شہزادہ ولید بن طلال اور ریاض کے سابق امیر شہزادہ ترکی بن عبداللہ کو جیل منتقل کرنے کا فیصلہ

شہزادہ ولید بن طلال اور ریاض کے سابق امیر شہزادہ ترکی بن عبداللہ کو جیل منتقل کرنے کا فیصلہ

سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں گرفتار شدہ درجنوں سعودی شہزادوں، بعض سابق و موجودہ وزراء اور حکام کو ریٹز کارٹلن ہوٹل سے الحائر جیل میں منقتل کیا جارہا ہے جس میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں گرفتار شدہ درجنوں سعودی شہزادوں، بعض سابق و موجودہ وزراء اور حکام کو ریٹز کارٹلن ہوٹل سے الحائر جیل میں منقتل کیا جارہا ہے جس میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الحائر جیل میں منتقل کئے جانے والے شہزادوں میں شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ کچھ شہزادے ولیعہد محمد بن سلمان کو رشوت دیکر آزاد ہوگئے ہیں جن میں سابق بادشاہ کے بیٹے متعب بن عبداللہ بھی شامل ہیں۔ ولیعہد ممحد بن سلمان نے شہزادہ ولید بن طلال سے بھی آزادی کے بدلے 6 ارب ڈآلر کی رشوت طلب کررکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہزادہ ولید بن طلال اور ریاض کے سابق امیر شہزادہ ترکی بن عبداللہ اور بعض دیگر شہزادوں اور حکام رشوت دینے سے ابھی تک انکار کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 60 شہزادوں کو الحائر جیل میں منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ الحائر جیل دہشت گردوں اور خطرناک مجرموں سے مخصوص ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram