بدعنوان / مفسد شہزادہ اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کی اداکاری

بدعنوان / مفسد شہزادہ اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کی اداکاری

یہ دنیا کا سب سے مہنگا گھر ہے، اس میں خالص سونے کے فوارے لگے ہوئے ہیں اور اس کے باغ کا رقبہ 141 ایکڑ ہے اور اس کے خریدار کا سراغ نیویارک ٹائمز نے لگایا ہے: محمد بن سلمان آل سعود۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کچھ عرصہ پہلے نیویارک ٹائمز نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی طرف سے "بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کی اداکاری" کو مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی خاندان کے تمام بدعنوان شہزادوں کے زمرے میں شمار کیا۔

سعودی ولیعہد نے حال ہی میں دنیا بھر اور علاقے میں دہشت گردی اور خون خرابے پر کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے نتیجے میں سعودی عرب کی معاشی بدحالی کا مقابلہ کرنے کے لئے دیگر شہزادوں کو بدعنوانی کا ملزم ٹہرا کر ان سے تقریبا 108 ارب ڈالر بٹور لئے ہیں اور مکر و فریب کی انتہا کرتے ہوئے بظاہر بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کا علمبردار بنا ہؤا ہے لیکن نیویارک ٹائمز کی اس خبر نے اس کو رائے عامہ کے سامنے کافی حد تک رسوا کردیا۔

خبر یہ تھی: "سعودی شہزادے اور مبینہ ایماندار ولیعہد محمد بن سلمان نے فرانس میں "30 کروڑ ڈالر" ادا کرکے اپنے لئے لوئی چہاردہم (Louis XIV of France) کا شاہی قصر خرید لیا ہے"؛ اور یہ کہ سعودی عرب کے ولیعہد نے 2015 میں باپ کے بادشاہ بننے کے فورا بعد ہی فرانس میں محل خرید لیا تھا؛ لوئی چہاردہم کے قصر کا مجموعی رقبہ 56.8342 ایکڑ ہے، 5000 میٹر (1.235527 ایکڑ) کے اوپر عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور یہاں کے خدام کی تعداد 120 ہے۔



امریکہ کے ایک معتبر مجلے فارچون (Fortune) نے اس محل کی کچھ تصاویر شائع ہیں اور لکھا ہے: یہ دنیا کا سب سے مہنگا گھر ہے، اس میں خالص سونے کے فوارے لگے ہوئے ہیں اور اس کے باغ کا رقبہ 141 ایکڑ ہے اور اس کے خریدار کا سراغ نیویارک ٹائمز نے لگایا ہے: محمد بن سلمان آل سعود۔


مزید خبریں:

۔ ذرائع ابلاغ نے یہ بھی کہا ہے کہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں بھی دنیا کے سب سے مہنگے گھر کا مالک ہے۔

۔ محمد بن سلمان نے ملکی خزانے سے پچاس کروڑ یورو ادا کرکے اپنے لئے ایک تفریحی کشتی بھی خرید لی ہے۔

۔ اور تو اور انھوں نے لیونارڈو ڈیونچی کی مصوری کا ایک شاہکار بھی خرید لیا ہے جس کی قیمت صرف "38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر" ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے اس شاہکار کے لئے 45 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم ادا کی ہے جو انسانی تاریخ میں ایک تصویر کے لئے ادا کی جانے والی سب سے زیادہ رقم ہے۔

۔ اخلاقی فساد: نومبر 2017 کی یہ خبر بھی آل سعود کے متوالوں کے لئے بڑی دلچسپ ہوگی کہ جناب ولیعہد نے امریکی اداکارہ کیم کارداشیان کو کچھ عیش و نوش اور ۔۔۔ کے بدلے ایک کروڑ ڈالر کی رقم دینے کی پیشکش کی اور جب وہ نہ مانی تو جناب نے رقم بڑھا کر 2 کروڑ ڈالر کردی!! لیکن کارداشیان نے بظاہر اپنے شوہر کینی ویسٹ سے وفاداری کو ترجیح دی۔

کینی ویسٹ نے ایک سال قبل اعلان کیا کہ وہ پانچ کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا مقروض ہے اور فیس بک کے مالک سے درخواست کی اس کے نظریات پر سرمایہ کاری کرے۔ کچھ عرصہ بعد محمد بن سلمان نے کینی ویسٹ اور اس کی بیوی کیم کارداشیان کو ایک عجیب اور شرمناک پیشکش کی جس نے عرب دنیا میں ہلچل مچا دی۔

موجودہ بادشاہ کے بعد خادم الحرمین کا لبادہ اوڑھنے کے لئے پر تولنے والے شہزادے نے پیشکش کی کہ کینی ویسٹ کے قرضے اتارنے کے لئے ایک کروڑ ڈالر دینے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ اس کی بیوی ایک رات آنجناب کے ساتھ گذار لے اور جب کارداشیان نے انکار کیا تو جناب نے رقم دو گنا کردی۔

اس بظاہر فاسد اور فی الواقع بدعنوان اور بوالہوس شہزادے نے سو سالہ رستہ باپ کی بادشاہت کے بموجب ایک ہی رات میں طے کرلیا، بادشاہ بننے تک ایک قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوگیا اور مکرو فریب سے کام لیتے ہوئے اپنا چہرہ خوبصورت بنانے کی بہتیری کوشش کی لیکن چاند ہمیشہ بادلوں کے پیچھے نہیں رہتا۔۔۔ اس شہزادے نے البتہ جزیرہ نمائے عرب کی رائے عامہ پر بھی اور سعودی خاندان کو قدیسین اور قسیسین ہی نہیں خادمین حرمین شریفین تک کا رتبہ دینے والے سادہ مسلمانوں پر بھی ایک احسان بھی کیا اور دنیا بھر کے سامنے درجنوں نامی گرامی شہزادوں کو بدعنوانی کے الزام میں پکڑ لیا اور ان سب نے عوامی خزانہ لوٹنے کا اقرار ہی نہیں کیا بلکہ کچھ رقم اپنی آزادی کی قیمت اور تاوان کے طور پر محمد بن سلمان کی جیب میں بھی ڈال دی، جو یقینا انھوں نے کام کاج کرکے نہیں کمائی تھی۔ جس سے ثابت ہؤا کہ یہ خاندان ایک بدعنوان اور لٹیرا خاندان ہے جو اس پاک سرزمین کو دولت بٹورنے اور بیرونی اکاؤنٹس پر کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں نہ کہ ایک مقدس سرزمین جس کی خدمت ان پر واجب ہو۔

بن سلمان کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف نام نہاد جدوجہد اس وقت بلیک میلنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے کیونکہ فاسد شہزادوں سے رقم لے کر انہیں آزاد کیا جارہا ہے اور انہیں مزید بدعنوانیوں کا موقع دیا جارہا ہے اور ان کے لئے مقررہ مراعاتوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی جبکہ اگر ایک نظام حکومت بدعنوانی کے خلاف ہو تو بدعنوانوں کو سزا بھی دے گا!!

 جناب ولیعہد کا باپ یعنی خادم الحرمین الشریفین بھی ان خریداریوں میں پیچھے نہیں رہا اور باوجود اس کے کہ سعودی حکمرانوں نے 2016 میں بجٹ نہ ہونے کی بنا پر 250 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی بندش کا اعلان کیا شاہ آل سعود نے مراکش کے ساحل پر اس ملک کا سب سے مہنگا گھر خرید لیا اور ساتھ ہی سلمان کے مقدس گھرانے نے فرانس کے جنوب اور ہسپانیا میں بھی بے شمار بنگلے اور دیگر املاک کا نقد سودا کیا۔ یہ سودے بالواسطہ انجام پائے ہیں تاکہ خریدار کا سراغ آسانی سے نہ لگایا جاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram