شام میں فوجی مداخلت کے سعودی دعوے، انجانوں کے بیچ شیخیاں بگھارنے کے مترادف

شام میں فوجی مداخلت کے سعودی دعوے، انجانوں کے بیچ شیخیاں بگھارنے کے مترادف

چند ہی روز قبل سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیوگوٹرش کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سعودی حکومت امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد شام میں فوجی مداخلت کے لئے تیار ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی وزیر کی اس بات کو ایک لطیفہ ہی سمجھ لینا چاہئے۔ جو ملک اپنے پچھواڑے میں یمن کی دلدل میں پھنس چکا ہے وہ شام جیسے جنگ دید اور کارآزمودہ بڑے ملک میں فوجی مداخلت کرے گا تو کیا پائے گا؟ گوکہ سعودیوں نے تیل کی دولت سے مالامال بعض دوسرے ممالک کی طرح آج تیل سے حاصلہ آمدنی کو اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے اور ایک بار پھر حساب و کتاب میں خطا سے دوچار ہورہا ہے اور یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ شام پر حملہ کرانے کے لئے مغربیوں کو 400 اور 4000 ارب ڈالر دینے کے لئے تیار ہے اور اب خود مداخلت کے نعرے لگا رہا ہے!! اس سے قبل یمن پر جارحیت کے لئے سعودیوں کو پاکستان اور مصر کا دامن تھامنا پڑا تھا اور بڑی بڑی تجاویز بھی دی تھیں لیکن ان ممالک کو شاید اس جنگ اور سعودیوں کی قیادت میں لڑنے کا انجام معلوم تھا چنانچہ انھوں نے ساتھ نہیں دیا تھا۔ یمن نے کافی کانٹے دار مقابلہ کیا اور کررہا ہے ـ ہر روز ایک بیلسٹک میزائل سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر گررہا ہے ـ تو اب وہ اگر شام میں مداخلت کرے تو سمجھئے کہ آل سعود محاذ مزاحمت کی افواج کے روبرو کھڑا ہوگا؛ جب کہ اس کا حلیف غاصب اسرائیل اسے اپنے 2006 والے انجام سے باخبر کرسکتا ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ تین سال سے غریب ملک یمن پر جنگ مسلط کر رکھی ہے اور امریکہ اور یہودی ریاست کی مدد سے اس کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے لیکن میدان میں کوئی ٹھکانہ نہیں بدلا یمن کی خودمختاری پر کوئی حرف نہيں آسکا، اور کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یمنی مجاہدین نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کے فوجی اڈوں پر قبضہ بھی کرلیا ہے؛ ریاض، جدہ، طائف، نجران، عسیر، جیزان وغیرہ میں سعودی عرب کی تنصیبات یمنی مجاہدین کی زد میں ہیں اور اس اثناء میں شام میں بھی فوجی مداخلت کے نعروں سے کچھ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا سعودی حکمران اپنی افواج کی پیشہ ورانہ مہارتوں سے بالکل بےخبر ہیں جو تین سال کے عرصے میں شمالی یمن میں ایک چھوٹا سا مورچہ بھی اپنے لئے نہیں بنا سکی ہیں!

یہ سب دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر یمن دلدل ہے تو شام سعودی فوجیوں کا قبرستان ہوگا اور ان بےچاروں کو اپنے خاندانوں سے قیامت کے دیدار کا وعدہ کرکے رخصت ہونا چاہئے۔

مصر نے کہا ہے کہ شام میں مداخلت کے لئے تیار نہیں ہے اور یہ کہ مصری فوجی کرائے کے فوجی نہیں ہیں۔ اس نے یمن میں بھی سعودی ـ اماراتی مداخلت کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی افواج نے 1962 میں یمن میں جو مداخلت کی تھی اس کی تلخ یادیں اب بھی انہیں ستا رہی ہیں۔ مصریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام میں مداخلت یمن میں مداخلت کی نسبت بہت زیادہ دشوار اور جان لیوا ہے اور شام میں جانا اپنی مرضی سے ہوگا لیکن آنے میں ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ ادھر شام اور مصر کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ بھی ہے اور مصر کی مشہور زمانہ فوج اپنے پرانے حلیف ملک میں مداخلت کبھی نہیں کرے گا اور اپنی شہرت کو سعودی ـ امریکی نیابت کی بھینٹ نہيں چڑھائے گا۔

ادھر سعودیوں کے آگے دوسری رکاوٹیں بھی ہیں، ترکی کا موقف بھی آڑے آئے گا۔ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اختلافی نقاط اشتراکی نقاط سے کہیں زیادہ ہیں۔ ترکی اخوان المسلمین کی امامت کا دعویدار ہے اور سعودی عرب اخوانیت کا دشمن ہے۔ دوسری طرف سے شام کے جن کرد علاقوں میں امریکی تعینات ہیں اور سعودیوں نے وہاں آنے کا عندیہ دیا ہے، وہاں پر امریکیوں کی موجودگی بھی ترکی کو پسند نہیں ہے چنانچہ اگر امریکی چلے جائیں اور سعودی آجائیں تو ترکی کی فوجی مداخلت کو بھی نظروں سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔

ایران اور روس شام میں موجود ہیں اور بہت زیادہ با اثر اور طاقتور بھی ہیں، اور سعودیوں کو ان کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اور بعید از قیاس ہے کہ یہ دو طاقتور ممالک سعودیوں کو شام میں ٹکنے کی اجازت دیں۔

ادھر تمام منصف مبصرین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سعودیوں کا اختیار ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے اور ان میں قوت فیصلہ ناپید ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ سعودی بہت مختصر عرصے میں یہودی ریاست کی گود میں گرچکے ہیں۔

آل سعود نے گذشتہ چند عشروں کے دوران نمائشی اقدامات کرکے مسلمانوں کو جتانا چاہا کہ وہ عالم اسلام کے مدافع اور محافظ، فلسطینی کاز کے علمبردار اور قدس اور مسجد الاقصی کے نگہبان ہیں لیکن وقت نے بتا دیا کہ وہابیت اور صہیونیت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں اور وہابیت ـ جیسا کہ سعودی ولیعہد نے حال ہی میں واضح کیا ـ مغربی اہداف اور صہیونی مقاصد کی راہ میں بطور اوزار استعمال ہوتی رہی ہے۔ آج عالم اسلام کے دل ـ یعنی فلسطین ـ کے عوام سعودیوں کو خائن اور غدار سمجھتے ہیں جنہوں نے قدس اور قبلہ اول کے حق میں بہت بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور واپسی تحریک میں شامل فلسطینیوں نے کئی بار سعودی بادشاہ اور ولیعہد کی تصویریں نیتن یاہو کی تصویروں کے ساتھ ، نذر آتش کی ہیں۔

شام میں مداخلت کا سعودی نعرہ ایک نیا نعرہ نہیں ہے کیونکہ سعودیوں اور یہودیوں کے بیرونی کرائے کے قاتل کئی برسوں سے اپنی پوری جنگی قوت استعمال کرکے شام اور محاذ مزاحمت کے خلاف برسرپیکار ہیں اور انہیں کچھ حاصل نہیں ہؤا اور ناکام و نامراد پلٹ گئے: یمن کی دلدل میں> یا پھر افغانستان کے خوفناک پہاڑوں میں۔ غیرجانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ سعودیوں کے یہ بلندبانگ نعرے ان ناکامیوں کا نتیجہ ہے جو انہیں عراق اور شام میں نصیب ہوئیں۔ شام، عراق اور پھر یمن پر جارحیت کے لئے سعودی عرب کو کئی کھرب ڈالر خرچ کرنا پڑے لیکن ان کا واحد نتیجہ یہ ہؤا کہ وہاں کے مجاہدین نے فن جنگ میں مہارت حاصل کی اور اب بظاہر سعودی اپنی آبروئے رفتہ کے احیاء کے لئے دھاڑ رہے ہیں گوکہ یہاں ایک فریق مقابل بھی ہے جو ان کے نعروں کو بھی سنجیدہ لیتا ہے اور سعودیوں کو اپنے دھاڑنے کی بھی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ سعودیوں کے موجودہ نعرے نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں اور وہ شام میں مداخلت نہيں کریں گے چنانچہ اس کو “انجانوں کے بيچ شیخی بگھارنے” کا مصداق قرار دیا جاسکتا ہے لیکن کچھ دوسروں کا خیال ہے کہ وہ مداخلت کریں گے لیکن ان کی یہ مداخلت ان کی آخری مداخلت اور سیاسی اور عسکری خودکشی ہوگی۔ یا یوں کہئے کہ سعودی عرب اس بار ایک ریاست کے طور پر خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؛ کیونکہ وہ وقت بہت دور نہیں ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک ـ جو کمائی کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں ـ سعودیوں کو شام کے قبرستان میں تنہا چھوڑیں گے؛ ایک بھاری شکست سعودیوں کی تاریخ میں ثبت ہوگی؛ یمن کی جنگ نے ویسے بھی سعودیوں کے حوصلوں، دولت اور فوجی قوت کو فرسودگی سے دوچار کردیا ہے اور منطق کہتی ہے کہ شام میں سعودی مداخلت حالات کو مزید تناؤ کی طرف لے جائے گی اور یہودی ریاست اور وہابی ریاست سمیت صہیونیوں کی گود میں پناہ لینے والی استبدادی ریاستوں کی سیاسی حیات کے جلد از جلد خاتمے پر منتج ہوگی۔

منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram