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے کہ وہ عرب دنیا کو اس پٹری سے ہٹا دیں۔ سب سے پہلے شام کو مسئلہ فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں اس کے دوسرے حامی ملکوں کو۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے گزارش کیا صہیونی ریاست کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ، شام میں امن کی برقراری، دھشتگردوں کی نابودی اور شام میں صہیونی منصوبوں کی شکست در حقیقت فلسطین کی ہی حمایت ہے۔
ممکن ہے بعض جگہوں پر اس کے اثرات بلاواسطہ مترتب ہوں اور بعض جگہوں پر بلاواسطہ۔ لیکن بہرصورت ان مسائل کے فلسطین کی داخلی صورت حال پر گہرے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram