فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جینیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ جس کے مطابق صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی قیدیوں کا قتل اور اذیتیں نہ دی جائے اور ان کیساتھ بدسلوکی نہ کی جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فلسطین الیوم کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں کمیٹی کے سربراہ عیسی قراقع نے کہا ہے کہ صہیونی کینسٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے حوالے سے قانون کی مقدماتی موافقت سمیت دیگر مجرمانہ قوانین جو گزشتہ دو سال کے دوران وضع کی گئی ہیں، اسرائیلی کی وحشیانہ پالیسیوں کو برملا کرتے ہیں جس کے باعث اس رژیم کی نسل پرستی اور دہشتگردی پر مبنی آئیڈیالوجی بھی عروج پر دیکھنے میں آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جینیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ جس کے مطابق صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی قیدیوں کا قتل اور اذیتیں نہ دی جائے اور ان کیساتھ بدسلوکی نہ کی جائے۔

فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اسرائیل کے جیلوں میں قید فلسطینی قومی محاذ برائے آزادی فلسطین سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی جدوجہد قانونی ہےجبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہیں جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کینسٹ نے بدھ کے روز ایک مجرمانہ قانون کی ابتدائی موافقت کی تھی جس کے تحت صہیونی حکام کو فلسطینی مجاہدین کو پھانسی دینے کی اجازت ہوگی۔   

یہ بل 49 کے مقابلے میں 52 ووٹوں کیساتھ پاس ہوا، جبکہ اس بل کو قانون میں تبدیل کرنے کیلئے مزید دو مرتبہ کینسٹ میں پیش کرنا ہوگا۔

................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram