بحران شام کے آغاز پر رہبر انقلاب سے ملاقات کا حال از زبان سید المقاومہ

  • News Code : 853784
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے شام میں مزاحمت تحریک کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ابتدائے بحران میں رہبر انقلاب اسلامی کے ساتھ اپنی ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے کہا: رہبر انقلاب نے فرمایا کہ بشار الاسد ان جنگ میں کامیاب ہونگے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سید حسن نصر اللہ نے ماہ محرم الحرام کی آمد پر دینی مبلغین کے ساتھ اپنی سالانہ ملاقات کے دوران کہا کہ شام میں اسلامی مزاحمت تحریک کامیاب ہوچکی ہے اور اب صرف کچھ اکا دکا لڑائیاں ہورہی ہیں۔
روزنامہ الاخبار کے مطابق، سید حسن نصر اللہ نے کہا: ہم شام کی جنگ میں اپنے مسائل سے آگاہ ہیں، ہمارے شہداء، زخمی اور اسیر حالات کو تبدیل کررہے ہیں اور نہ صرف لبنان بلکہ پورے علاقے کی تاریخ نگاری میں مصروف ہيں، ہم شام میں کامیاب ہوچکے ہیں، دشمن کا آخری منصوبہ ناکام ہوچکا ہے اور اب مذاکرات کو ترجیح دینے لگا ہے تا کہ کچھ حاصل کرسکے۔
انھوں نے کہا کہ دشمن کا آخری منصوبہ بيچ راستے ناکام ہوگیا اور اس منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے ہمیں بہت ساری سختیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر کار کامیابی نے ہمارے قدم چوم لئے اور ہماری ‏عظیم حصولیابیاں حالات کو امت مسلمہ کے حق میں بدل دیں گی۔
سید المقاومہ نے کہا: 2010 سے لے کر اب تک داعش اور جبہۃ النصرہ کے ساتھ جنگ عظیم ترین مصیبت تھی جن کے ساتھ ہم نے زندگی بسر کی اور یہ جنگ 2006 میں اسرائیل کے ساتھ 33 روزہ جنگ سے زیادہ خطرناک تھی۔ 2011 سے ہم مطمئن تھے کہ ایک بڑا فتنہ رونما ہونے والا ہے اور ہمیں معلوم ہوچکا تھا کہ امریکہ، اسرائیل، قطر اور سعودی عرب کی طرف سے اسلامی مزاحمت تحریک اور مسئلہ فلسطین کی نابودی کا ایک بڑا منصوبہ منظر عام پر آنے والا ہے۔
حزب اللہ لبنان نے سیکریٹری جنرل اور قائد تحریک مزاحمت نے کہا: شام کے واقعات رونما ہونے کے بعد میں نے ایران کا دورہ کیا اور رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی؛ اس زمانے میں سب کو یقین تھا کہ شام کی حکومت کا تختہ 2 یا 3 مہینوں میں الٹ جائے گا۔ ہم نے اپنی رائے ظاہر کی اور کہا کہ "اگر ہم دشمن کی زمین میں نہ لڑیں تو پھر اپنے شہروں "ہرمل، بعلبک، ضاحیہ، الغازیہ، مغربی بقاع اور جنوبی لبنان میں لڑنا پڑے گا۔
امام خامنہ ای نے میری بات کو مکمل کرتے ہوئے فرمایا: نہ صرف لبنان کے مذکورہ علاقوں بلکہ کرمان، خوزستان، تہران وغیرہ میں بھی لڑنا پڑے گا۔
انھوں نے فرمایا: یہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے جس کا ایک محور ایران، دوسرا شام اور تیسرا لبنان ہے اور لبنان کے محور کی کمان بشار الاسد کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنا ہونگے کہ وہ اس جنگ میں کامیاب ہوجائیں اور یقینا کامیاب ہوجائیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: ڈیڑھ یا دو سال گذرنے کے بعد سعودیوں نے بشار الاسد کو پیغام بھجوا کر تجویز دی کہ ایک کانفرنس میں حزب اللہ اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کریں تا کہ ان کے ملک میں بحران اور خانہ جنگی کا خاتمہ ہو۔
انھوں نے کہا: ہم نے ابتداء ہی میں اپنے عراقی بھائیوں کو خبردار کیا کہ اگر داعش کا مقابلہ نہ کریں اور یہ ٹولہ شام کے شہر دیرالزور پر مسلط ہوجائے تو اس کا اگلا نشانہ عراق ہوگا اور ہماری یہ پیشنگوئی درست ثابت ہوئی اور یہ دہشت گرد ٹولہ عراق کے ایک تہائی حصے پر مسلط ہوا۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: میں یہ سوال اٹھاتا ہوں کہ اگر ہم نے جہاد اور اپنے فرائض کو ترک کردیا ہوتا تو لبنان پر کیا مصیبتیں نازل ہوچکی ہوتیں اور اگر عراقی عوام نے آیت اللہ سیستانی کے فتوائے جہاد بالکفایہ پر عمل نہ کیا ہوتا تو اس ملک کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا؟
قائد المقاومہ نے کہا: یہ جنگ [جنگ شام] پربرکت تھی اور ہم نے فرائض کی انجام دہی کی غرض سے شام کا رخ کیا ورنہ کونسی ایسی چیز تھی جو ایک نوجوان کو دشوار ترین حالات میں حلب اور دیرالزور جانے پر آمادہ کرسکتی؟ ہمارے برادران آٹھ مہینوں تک ان ممالک میں محصور تھے۔
سید حسن نصر اللہ نے محرم اور عاشورا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام حسین علیہ السلام کا انقلاب صرف ظلم و ستم پر اعتراض و احتجاج کے لئے ہی نہ تھا بلکہ اللہ کی طرف کے فرائض کی انجام دہی کے لئے بھی تھا اور ہمیں ان ایام میں اس موضوع پر اپنی کوششیں مرکوز کرنا چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram