سعودی ولیعہد "ایم بی ایس" کا اقتدار خطرے میں!

سعودی ولیعہد

کل تک تو کہا جاتا رہا کہ آج نہیں تو کل، سلمان بن عبدالعزیز اپنے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کو اقتدار کی زمام دے کر دستبردار ہوجائیں گے لیکن آخر کار سلمان کو بھی اپنی بیٹے کی اہلیت مشکوک نظر آنے لگی ہے اور ٹائمز آف لندن نے روز جمعہ (14 ستمبر 2018ع‍] کے شمارے میں لکھا ہے کہ محمد بن سلمان اندرونی اور بیرونی سطح پر ناکامیوں سے دوچار ہوا ہے، قبیلۂ بنی سعود بھی ان سے ناراض ہوچکا ہے، چنانچہ سعودی بادشاہ عنقریب انہیں اپنے ولیعہدی کے منصب سے معزول کرسکتے ہیں!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ٹائمز آف لندن نے مائیکل برلی (Michael Burleigh) کے قلم سے اپنی ایک یادداشت میں، ایم بی ایس کے ولیعہد بننے کے بعد کے بنی سعود کی بادشاہت کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طے تو یہ تھا کہ سعودی ولیعہد ایک اصلاح پسند شخص کے طور پر "علاقے" کے پرانے زخم کا علاج کریں گے لیکن ان سے لگی امیدیں باطل ہوچکی ہیں۔
یادداشت کے اہم نکات:
محمد بن سلمان گذشتہ اس سال کے آغاز پر برطانیہ کے دورے پر آئے اور یہاں کے تعلقات عامہ کی کمپنیوں میں اپنی تشہیر کے لئے کئی میلین ڈالر خرچ کئے اور برطانوی ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ "گوکہ ایم بی ایس کی عمر ابھی صرف 32 سال ہے لیکن وہ سعودی خاندان کے طاقتور ترین شخص ہیں"۔
لیکن چھ مہینوں کے مختصر عرصے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ان کی بادشاہت تک رسائی کھٹائی میں پڑ گئی ہے اور ان کے والد سلمان بن عبدالعزیز سعودی، اس سلسلے میں شک و تذبذب کی نشانیاں ظاہر کرنے لگے ہیں۔
سعودی ولیعہد کے بارے میں نعروں اور دعؤوں اور ان کی شخصیت اور صلاحیت کے درمیان موجودہ دراڑ عیاں ہوچکی ہے۔
کیا آپ کو سعودی ولیعہد کا مجوزہ کثیر ملکی اور کثیر سرحدی مجوزہ اقتصادی شہر "نیوم" کا منصوبہ یاد ہے؟ اس شہر کے لئے انھوں نے 80 ارب ڈالر سے زائد کا بجٹ مختص کر رکھا ہے۔ اور ولیعہد صاحب کا سعودی وژن 2030ع‍ آرامکو تیل اور گیس کمپنی کے 5 فیصد حصص فروخت ہونے کے سہارے ہی قابل عمل ہے۔
بظاہر لگتا ہے کہ سلمان بن عبدالعزیز (بادشاہ) نے نیویارک میں آرامکو کے حصص کی مقررہ فروخت کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ 11 ستمبر کے واقعے کے حوالے سے بنی سعود کی حکومت پر لگائے گئے الزامات کی بنا پر ـ اور سعودی حکومت کی طرف سے 11 ستمبر 2011ع‍ کے واقعے کے سلسلے میں معلومات فراہم نہ کئے جانے کے الزام میں ـ امریکی عدالت میں جاری مقدمے کے نتیجے میں ان حصص کو بھی دوسرے سعودی سرمایوں کی طرح، ضبط کیا جاسکتا ہے۔
ادھر ہوٹل ریٹز کارلٹن (The Ritz-Carlton, Riyadh) کو جیلخانے میں تبدیل کرکے سعودی سیاسی، سماجی اور عسکری شخصیات اور بڑے تاجروں اور شہزادوں کے اس میں بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے اور ابھی تک 150 ارب ڈالر کا سرمایہ اس ملک سے نکل چکا ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی ایم بی ایس کی پالیسیوں نے بنی سعود کی بادشاہت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ یمن پر سعودیوں کی تھونپی ہوئی جنگ چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے اور یہ دلدل بن سلمان کی تیار کردہ ہے جس میں سعودی حکومت دھنستی چلی جارہی ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) کے تخمینوں کے مطابق، بنی سعود کو یمن کی جنگ میں ہر مہینے 5 سے 6 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ برطانیہ اور امریکہ بنی سعودی کو اسلحہ بیچ بیچ کر، اس اسلحے کا نشانہ بنانے کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں!
یمن کی جنگ میں سعودیہ اور امارات کے ہاتھ اب تک 10000 سے زائد نہتے یمنی شہری جان بحق ہوچکے ہیں، جبکہ 85 لاکھ افراد سوء تغذیہ (یا ناقص و ناکافی غذائیت) غذائیت کا شکار ہیں؛ اور دوسری طرف سے حوثیوں کو اہل تشیع [اور یمنی عوام] کی حمایت حاصل ہوچکی ہے اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حوثی سعودیوں پر سستے میزائل برسا رہے ہیں اور جب بھی سعودی افواج امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کے ذریعے ان کے کسی میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتی ہیں تو اس کے بدلے سعودیوں کو تیس لاکھ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔
سعودیوں نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر اسے تنہا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں ناکام ہوچکے ہیں، اور اس کے نتیجے میں خلیج فارس تعاون کونسل بنی سعود اور بنی نہیان کے مفاد میں، تباہ ہوچکی ہے۔
قطر اپنے محاصرے کے ابتدائی جھٹکے کو کامیابی سے برداشت کر چکا ہے اور اس وقت ایران، چین اور روس جیسے ممالک اس کی حمایت کررہے ہیں۔
اس وقت ایم بی ایس کی جدت پسندی کے دعؤوں میں سے کچھ باقی نہیں رہا ہے؛ مشرقی علاقوں میں اہل تشیع کو مسلسل کچلا جارہا ہے؛ عورتوں کی ڈرائیونگ کے سلسلے میں وسیع تشہیری مہم چلائی گئی ہے لیکن دوسری طرف سے 13 فعال خاتون کارکنوں کو ـ جو آزادی کے دوسرے پہلؤوں کا مطالبہ کررہی ہیں ـ گرفتار کیا گیا ہے۔
حقیقت حال یہ ہے کہ ایم بی ایس نہ تو مصلح ہیں اور نہ ہی ایک مقتدر اور طاقتور شخصیت اور صورت حال یہ ہے کہ ان کے والد ایک دستخط سے اور اپنے ایک جنبش قلم سے ان کو اپنی جانشینی سے ہٹا سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ سعودی شہزادوں نے بن سلمان کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کررہے ہیں اور ان کی ناکام پالیسیوں سے ناراض ہیں چنانچہ انہیں ولیعہدی کے منصب سے بہت جلد برخاست کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram