یمنی میزائل؛

ریاض خوفزدہ، یمن کے بیلیسٹک میزائلوں نے سعودیوں کی نیند حرام کردی

ریاض خوفزدہ، یمن کے بیلیسٹک میزائلوں نے سعودیوں کی نیند حرام کردی

یمنی افواج نے پرسوں رات سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو سات میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جس سے دارالحکومت پر مسلط سعودی قبیلہ اور اس شہر کے نازک مزاح سعودیوں کی نیندیں حرام ہوگئیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  یمنی عوام سعودیوں ـ اسرائیلیوں اور امریکیوں کے تین سالہ شب و روز کے حملوں کی وجہ سے ایک رات بھی آرام سے نہیں سوسکے ہیں؛ ایک رات کی نیند حرام ہوئی تو کیا ہؤا؟
مصری نشریاتی ادارے "المسیرہ" نے یمن کی میزائل یونٹ کے اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پرسوں رات انصار اللہ تحریک کے قائد سید عبدالملک حوثی الحسنی الطباطبائی کا وعدہ نبھاتے ہوئے دارالحکومت سمیت سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں عسکری اور سرکاری ٹھکانوں کو سات بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔
میزائل یونٹ نے اعلان کیا کہ سعودی عرب پر برکان ایچ 2، بدر اور قاہرایم 2 نامی میزائل داغے گئے ہیں۔ ان میزائلوں نے ریاض کے ملک خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، عسیر کے علاقے میں "ابہا" ہوائی اڈے، جیزان ہوائی اڈے اور کچھ جنوبی سعودی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
میزائل یونٹ کے مطابق ریاض کے ملک خال ہوائی اڈے کو برکان ایچ2 اور عسیر کے علاقائی ابھا ایئرپورٹ کو قاہر ایم 2 کا نشانہ بنایا گیا۔
یمنی افواج کی میزائل یونٹ نے حال ہی میں مقامی ساخت کے درمیانی رینج کے میزائل بدر1 استعمال کرکے نجران کے ہوائی اڈے سمیت بعض اہم فوجی اور اقتصادی مراکز کو تباہ کردیا ہے۔
رائٹرز خبر ایجنسی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انہیں پرسوں رات کے وقت دارالحکومت ریاض میں انتہائی شدید دھماکے کی آواز سنائی دی ہے۔
میزائل یونٹ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ داغے جانے والے تمام بیلیسٹک میزائل ٹھیک ٹھیک نشانوں پر لگے ہیں اور دشمن کا فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کا راستہ نہیں روک سکا ہے۔
یہ منفرد میزائل حملے ـ یمن پر سعودی جارحیت کے چوتھے سال کے آغاز کے موقع پر ـ سید عبدالملک الحوثی کے خطاب کے چند ہی گھنٹے بعد انجام پائے ہیں۔
الحوثی نے اپنے خطاب میں یمنی عوام کو وعدہ اور اپنے دشمنوں کو وعید دی ہے کہ یمنی مزاحمت کے چوتھے سال یمنی افواج کی میزائل قوت زبردست ترقی کرے گی اور اس سال کے  دشمن کا میزائل دفاعی نظام یمن کے نئے میزائلوں کا راستہ نہیں روک سکے گا اور یہ میزائل بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے نشانوں پر اتریں گے۔
یمن پر آل سعود کی جارحیت مورخہ 26 مارچ 2015 سے شروع ہوئی تھی اور کل اس وحشیانہ اور غیر انسانی جارحیت کا چوتھا سال شروع ہؤا؛ ہمہ جہت جارحیت جو بظاہر یمن کے مفرور اور مستعفی صدر اور ریٹائرڈ جنرل عبد ربہ منصور ہادی کو اقتدار پلٹانے کی غرض سے شروع ہوئی جبکہ اصل مقصد یمن کے ذرائع اور وسائل پر سعودی ـ اماراتی قبضہ تھا لیکن کئی ہزار یمنیوں کی شہادت اور یمن کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور جارحیت کے تین سال پورے ہونے کے باوجود یمن کے غریب اور بھوکے عوام کی مزاحمت جاری ہے اور سعودی، اماراتی اور ان کے بعض حلیف یمن کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں جبکہ سعودیوں کے بعض حلیف جنگ سے الگ ہوچکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram