امریکہ کا ایک بار پھر عالم اسلام پر جارحیت کا آغاز

امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملہ کر دیا

امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملہ کر دیا

امریکی حکام نے ایک بار پھر عالم اسلام پر جارحیت کا آغاز کرتے ہوئے فرانس اور برطانیہ سے مل کر شام پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات، ملک شام پر حملے کا حکم دے دیا جس کے بعد امریکی برطانوی اور فرانسیسی فضائیہ نے مل کر شام پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، شامی فضائیہ امریکی اتحاد کے حملوں کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔
بعض نیوز ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق شام کے شہر دمشق اور حمص پر 13 میزائل گرائے گئے ہیں جبکہ اسپوتنیک نیوز نے گرائے جانے والے میزائل کی تعداد 20 بتائی ہے۔ اسی اثنا شام سے ہمارے خصوصی ذرائع سے موصولہ رپورٹ کے مطابق امریکی اتحاد نے تاحال 30 میزائل گرا دئے ہیں۔
امریکہ نے حمص کے اہم شامی اڈوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے تاہم شاید وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
شامی ٹی وی چینل نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
شام کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والی اس کھلے عام جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور امریکہ اپنے مزدور دھشتگردوں کو ایسے حملوں کے ذریعہ نجات نہیں دلا سکتا۔

اپڈیٹ

تازہ رپورٹ کے مطابق، حمص پر امریکی حملے ناکام ثابت ہوئے ہیں شامی فوج نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکی میزائلوں کو مار گرایا ہے جبکہ ایک طیارے کے مار گرائے جانے کی بھی خبر ہے۔

دوسری جانب شام پر شروع ہونے والے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور روس سمیت کئی ممالک نے شام پر حملے کی مذمت کی ہے۔

روس کی جانب سے امریکی حملوں پر اپنے ردعمل کے اظہار میں کہا گیا ہے کہ امریکا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، شام پر امریکی اتحاد کا حملہ کھلی جارحیت ہے۔

ڈپٹی چیئر مین دفاعی کمیٹی ڈوما کہتے ہیں کہ ٹرمپ اور ہٹلر ایک ہیں، بلکہ ٹرمپ ہٹلر ثانی ہیں۔

لبنان کی عوامی اور انقلابی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے شام امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram