سعودی عرب کی ایک مرتبہ پھر آبرو ریزی، سعودیوں کے ہاتھوں ایک اور نامہ نگار کا قتل

سعودی عرب کی ایک مرتبہ پھر آبرو ریزی، سعودیوں کے ہاتھوں ایک اور نامہ نگار کا قتل

ذرائع ابلاغ نے سعودی سیکورٹی حکام کی ایذا رسانی کے نتیجے میں ایک اور نامہ نگار کا قتل ہونے کی خبر دی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی حکومت ابھی مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے بری بھی نہیں ہو پائی تھی کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے سعودی سیکورٹی حکام کے ہاتھوں ایک اور نامہ نگار کا قتل ہو جانے کی رپورٹ دی گئی ہے۔

معت‍قلی الرای سے موسوم سیاسی قیدیوں کے اعداد و شمار کے مرکز کی جانب سے جو سعودی عرب میں قیدیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتا ہے، الخلیج الجدید نٹ کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے کہ معروف سعودی صحافی اور قلمکار ترکی بن عبدالعزیز الجاسر بدھ کے روز سعودی سیکورٹی حکام کی ایذا رسانی کے نتیجے میں دم توڑ گئے۔

الخلیج الجدید نے اپنے ٹوئٹر پیج پر سعودی عرب میں گرفتاریوں اور اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے الجاسر کو حراست میں لینے کے بعد اتنی ایذائیں پہنچائی گئیں کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے دبئی میں ٹوئٹر دفتر میں نصب جاسوسی کے آلات کی بدولت الجاسر کا پتہ لگایا اور آخرکار انھیں مارچ کے مہینے میں گرفتار کر لیا۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ صحافی کشکول ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا اور سعودی حکام کی انسانی حقوق سے متعلق خلاف ورزیوں کا راز فاش کرتا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کی بعض رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان کے سابق سیکریٹری سعود القحطانی، اس سائبر مرکز کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

جاسوسی کے یہ مراکز سوشل میڈیا میں انٹرنیٹ فورس کا حصہ شمار ہوتے ہیں جنھیں سعودی عرب سرگرم عمل افراد کا تعاقب اور ان کا پیچھا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ جاسوسی کے ان مراکز کے پیچھے سعودی ولیعہد بن سلمان کے سابق مشیر سعود القحطانی کا ہاتھ تھا۔

اس سے قبل القحطانی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ جعلی ناموں سے ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتے۔

اس سعودی صحافی کا قتل ایسی حالت میں ہوا ہے کہ سعودی عرب کے ہاتھوں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے ہونے والے قتل پر عالمی برادری کے ردعمل کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مخالف صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے جو پھر زندہ واپس نہیں لوٹے۔

چنانچہ سعودی عرب کے ہاتھوں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے ہونے والے اس بےدردانہ اور وحشیانہ قتل پر عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور ردعمل کا اظہار کئے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲
 


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram