سماجی و معاشی عدم استحکام سعودی معاشرے کی گھات میں

سماجی و معاشی عدم استحکام سعودی معاشرے کی گھات میں

یہ تمام معاشی مسائل مل کر سعودی معیشت کو ناخوشگوار صورت حال سے دوچار کرچکے ہیں جس کی وجہ سے حکام نے شدید کفایت شعارانہ پالیسیاں نافذ کرلی ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محمد بن سلمان کچھ عرصے سے سعودی خاندان کا ولیعہد ہے اور اس نے ایڑی چوڑی کا زور لگا کر اپنے آپ کو ایک آہنی اور مضبوط و مقتدر حکمران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور بےشمار شہزادوں کو قید یا نظربند کرکے ان کی طاقت کو اپنے تابع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے انجانے میں سعودی عوام کو یہ بھی بتا دیا کہ سعودی خاندان کے شہزادے ان کی دولت لوٹ رہے ہیں اور اپنے خزانے بھر رہے ہیں!!! گویا وہ اپنا دامن بھی نہ بچا سکا ملک کے عوامی حلقوں میں ممکنہ لوٹ مار کے الزام سے! اس صورت میں کہ وہ خود لٹیرا نہ ہو اور نہ رہا ہو گوکہ اس کا اپنا احتساب ابھی ہونا باقی ہے اور اگر بادشاہ بنا تو محفوظ رہے گا ایسے کسی احتساب سے۔
بن سلمان تیزرفتاری سے ایک منصوبہ بند ترقی کی گاڑی کو پٹڑی پر ڈالنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے جناب ولیعہد سے رقم بٹور کر تجزیہ کرنے والے مغربی قلمکاروں کے سوا بےشمار تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ ترقی کی پٹڑی سعودی گاڑی چڑھانے کی غیر حقیقی کوششوں کے ذریعے جزیرہ نمائے عرب کو عدم استحکام سے دوچار کررہا ہے۔
اس نے اپنے لئے ایک بیرونی دشمن بھی فرض کرلیا جس کا نام ایران ہے اور اگر اندرون خاندان کچھ شہزادوں کی طاقت کو لگام دینے کے لئے انہیں گرفتار کیا یا ان کی دولت ضبط کرلی تور دوسری طرف سے ایران کا مقابلہ کرنے کے بہانے اسرائیل کے ساتھ ملے جلے خفیہ اور اعلانیہ گٹھ جوڑ کو اپنا نصب العین قرار دیا لیکن اس کے ان غیر حقیقی، جعلی اور کسی بھی عقلی اور سماجی بنیاد سے عاری اقدامات کو سعودی عرب کی پائیدار پالیسی قرار دینا شاید چنداں درست نہیں ہے۔
محمد بن سلمان اقتدار پرست، طاقت کا رسیا اور غیر مستقل مزاج اوصاف سے متصف ولیعہد
ایک دلیل ـ جس سے استناد کرکے کہا جاسکتا ہے کہ سعودی حکمرانی کی موجودہ شکل دیر پا نہیں ہے ـ محمد بن سلمان کی شخصیت اور اوصاف ہیں۔ وہ اگرچہ طاقت کا رسیا، اقتدار کا شیفتہ اور عمومی اور بین الاقوامی توجہات اپنی جانب مبذول کرانے کا شیدائی ہے لیکن اس کی اپنی ذات ایک غیر مستقل مزاج اور غیر مستحکم ہے جو مسلسل بدلتی رہتی ہے۔
برطانوی اخبار دی اینڈیپنڈنٹ محمد بن سلمان کی "غیر کارآمد" شخصیت کو موضوع سخن قرار دیتے ہوئے اس کو اپنی ایک رپورٹ میں کوتاہ اندیشانہ اور نامعقول (ill-advised) اقدامات کا ملزم ٹہراتا ہے اور ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ وہ ایک جلد باز اور جوشیلا شہزادہ ہے جس کی علاقائی پالیسیاں گستاخانہ ہیں اور اس کی پالیسیاں بیرون ملک منفی نتائج پر منتج ہوتی ہیں۔
اخبار مزید لکھتا ہے: اس شخص کی جلدبازیوں پر صدام کی پالیسیوں کا گمان گذرتا ہے جس نے کویت کی تسخیر کے بعد علاقے کے دوسرے ممالک کو بھی زیر نگیں لانے کا منصوبہ بنایا اور بعث پارٹی [اور اس کے لادینی پر مبنی افکار] کو علاقے پر مسلط کرنا چاہا، علاقے کے ممالک میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کے لئے دو ممالک پر جارحیت کی، اور لگتا ہے کہ بن سلمان کو بھی یمن کی جنگ کے نہایت بھیانک نتائج مول لینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اس غیر مستحکم اور اقتدار پسند و طاقت کا رسیا سعودی شہزادے کی نجد و حجاز کی سرحدوں سے باہر دوسرے ممالک اور حکومتوں اور اقوام کے مفادات پر یلغار اندرون ملک عوام کے معاشی اور ثقافتی مطالبات سے اس مغرور شہزادے کی مکمل غفلت کا سبب بنی ہوئی ہے اور وہ بیرون ملک دست اندازیوں میں مصروف ہے حالانکہ ہر دم اندرونی طور پر راکھ تلے آگ کے بھڑک جانے کا امکان ہے۔
نمائشی اور بانجھ اصلاحات سعودی معاشرے کی گھات میں
آل سعود کے زیر تسلط سرزمین میں تناؤ اور عدم استحکام کا ایک اہم سبب وہ نمائشی اور بانجھ اصلاحات ہیں جن کے پیچھے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔ یہ اصلاحات ـ سماجی معاملات کے حوالے سے اور بالخصوص حقوق نسوان کے والے سے ـ روایتی اور انتہاپسند طبقے اور جوان اور اصلاح پسند طبقوں کے درمیان تنازعے کی صورت میں ابھر چکی ہیں۔ ایسی اصلاحات کو نمائشی اور بانجھ اصلاحات کا نام دیا جاسکتا ہے۔
یہ اصلاحات اس لئے بانجھ اور کہ نمائشی ہیں کہ ان کا مقصد رائے عامہ کو خطے میں آل سعود کی پےدرپے ناکامیوں سے منحرف کرنا اور سعودی حکمرانی کی پوری طاقت و اقتدار کی محمد بن سلمان کی طرف منتقلی کے عمل کو نظروں سے دور رکھنا ہے۔
بن سلمان کی اصلاحات اس لئے بھی بانجھ اور بےثمر ہیں کہ جزیرہ نمائے عرب پر ایک صدی سے انتہاپسندانہ وہابی افکار مسلط رہے ہیں اور اس شخص کی عجلت زدہ اور انحرافی و تحریفی اصلاحات کسی نتیجے پر پہنچے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔
وہابی تفکر اور انتہاپسندی نے آج اس حد تک جزیرہ نمائے عرب کے معاشرے میں اس طرح سے جڑیں پکڑ لی ہیں کہ اس معاشرے میں قدامت پسندی کے حامیوں کی تعداد جدیدیت کے نظریئے کے حامیوں سے کہیں زیادہ ہے اور صورت حال اس وقت یہ ہے کہ طاقتور قدامت پسند اور کمزور اور نہتے اصلاح پسند ایک دوسرے کے مقابلے آکھڑے ہوئے ہیں۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ بن سلمان کی بانجھ اصلاحات نے تنازعات اور جھگڑوں کی کیفیت پیدا کرکے معاشرے کے استحکام کو نشانہ بنایا ہؤا ہے اور اگر یہ تنازعات عملی صورت اختیار کریں تو اس معاشرے کو عدم استحکام سے بچانا بن سلمان کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔

خارجہ پالیسی سے وسیع اندرونی ناراضگی
سعودی خاندان گذشتہ کئی عشروں سے ـ اندرون خانہ فلاح و بہبود کی بجائے ـ وہابیت کی ترویج، آرزومندانہ بیرونی جنگوں، اور دوسرے معاشروں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی غرض سے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا چکا ہے۔ سعودی عرب گذشتہ تین برسوں سے یمن کی جنگ میں الجھا ہؤا ہے اور اس غریب ممالک کی تباہی پر اپنی بےتحاشا طاقت، دولت اور مالی اور عسکری وسائل خرچ کرچکا ہے۔ سعودیوں نے گذشتہ سات برسوں سے عراق اور شام میں دہشت گرد تکفیری ٹولوں کی مدد کے لئے شاید کھربوں ڈالر کی دولت صرف کردی ہے۔
دی انڈیپنڈنٹ اس سلسلے میں لکھتا ہے: سلمان بن عبدالعزیز 2015 میں سعودی بادشاہ بنا تو اس نے اپنے جواں سال بیٹے محمد بن سلمان کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپ دیا۔ اس نے سب سے پہلے اقدام کے طور پر روسی صدر پیوٹن کو بڑی رشوت کی پیشکش کرکے شام میں صدر بشار اسد کی حمایت ترک کرنے کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ شام میں روس کی موجودگی کو تسلیم کرے گا لیکن ناکام رہا۔ اسی وقت اس نے یمن کے خلاف [نام نہاد] "فیصلہ کن طوفان" (یا Decisive Storm عاصفة الحزم) نامی کاروائی کا آغاز کیا [اور وعدہ کیا کہ یہ کاروائی دو ہفتوں کی مختصر مدت میں مکمل ہوجائے گی] لیکن اس کاروائی کو تین سال ہورہے ہیں، 20 ہزار سے زائد یمنیوں کا قتال عام ہوچکا ہے، انسانی المیوں بھرمار ہے، اور جنگ اس چھوٹے ملک میں بدستور جاری ہے اور اب عجیب بات یہ ہے کہ محمد بن سلمان اس جنگ کے خاتمے کے اعلان سے عاجز و قاصر ہے۔ کھربوں ڈالر سعودی دولت اس ملک کو جلانے کے لئے خرچ ہوئی ہے اور امریکہ،  برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سمیت کئی ممالک کے اسلحہ بنانے کے کارخانے شاد و آباد ہوچکے ہیں اور وہاں کے حکمرانوں کی جیبیں بھرچکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وہابی کی پرچار میں بھی سعودی عرب نے ـ بطور علمبردار وہابیت ـ کھربوں ڈالر خرچ کردیئے ہیں۔ اور یہ تمام مسائل ـ یعنی سعودی خارجہ پالیسی کے تمام اقدامات ـ مل کر جزیرہ نمائے عرب کے عوام کے درمیان ناراضگی کی لہریں اٹھنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ بالخصوص سعودی شہزادوں کی چوری ثابت کرکے ان کی اربوں ڈالروں کی دولت ہتھیا لینے کے باوجود سعودی عوام شدید ترین مالی بحران کا سامنا کررہے ہیں: ہزاروں بیرونی مزدوروں کو ملک سے نکال باہر کرنا بھی اس مالی بدحالی کا اہم ثبوت ہے۔
سعودی عرب کے بدحال عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کھربوں ڈالر کی دولت مختلف جنگوں میں خرچ ہورہی ہے اور ان جنگوں سے ان کے ملک اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔
سعودی حکمرانوں کی غلط اور ناعاقبت اندیش خارجہ پالیسی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے کیمپینز شروع ہوچکے ہیں جیسے #ہماری_تنخواہ_ناکافی_ہے وغیرہ جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کا اندرونی استحکام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یہ کیمپینز خونریز اور لاحاصل بیرونی جنگوں پر کھربوں سعودی دولت صرف کرنے اور ان کے نتیجے میں اندرونی معیشت کی تباہی کی بنا پر شروع ہوچکی ہیں۔
آج بہت سے سعودی حکام ان خطروں کا ادراک رکھتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ یہ صورت حال اندرونی استحکام کے درہم برہم ہونے پر منتج ہوسکتی ہے اور ملک کو سماجی بےچینیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معیشت جس نے عوام کا سکون غارت کرلیا ہے
ایک طرف سے اگر سعودیوں کے بیرونی جنگوں میں الجھاؤ کی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں تو دوسری طرف سے عالمی بینکوں سے سعودیوں کے قرضے لینے کی خبروں نے بھی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
رائٹرز نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے کئی عالمی بینکوں سے 10 ارب ڈالر کا قرضہ مانگ لیا ہے اور سعودی حکومت اس رقم سے اپنے سرکاری فنڈز کو تقویت پہنچانا چاہتا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاض نے بیرونی بینکوں سے درخواست کی 2016 میں لئے گئے قرضوں کی میعاد 2022 سے 2023 تک بڑھا دیں۔
حال ہی میں شائع ہونے والی بعض خاص اقتصادی رپورٹوں کے ضمن میں انکشاف ہؤا ہے کہ سعودی معیشت کو سنہ 2018 میں تین قسم کے بحرانوں کا سامنا ہوگا: 52 ارب ڈالر سے زائد معاشی تنزلی اور کساد بازاری، افراط زر کی شدت؛ وسیع سطح کی بےروزگاری اور عسکری اخراجات میں شدید اضافہ۔ کساد بازاری اور تعطل کی حد 52 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے جبکہ سعودی عرب کے 2018 کے بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ کا ایک تہائی حصہ عسکری اور سلامتی کے امور کے لئے مختص کیا گیا ہے: 261 ارب ڈالر کے بجٹ میں 83 ارب ڈالر!
یہ تمام معاشی مسائل مل کر سعودی معیشت کو ناخوشگوار صورت حال سے دوچار کرچکے ہیں جس کی وجہ سے حکام نے شدید کفایت شعارانہ پالیسیاں نافذ کرلی ہیں: سرکاری اور نجی کارکنوں کی تنخواہوں میں کمی کردی گئی ہے، کارکنوں کو دی جانے والی انعامی رقوم کو محدود کرلیا گیا ہے، اور اس طرح کے دوسرے کئی اقدامات عمل میں لائے جاچکے ہیں۔
یوں سعودی معیشت ـ جو اس ملک کا کمزور نقطہ (Weak point) سمجھی جاتی ہے ـ سنجیدہ خطروں سے دوچار ہوچکی ہے، ایسے خطرات جو گذشتہ کئی عشروں میں جزیرہ نمائے عرب کے لئے ناآشنا اور اجنبی تھے۔ یہ خطرات عوامی غیظ و غضب کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ سعودی حکمرانی کے خلاف کئی تنظیمیں معرض وجود میں آچکی ہیں، سعودی عرب کے اندر کئی خونی لڑائیاں کم از کم 2017 کے دوران لڑی جاچکی ہیں جنہیں مغربی اور عربی میڈیا نے کوریج نہیں دی ہے لیکن وہ اس معاشرے کے حقائق ہیں جن سے حکام آل سعود دامن چھڑا نہیں سکیں گے۔ جزیرہ نمائے عرب کے انسانی حقوق کے سماجی کارکنوں، اپوزیشن راہنماؤں اور سرگرم سیاسی اور سماجی کارکنوں کا خیا ہے کہ اس ملک کے عوام کے صبر کا پیمانہ موجودہ ناقابل برداشت صورت حال کی بنا پر عنقریب لبریز ہونے والا ہے اور عدم استحکام کی ملک گیر کیفیت پورے معاشرے کا احاطہ کرلے گی۔
بقلم: علی محقق و فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram