سیاسی ـ سماجی تحریک کا اعلان؛

جزیرہ نمائے عرب کے اپوزیشن راہنماؤں کی آل سعود کے خلاف تحریک کی تیاریاں + مقاصد

جزیرہ نمائے عرب کے اپوزیشن راہنماؤں کی آل سعود کے خلاف تحریک کی تیاریاں + مقاصد

ججاز مقدس میں آل سعود مخالفین خلاف "الکرامۃ" نامی تحریک کے اعلان کی تیاریاں کررہے ہیں؛ یہ تحریک جزیرہ نمائے عرب میں اصلاحات، لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمت تحریک کی حمایت اور پڑوسی ممالک کے اور سنی اعتدال کی ترویج پر زور دیتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "العہد" ویب سائٹ کے مطابق "معن بن علی الدرویش الجربا" کی قیادت میں الکرامہ تحریک کے اہداف و مقاصد کا ایک نسخہ شائع کیا ہے۔ یہ تحریک سعودی مخالفین پر مشتمل ہے اور اس کے مقاصد میں ملک کے باشندوں کے حقوق کا حصول اور صہیونی ریاست کے خلاف لبنان اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت تحریک کی جمایت، عرب ممالک کی امریکی غلامی سے آزادی اور اتحاد و یکجہتی، ایران اور ترکی سمیت اسلامی اور علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور تعاون، معتدل سنی مکتب کا احیاء، شیعہ اور سنی دینی مدارس کے درمیان تعاون اور سرزمین عرب میں شاہی خاندان کی بجائے عوامی رائے کو ترجیح دینا شامل ہے۔

تحریک کا تعارف
الکرامہ ایک عوامی تحریک ہے جس کا مقصد اصلاحات کو روبہ عمل لانا اور جزیرہ نمائے عرب کے حقوق کا حصول ہے۔

مقاصد

۔ عزت و کرامت اور عدل و مساوات کا حصول، مذہب اور نسل یا علاقے کے امتیاز کو خاطر میں لائے بغیر، تمام معاشرتی طبقوں کے لئے۔
۔ پرامن تبدیلیاں لانا، اور ان تمام پرامن روشوں سے استفادہ کرنا جن سے اقوام متحدہ اور آزاد اقوام فائدہ اٹھا کر ملت کے جائز حقوق کے حصول کے لئے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
۔ حرکۃ الکرامہ کو یقین کامل ہے کہ مقدرات کے تعین اور نظام حاکم کے انتخاب کا حقدار صرف عوام کو حاصل ہے۔
۔ حرکۃ الکرامہ کو یقین ہے کہ جمہوری مدنی نظام بہترین ممکنہ شکل ہے۔
۔ ہمارا مطالبہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمان کا قیام ہے۔ حکومت کا قیام براہ راست عوام کے ذریعے ہونا چاہئے نہ کہ حکمران شاہی خاندان کی طرف سے۔
۔ الکرامہ تحریک ان قبائل کے حقوق کی حمایت کرتی ہے جنہیں برطانوی سامراج کی حمایت یافتہ وہابیت کی جنگوں کے دوران جبری طور پر اپنے علاقوں سے بےدخل کیا گیا؛ انہیں تاوان ادا کرنا چاہئے اور ان کے پامال شدہ حقوق انہیں واپس کرنا ہوگا۔

الکرامہ تحریک کے اسلامی اور قومی مقاصد
۔ خطے میں تمام عربی اور اسلامی مزآحمتی تحریکوں کی حمایت، اسلامی و عربی اتحاد اور عربی وطن میں سماجی انصاف، آزادی فکر اور انسانی حقوق کی جمایت۔
۔ عالمی صہیونیت اور اس کے حامیوں کا مقابلہ کرنا۔
۔ اعتدال پسند اسلامی اور عیسائی اور دیگر ادیان و مذاہب کے درمیان اعتدال پسندانہ دینی تفکر کے فروغ کے لئے کوشش۔
۔ مسامحت پر مبنی تعلیمات و ثقافت اور پر امن بقائے باہمی کی تروجی اور مذہبی و فرقہ وارانہ امتیازی رویوں اور نسل پرستی کا مقابلہ کرنا۔

تحریک کے خد و خال
۔ الکرامہ ایک عوامی اور عربی تحریک ہے اور سیاسی جماعت نہیں ہے۔
۔ اس تحریک کی بنیاد جمہوری فکر پر رکھی گئی ہے۔
۔الکرامہ ایک ثقافتی، سماجی اور مدنی تحریک ہے اور عسکری نہیں ہے۔
 
تحریک کا نقطۂ نظر
۔ الکرامہ مسئلۂ فلسطین اور قدس شریف کے مسئلے کو اپنا پہلا اور بنیادی مسئلہ سمجھتی ہے۔
۔ الکرامہ عرب ممالک کی جغرافیائی سالمیت اور معاشی، اور معاشرتی وحدت پر تاکید کرتی ہے۔
۔ الکرامہ معاشرے میں عورت کے کردار نیز بچوں کے حقوق اور ان کی پرورش کے اہتمام پر زور دیتی ہے۔
۔الکرامہ "الازہر، الزیتونہ، اور القیروان" کی طرح سنی دینی مدارس کے سابقہ اعتدال پسندانہ کردار کی واپسی، بڑے سنی مدارس کے نجف اشرف اور قم المقدسہ کے شیعہ بڑے مدارس کے ساتھ اتحاد و تعاون پر تاکید کرتی ہے۔
۔ الکرامہ تحریک ترکی کو برادر ملک اور یورپ کی طرف عرب دنیا کا دروازہ قرار دیتی اور اس کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتی ہے۔
۔ الکرامہ تحریک اسلامی جمہوریہ ایران کو برادر ملک اور ایشیا کی طرف عالم عرب کا دروازہ نیز غاصب ریاست کے خلاف مزاحمت کا حقیقی حامی ملک سمجھتی ہے اور اس کے ساتھ تعاون کا خیر مقدم کرتی ہے۔
۔ نیز تحریک الکرامہ مصر، عراق، یمن، شام، مراکش، روس، چین اور بریکس کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتی ہے اور انہیں اہمیت دیتی ہے۔
۔ الکرامہ تحریک کو یقین ہے کہ مزاحمت کی مختلف فکری، ثقافتی، سماجی، سیاسی اور عسکری قسمیں ہیں اور مزاحمت کی ان تمام قسموں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ لبنان اور فلسطین میں مزاحمت تحریکیں شریف وطنی (قومی) تحریکیں ہیں جو امت کی مدد کرتی ہیں اور صہیونی ریاست کی ہیبت کو توڑ دیتی ہیں۔
۔ الکرامہ تحریک خلیج (فارس) اور جزیرہ نمائے عرب کے ممالک کو امت کی میراث سمجھتی ہے اور ان کے محاذ مزاحمت سے آ ملنے اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی عربی امت اور پڑوسی اسلامی ممالک کے لئے خطرے کا سرچشمہ ہیں۔
۔الکرامہ تحریک کو یقین ہے کہ اردن غاصب صہیونی ریاست کے خلاف بڑی جنگ کے لئے سرزمین موعود ہے اور اس ملک کو امریکی لکیر پر گامزن رہنے سے باز رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

سیکریٹری جنرل حرکۃ الکرامۃ
معن بن علی الدوویش الجربا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram