صہیونی اخبار کا اعتراف؛

ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں آل سعود کو حتمی شکست ہوگی

ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں آل سعود کو حتمی شکست ہوگی

ہاآرتص نے لکھا کہ اس میں شک نہیں ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں، ایران سعودی عرب کو شکست دے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یہودی ریاست کے اخبار ہاآرتص نے قدس کی عبری یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر شولمو آوینیری ([שלמה אבינרי] shlomo avineri) کے قلم سے ایک یادداشت شائع کی ہے جس میں انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نوجوان سعودی ولیعہد اپنے ملک کو ایران کے خلاف جنگ میں جھونک سکتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران اس جنگ میں سعودی عرب کو شکست فاش دے گا۔
لکھتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی کسی بھی جنگ سعودی عرب کو شکست ہوگی، کیونکہ باوجود اس کے، کہ سعودی عرب کے پاس بڑی مقدار میں جدید امریکی ہتھیار ہیں لیکن سعودی عرب عسکری لحاظ سے ایک کمزور ملک ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ "سعودی عرب کے پاس حقیقی معنوں میں فوج نہيں ہے"۔
آوینیری نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان نے ایران کے خلاف محاذ آرائی کی پالیسی اپنا کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان دراڑیں ڈال دی ہیں اور بعض سنی ممالک جیسے "مصر، اردن، اور ڈونلڈ ٹرمپ و بنیامین نیتن یاہو!" نے ان کی حمایت کی ہے لیکن ان ساری حمایتوں کے باوجود ان کے اقدامات کامیابی سے ہمکنار نہیں سمجھے جاتے اور یہ موٹا سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ "کیا سعودی ولیعہد کا رویہ علاقے کے استحکام کے لئے مفید ہوسکتا ہے؟"۔
آوینیری نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں فوجی مداخلت کرکے ہزاروں انسانوں کا قتل عام کیا ہے اور اس وقت سعودیوں کے اقدامات کے نتیجے میں یمن کو انسانی المیوں کا سامنا ہے، اور کئی ملین یمنی بھوک کا شکار ہوگئے ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا ہے: سعودی عرب نے قطر کا بھی مقاطعہ کرلیا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور یہ مقاطعہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ثابت ہؤا ہے۔
آوینیری لکھتے ہیں: آل سعود نے لبنان میں اپنے حلیف سنی وزیر اعظم کو نہایت بےرحمی کے ساتھ وزارت عظمی کے عہدے سے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں بھی اسے کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔
انھوں نے لکھا ہے: بن سلمان نے عورتوں کی ڈرائیوگ کو قانونی جواز دلوا کر یہ جتانے کی کوشش کی کہ سعودی عرب میں عوام کو آزادیاں دی جارہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں ایک آزاد معاشرے جنم نہیں لے گا؛ بن سلمان نہایت تند اور انتہاپسندانہ اقدامات کررہا ہے اور ملک کے اندر بےشمار ایسے ممتاز سماجی اور مذہبی لوگ ہیں جو ان کے آگے ڈٹ سکتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہیں بن سلمان کچلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ ان سیاسی، سماجی اور مذہبی لوگوں ميں بےشمار سعودی شہزادے اور بااثر افراد شامل ہیں۔
آوینیری نے لکھا ہے کہ سعودی ولیعہد کے تند و تیز اقدامات مشرقی علاقوں کے شیعہ باشندوں کی شدید مزاحمت کے اسباب بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
آوینیری نے اپنی یادداشت کے آخری اور انتہائی اہم حصے میں لکھا ہے:
- سعودی عرب ابن سعود اور ابن عبدالوہاب کے اتحاد کی بنا پر ایک اکائی میں تبدیل ہؤا تھا؛
- سعودی عرب بالکل مختلف اقوام و قبائل اور علاقوں کا آمیزہ ہے اور ہر علاقے، قوم اور قبیلے کا الگ الگ تشخص ہے؛
- سعودی عرب کی موجودہ حکومت ایک بار پھر مختلف حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے اور اس امکان کو کسی صورت میں بھی رد نہیں کیا جاسکتا؛
- عرب ریاستوں ـ بالخصوص سعودی عرب ـ میں عوام کے درمیان سیاسی یکجہتی کا فقدان ہے [اور انہیں ڈنڈے کے زور سے متحد رکھا جارہا ہے]؛
- چنانچہ سعودی حکومت سمیت اس قسم کی حکومتیں ہمیشہ اس قسم کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا کرتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram