شام پر اسرائیل کا میزائلی حملہ

شام پر اسرائیل کا میزائلی حملہ

شام پر اسرائیل کے میزائل حملے کے بعد، شامی فوج نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ شامی فوج ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح آمادہ ہے اور اس کے میزائل ڈیفینس سسٹم نے اسرائیلی حملے کا مقابلہ بھی کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج کے جاری کردہ بیان میں نواحی دمشق میں اسرائیلی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حملہ لبنان کی فضائی حدود سے کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق کے مضافاتی علاقے میں شامی فوج کی ایک چھاونی اسرائیل کے میزائل حملے کا نشانہ تھی تاہم شامی فوج کے میزائیل ڈیفینس سسٹم نے اکثر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کردیا ہے۔
شام کی فوجی کمانڈ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملک کی مسلح افواج ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اسے ناکام بنانے کی طاقت رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔
بیان کے مطابق، خطے میں اسرائیل کے ظالمانہ اور مہم جویانہ اقدامات کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری بھی خود اسی پر عائد ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے شام کے دارالحکومت دمشق کے شمال مغربی نواحی علاقے جمرایا میں واقع ایک دفاعی تحقیقاتی مرکز کو کئی مزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔
تاحال اس حملے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیل اس سے پہلے بھی کئی بار، دہشت گردوں کی حمایت میں، شامی فوج کے ٹھکانوں اور اس کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔
اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے نو جنوری کو بھی لبنان کی فضائی حدود سے پرواز کرتے ہوئے ریف دمشق کے علاقے القطیفہ پر بمباری کی تھی۔
شامی حکومت، اسرائیلی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایات دائر کرتی چلی آرہی ہے لیکن عالمی ادارہ تاحال اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے سے بھی گریز کر رہا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے شام کی ارضی سالمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے بحران کو سیاسی اور سفارتی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج کا کہنا تھا کہ ترکی فوجی کارروائی کے ذریعے شام میں امن و امان کو تقویت نہیں پہنچا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ صرف ان گروہوں سے جنگ کی جانا چاہیے جنہیں اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔ اور اس حوالے سے ترکی پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
ترک فوج نے بیس جنوری سے شام کے شمالی شہر عفرین میں شاخ زیتون کے نام سے آپریشن شروع کیا ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے ترک فوج کے آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram